Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

            ان دو جنّتوں  کے مُتَعَلِّق کئی اقوال ہیں  ، بخاری شریف میں   ہے :  سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار ، حبیبِ پروَردگار، شفیعِ روزِ شُمار، جنابِ احمدِ مختارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کا ارشادِ نور بار ہے : دو جنَّتیں   چاندی کی ہیں  ، جن کے برتن اور جو کچھ ان میں   ہے سب چاندی کے ہیں   اور دو جنَّتیں   سونے کی ہیں  ، جن کے برتن اور جو کچھ ان میں   ہے سب سونے کے ہیں  ۔ ان کے اور ان کے ر بِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کے دیدار کے درمیان جنّتِ عَدْن میں   صرف رِدائے کبریائی حائل ہے ۔  ( صَحِیحُ البُخارِیّ ج ۳ ص ۳۴۴ حدیث ۴۸۷۸)

 ’’ اِنْ شَاءَ اللّٰہ  ‘‘  کا مذاق اُڑانے کے بارے میں   سُوال جواب

 ’’ یہ اِنْ شَاءَاللہ ڈھیلی ہے  ‘‘  کہنا کیسا ؟

 سُوال : بیان کے دَوران مُقِرّر نے سامِعین سے کسی عمل کی نیّت کرنے کیلئے کہا تو سامِعین نے آہِستہ سے :  ’’  اِن شاءاللّٰہعَزَّوَجَلَّ  ‘‘ کہا ۔  اِس پرمُقرِّر بولا کہ یہ ان شاء اللّٰہ تو ’’ ڈِھیلی  ‘‘ ہے ۔  یہ سُن کر سامِعین نے اِن شاء اللّٰہ کی زور دار صدا لگائی ۔  اس پرکہاکہ یہ اِن شاء اللّٰہ  صحیح والی ہے یا کہایہ اِن شاء اللّٰہ  ’’ پتلی گلی والی ‘‘ ہے ۔  اس پر سامِعین نے قَہْقَہَہ  لگایا ۔ کیا اس انداز سے اِن شاء اللّٰہکی توہین نہیں   ہوتی ؟

جواب : مذکورہ کلِمہ بَظاہِر کُفْر ہی لگتا ہے کہ اس میں   لفْظِ اِن شاءاللّٰہ کے ساتھ تَمَسْخُرْ (یعنی مذاق)کرناپایا جارہا ہے جبھی توسامِعین نے قَہْقَہَہ لگایا ۔ اور اِن شاء اللّٰہکو ’’ ڈھیلی  ‘‘ یا ’’  پتلی گلی والی ‘‘  کہنے میں   بھی اس کی توہین ظاہِر ہو رہی ہے اگرچِہ اِس کی تَأْوِیل ممکِن ہے ، ہو سکتا ہے یہاں   لوگوں   کااِن شاء اللّٰہ فَقَط ڈھیلی آواز میں   کہنا مقرِّر کی مُراد ہو ۔  بَہَرحال وہ مقرِّر اِس جُملہ سے توبہ کے ساتھ ساتھ تَجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہو تو تجدیدِ نکاح بھی کرے اور اِس کو سن کرجن کا بے اِختیار  قَہْقَہَہ بُلند ہو گیا اُن کا کوئی قُصُور نہیں   جبکہ وہ اُس مقرِّر کی بات سے مُتَّفِق نہ ہوں   ۔ ہاں   جنہوں   نے مقرِّر کی بات کو سمجھ کر مُتَّفِق ہو کرقَہْقَہَہ لگایا وہ بھی توبہ و تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نِکاح کریں   ۔

مُبلِغِّ اعظم کے روح پَرور بیان کی ایک جھلک

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! سنّتوں  بھرا بیان کرنے میں   سخت احتیاطوں   کی ضَرورت ہے نیز بیان کرنے والے کو سنجیدہ انداز رکھنا چاہئے ۔ بعض مقرِّر ین بڑے بے باک ہوتے ہیں   اور اجتِماع کی کثرت دیکھ کر بسا اوقات ایکدم آپے سے باہَر ہو جاتے ہیں   اورنہ کہنے والی بات بول جاتے ہیں   ۔ کاش  ! ہمیں   سنجیدگی مل جاتی اور خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ   نصیب ہو جاتا ۔ یہ عام مشاہَدہ کی بات ہے کہ غیر سنجیدہ بیان میں   حاضِرین زَور زَور سے ہنستے اور رقّت آمیز سنجیدہ بیان میں   بلک بلک کر روتے ہیں   ۔ کائنات کے سب سے  عظیم مبلِّغصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے بیانِ عظمت نشان کی ایک جھلک مُلا حَظہ ہو : چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں   کہ رحمتِ عالَم نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے یہ آیتِ مبارَکہ تلاوت فرمائی :

وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ- ( پ ۲۸ التحریم ۶)

ترجَمۂ کنزالایمان : جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں   ۔

            اس کے بعد ارشاد فرمایا :  جہنَّم کی آگ کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں   تک کہ وہ سرخ ہو گئی ، پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں   تک کہ وہ سفید ہو گئی ، پھر اُسے ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سِیاہ ہوگئی تو اب جہنَّم کی آگ کالی سِیاہ ہے ، اس کے شُعلے نہیں   بجھتے ۔ یہ سُن کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سامنے ایک حَبشی چیخیں   مار کر رونے لگا تو حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نازِل ہوئے اور عرض کی :  ’’  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سامنے رونے والا شخص کون ہے ؟  ‘‘  فرمایا : حَبشہ کا ایک شخص ہے ۔  اور پھر اُس شخص کی تعریف بیان فرمائی تو حضرت جبرئیلعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی :  اللہ  عَزَّوَجَلَّ فر ماتا ہے کہ مجھے اپنی عزّت و جلال کی قَسم ! میرے خوف کے سبب جس بندے کی آنکھ روئے گی ، میں   جنَّت میں   اُس کی ہنسی میں   اِضافہ فرماؤں   گا ۔   

                                    ( شُعَبُ الاایمان ج ۱ ص ۴۸۹ حدیث ۷۹۹ )

نارِ جہنَّم سے تُو اماں   دے              خُلدِ بَریں   دے باغِ  جِناں   دے

وَاسطہ نعماں   بن ثابِت کا              یااللہ مِری جھولی بھر دے

 ’’ میں   بِغیر اِنْ شَآءَاللہ کام کروں   گا ‘‘  کہنا

 سُوال : کسی نے کہا : تم اِن شاء اللّٰہ یہ کام کروگے ۔  جواب دیا : میں   بِغیراِن شاء اللّٰہ کے یہ کام کروں   گا  ۔ ایسا جواب دینے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟

جواب :   ایساجواب دینے والے پر حکمِ کفر ہے ۔

   ’’ جَزاکَ اللّٰہ ‘‘   سُن کر کہنا کہ اس کی ضَرورت نہیں 

سُوال : ایک نے کہا :  جَزاکَ اللہ ( یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ    آپ کو جزا دے ) دوسرے نے معنیٰ سمجھنے کے باوُجُود جواب دیا :  نہیں   نہیں   اِس کی ضَرورت نہیں   یا کہا مجھیاللہ  عَزَّوَجَلَّ  سے جزائے خیر نہیں   چاہئے ۔ ایسا جواب دینے والے کے بارے میں   کیا حکم ہے ؟

 

 



Total Pages: 147

Go To