Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

نو مسلم کی مالی مدد

سُوال : کیا نو مسلم کی مالی مدد کرنا ضَروری ہے ؟

جواب :  اگر وہ مستحق ہے مَثَلاً مسلمان ہونے کے سبب اُس کا گھر بار اور رُوزگار وغیرہ چھوٹ جائے تو ایسی صورت میں   ہر طرح کا تعاوُن کرنا چاہئے  ۔ مُہاجِرین و انصار کی مَدَنی مثال ہمارے سامنے موجود ہے ۔ تاہم غور و خَوض کرلے ، تفتیش بھی کرلے ، اُس کا شناختی کارڈ ، پاسپورٹ وغیرہ دیکھ لے اور سوچ سمجھ کر قدم اُٹھائے ، کیونکہ آج کل حالات بَہُت نازُک ہیں   ۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ صِرف پیسے بَٹورنے کی خاطِر مختلف مساجِد میں   یا جُدا جُدا شخصیاّت کے پاس جاکر اپنے آپ کو مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّ   کافِر ظاہر کرکے باربار مسلمان ہوتے ہیں  ۔ پھر اُن کے لئے چندہ ہوتا اور اِس طرح ان کا دھندا چلتا ہے ۔ شخصیّات سے لکھوابھی لیتے ہیں   کہ یہ صاحِب نو مسلم ہیں  ، اسلام لانے کے جُرم میں   خاندان والوں   نے بائیکاٹ کردیا ہے لہٰذا مالی تعاون کیا جائے وغیرہ ۔ ہاں  نو مسلم کو کورٹ سے سند دلوانے میں   حَرَج نہیں   کہ وہ ضَرورتاً قانونی طور پر کارآمدہوتی ہے ۔ باقی شخصیّات کی سَنَد صِرف چندہ کرنے کے کام آتی ہوگی کیوں   کہ کورٹ میں   اس کی کوئی  ’’ قانونی  ‘‘  حیثیَّت نہیں   ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ مجھے اپنی زندگی میں  مُتَعَدّد بار کفّار کو داخلِ اسلام کرنے کی سعادت ملی ہے مگر اِسی احتیاط کے پیشِ نظر آج تک کسی کو تحریر نہیں   دی ۔  ہاں   اگر کوئی نقلی تحریر بنا کر جعلی دستخط کر کے چندہ کرتا پِھرے تو میں   کیا کر سکتا ہوں   کہ آج کل تو لوگ جعلی نوٹیں   ( کرنسی) بھی چھاپ ڈالتے ہیں ۔  لہٰذا اگر کوئی میری تحریر دِکھائے تو سوچ سمجھ کر ہی قدم اُٹھایئے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 18 صَفْحَہ705پر فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں   : مکتوب کبھی جھوٹا اور جَعلی ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے مُشابہ( ملتا جلتا) ہوتا ہے اور مُہر ایک دوسرے کے مُشابہ (ملتی جلتی) ہوتی ہے ، مختصراً ۔    (مَجْمَعُ الْاَنھُر ج۳ ص۲۳۰، عالمگیری ج۳ص ۳۸۱)

ایک ہی کلِمۂ کُفر سے باربار توبہ

سُوال :  ایک بار کلِمۂ کُفْر صادِر ہو گیا اور توبہ کر لی اب دوبارہ اُسی کلِمۂ کُفر سے توبہ کر سکتے ہیں  یا نہیں  ؟

جواب : ایک کلِمۂ کُفْرسے بار بار توبہ کرنے میں   حَرَج نہیں   جبکہ اس بات پر یقین ہو کہ میں   پہلے توبہ کرکے مُسلمان ہوچکا ہوں   ۔

کیا مُسلمان اور کافِر برابر ہیں  ؟

سُوال :  ایک بوڑھا آدَمی لوگوں   میں   بیٹھ کر کہہ رہا تھا :   ’’ اِنسانیَّت کی خدمت کرنی چاہئے ، چاہے مسلمان ہو یا کافِر ، اللّٰہ کے یہاں   سب انسان برابر ہیں   ، بخشِش کا دارومدار عقیدے پر نہیں   عمل پر ہے ۔  ‘‘  حاضِرین اُس کی ہر بات پر اِثبات (یعنی تائید) میں   سر ہِلا رہے تھے ۔ حکم ِشَرْعی ارشاد ہو ۔

جواب :  بوڑھے کی یہ باتیں   کُفرِیّات سے بھر پور ہیں   ۔ وہ بوڑھا اور جو معنیٰ سمجھنے کے باوُجُود تائید میں   سر ہِلا رہے تھے وہ سب  کافِرو مُرتَد ہو گئے   اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے یہاں   سب انسان ہرگز برابر نہیں  ۔  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  پارہ  28 سُورۃُ الحَشْر کی آیت نمبر 20میں   ارشاد فرماتا ہے :

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان :  دوزخ والے اور جنّت والے برابر نہیں   ۔

            اورپارہ 2 سُورَۃُ البَقَرَہآیت نمبر221 میں   ارشادِ ربانی ہے :

وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان :  بے شک مسلمان غلام، مُشرِ ک سے اچّھا ہے اگرچِہ وہ تمہیں   بھاتا ہو ۔

سماجی کارکُن

            دراصل جن کو سماجی خدمت کی لگن کے ساتھ ساتھ نام و نُمود کی بھی دُھن ہوتی ہے وہ لوگ عُمُوماً اِنسانیَّت کی بُنیاد پر بلااِمتیازِ مذہب ہر ضَروت مند انسان کی خدمت کرتے ہیں   ، شیطان ایسوں   کو اپنا کِھلونابنا لیتا ہے اور لوگوں   کی مُصیبتیں   دِکھا دِکھا کر اُن کے دل میں   باغِیانہ وَسوسے ڈالتا ہے ، جس کی بِنا پر بعض اَوقات ان کی توجُّہ  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کی حکمتوں  کی طرف سے ہٹ جاتی ہے اور پھر وہ دُکھیاروں   کی ہمدردی کی رَو میں   بہ کر مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّ کُفرِیّات بکنے لگتے ہیں  ۔ ایک بار میری( سگِ مدینہ عفی عنہ کی)ملاقات اِسی طرح کے ایک انتہائی سر گرم سماجی لیڈر سے ہوئی ، دورانِ گفتگو جذبات میں   آکر اُس نے مَعاذَاللّٰہ کچھ اِس طرح سے کُفرِیّات بکنے شروع کر دیئے  :  ’’  غریب بھوکے مررہے ہیں  ، اللہ  کے یہاں   فَقَط صَبْر ہے ، اللّٰہ خود زمین پر آکرصَبْر کرے یا آسمان سے کسی کوبھیج کر اُسیصَبْر کروا کر دیکھے تو اس کو پتا  چلے کہصَبْر کس طرح ہوتا ہے ! !  !  ‘‘  یہ کُفریات سے بھرپور گفتگو سن کر میں   تو ہکّا بکّا رَہ گیا ۔  بعد میں   کسی طرح ترکیب بنی اور اَلحمدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے توبہ کروانے میں   کامیابی حاصل ہو گئی ۔

کلِمۂ کُفْر کی تائید بھی کُفْر ہے

            بعض اوقات سِیاسی قائِدین ، اَفسر ان اور ’’  ضَرورت سے زیادہ پڑھے لکھے  ‘‘  لوگ بھی مذکورہ انداز میں   کُفرِیّات بکتے اور لوگ ہاں   میں   ہاں   کر رہے ہوتے ہیں   بلکہ بعض تو اتنے بکواسی ہوتے ہیں   کہ کفرِیّات بکتے جاتے ہیں   اور حاضِرین سے داد وُصُول کرنے کے انداز میں   پوچھتے بھی جاتے ہیں  : کیوں   بھئی ! میں   غَلَط تو نہیں   کہہ رہا ؟حاضِرین کیلئے یہ موقع سخت آزمائش کا ہوتا ہے بعض لوگ ایسے موقع پر نہ چاہتے ہوئے بھی مُرُوّت میں   ہاں   میں   ہاں   ملا دیتے اور خود کو کفر کے گڑھے میں   گرا دیتے ہیں    ۔ کیوں   کہ جو کُفر ی بات سمجھنے کے



Total Pages: 147

Go To