Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

’’ نہیں   معلوم کہ مسلمان ہوں   یا کافِر  ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال :    زَید سے پوچھا گیا  :  ’’ تُو مسلمان ہے یا کافِر ؟ ‘‘ جوابدیا  :  ’’  مجھے نہیں   معلوم کہ مسلمان ہوں   یا کافِر ؟ ‘‘

 جواب :  صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں   : جس شخص کو اپنے ایمان میں   شک ہو یعنی کہتا ہے کہ مجھے اپنے مومِن ہونے کا یقین نہیں   یاکہتاہے معلوم نہیں   میں   مومن ہوں   یا کافِر ۔  وہ کافر ہے ۔  ہاں   اگر اُس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں   میرا خاتِمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں   تو کافِر نہیں  ۔ جو شخص ایمان و کُفرکو ایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے خدا کو سب پسند ہے وہ کافِر ہے  ۔ یوہیں  جو شخص ایمان پر راضی نہیں   یا کُفر پر راضی ہے وہ بھی کافِر ہے ۔  (بہارِ شریعت حصّہ ۹ص ۱۷۹، عالمگیر ی ج۲ ص۲۵۷ ) نیزفُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں   : جس نے اپنے ایمان میں   شک کیا اور کہا :  ’’ میں   مومن ہوں   اِن شاء اللّٰہ  ‘‘ اگر اپنے ایمان میں  شک کی وجہ سے اس طرح کہا تو کفر ہے اور اگر اس وجہ سے کہا کہ معلوم نہیں   میرا خاتمہ ایمان پر ہو گا یا کفر پر تو کفر نہیں ۔ (عالمگیری ج۲ ص۲۵۷)

کیا دوبارہ جَنَم لینا ممکن ہے ؟

سُوال : کیا مرنے کے بعد رُوح کسی اور قالِب( یعنی جسم) میں   داخِل ہو کر دوبارہ دنیا میں   آ سکتی ہے ؟جو ایسا عقیدہ رکھے اُس کیلئے کیا حکم ہے ؟

 جواب :  انسان بلکہ ہر جاندار صِرف ایک ہی بار پیدا ہوتا ہے  ۔ مرنے والے کی روح کسی جسم میں  داخِل ہو کر دوبارہ جنم لیکر دنیا میں   نہیں   آتی ۔ ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ بہارِ شریعت ‘‘  جلد اوّل صَفْحَہ 103پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں   : یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں   چلی جاتی ہے خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کوتَناسُخاور آواگون کہتے  ہیں    ۔ محض باطِل اور اُسکا ماننا کُفر ہے ۔  (بہارِ شریعت )

آواگون کے بارے میں   حیرت انگیز معلومات

            دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘  صَفْحَہ 362پر سے اِس ضِمن میں   ایک معلوماتی اقتِباس ملا حَظہ ہو ۔ عرض :  حضور  ! بعض جگہ بچّہ پیدا ہوتا ہے اور وہ بیان کرتا ہے کہ میں   فُلاں   جگہ پیدا ہوا تھا اور تمام نشانیاں   ظاہِر کرتا ہے ۔ ارشاد :  اَلشَّیْطَانُ یَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِہٖ ۔ (یعنی) شیطان اُس کی زبان پر بولتا ہے ۔  اس(نومولود) کا شیطان (ہمزاد ) اُس (مرنے والے )بچّہ کے شیطان(ہمزاد) سے پوچھ رکھتا ہے (اور) وُہی بیان کرتا ہے تا کہ لوگ گمراہ ہوں   کہ اَوہَو !  یہ تو آواگون ہوگیا ۔  

             کیا دِل کا پردہ کافی ہے ؟

سُوال :   بعض بے پردہ عورَتیں  ظاہِری پردے کا انکار کرتے ہوئے کہتی ہیں   :  ’’  فَقَط دل کا پردہ ہونا چاہئے  ‘‘  اس کی کیا حقیقت ہے ؟

جواب :  یہ شیطان کابَہُت بڑا اور بُرا وار ہے اوراِس قولِ بد تراَز بَول میں   اُن قُراٰنی آیات کاا نکار ہے جن میں   ظاہِری جسم کو پردے میں  چُھپانے کا حُکم دیا گیا ہے ، مَثَلاً پارہ22 سورۃُ الْاَحزابآیت نمبر33 میں    فرمایا گیا ،  ترجَمۂ کنزالایمان : اور گھروں   میں   ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسی اگلی جاہِلیَّت کی بے پردَگی ۔ اِسی سورَۃ کی آیت نمبر59 میں  ہے ، ترجَمۂ کنزالایما ن :  اے نبی !  اپنی اَزْواج اور صاحِبزادیوں   اور مسلمانوں   کی عورَتوں   سے فرما دو کہ اپنی چادروں   کا ایک حصّہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں   اِلَخ ۔ سورۃُ النُّور کی آیت نمبر31 میں   ہے ، ترجَمۂ کنزالایمان :  اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں   اِلَخ ۔  جو جسم کے پردے کا مُطْلَقاً انکار کرے اور کہے کہ  ’’  صِرْف دل کا پردہ ہونا چاہیے  ‘‘  اُس کا ایمان جاتا رہا ۔  میرے  آقا اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : یہ خیال کہ باطِن (یعنی دل)صاف ہونا چاہئے ظاہِر کیسا ہی ہو مَحض باطِل ہے ۔ حدیث میں   فرمایا کہ ’’  اِس کا دل ٹھیک ہوتا تو ظاہِر آپ ( یعنی خود ہی) ٹھیک ہو جاتا ۔  ‘‘  ( فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ ص ۶۰۵)

 کسی کو ’’  اللہ میاں   کی گائے  ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال :   بَھولے بھالے یا بے وُقوف آدَمی کو  ’’  اللہ والا ‘‘  یا ’’  اللہ میاں   کی گائے  ‘‘  یا ’’  غوثِ پاک کا دُنبہ ‘‘  کہنا کیسا ؟

جواب  : اس کے کوئی کفریہ معنیٰ نہیں  ، لیکن اِس طرح کے جُملوں   سے بسا اوقات دل آزاری ہوتی ہے ۔  دل آزاری ہونے کی صورت میں   سخت گناہ گاری اور جہنَّم کی حقداری ہے لہٰذاتوبہ بھی کرنی ہو گی اور جس کا دل دُکھا اُس سے مُعاف بھی کروانا ہو گا ۔  نیز یہ بھی ذِہن میں   رہے کہ حضور سیِّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فتوے کے مطابق  اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ لفظ میاں   کااستِعمال ممنوع ہے ۔  (فتاوٰی رضویہ  ج۱۴ ص ۲۷۵)

  جھوٹی بات پر کہنا ،  ’’ اللہ جانتا ہے میں   سچّا ہوں   ‘‘

سُوال : جھوٹی بات پر یہ کہنا کیسا کہ اللّٰہ جانتا ہے میں   سچ بول رہا ہوں  ؟

جواب : کسی بھی جھوٹی بات پر  اللہ  عَزَّوَجَلَّکو گواہ بنانا یا جُھوٹی بات پر جان بوجھ کر یہ کہنا کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  جانتا ہے یہکلِمۂ کُفْر ہے ۔  فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السلام فرماتے ہیں  : جو شخص کہے :  ’’  

Total Pages: 147

Go To