Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

ہے کہ (میں  ) ایسا اعتِقاد(یعنی عقیدہ ) نہیں   رکھتا ۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۹ ص ۱۷۳، دُرِّمُختَار ج  ص۳۴۳  )

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  اِس دَور میں   ایمان کی حفاظتکا ذہن کافی کم ہو گیا ہے ، زَبان کی لگام بَہُت ہی ڈھیلی ہے ، ا کثریت کاحال یہ ہے کہ بس جو مُنہ میں   آتا ہے بکے جا رہا ہے ، فلموں   ، ڈِراموں   ، ناوِلوں   ، ڈائجسٹوں   ، اسکولوں   کی لائبریری کی کتابوں  اور اخباروں   میں   بھی بسا اوقات طرح طرح کے کُفرِیات ہو تے ہیں  ۔ اِسی طرح مُزاحِیہ چُٹکُلوں   کی کیسٹیں   بھی بعض اوقات کفریہ فِقرات سے بھر پور ہوتی ہیں    ۔

 ’’ جنّتی کو دوزخ میں   سگریٹ جلانے کے لئے جانا پڑیگا ‘‘  کہنا

سُوال : مُزاحِیہ چُٹکلُوں   کی ایک کیسٹ میں   کسی کو میڈیَن (یعنی مَسخرے )نے جنَّت اور دوزخ کا مذاق اُڑاتے ہوئے بکا ہے :  ’’  اگر تم لوگ جنّت میں   چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس ( یعنی دوزخ میں  ) آنا پڑے گا  !  ‘‘ بکنے والے کا یہ قول کیسا ہے ؟

جواب :  کو میڈین کا یہ قول کفر ہے ۔

بد مذہبوں   کی کتابیں   پڑھنے کا مسئلہ

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جس کو ایمان کی حفاظت عزیزہو اُسے چاہئے کہ وہ مُزاحِیہ چُٹکُلوں   کی کیسٹوں  ، فلموں   ، ڈِراموں   ، گانوں   باجوں  رومانی اورجاسوسی ناوِلوں  ، ڈائجسٹوں  ، عِشقیہ وفِسقیہ افسانوں   اور اخباروں   کی غیر شَرعی تحریروں  وغیرہا کے قریب بھی نہ پھٹکے ۔ یاد رکھئے  ! اسلامی نظرِیّات اور شَرعی احکامات سے ٹکرانے والی تقریرات سننا اور تحریرات پڑھنا حرام او رجہنَّم میں   لے جانے والا کام ہے ۔  ایک غیر شرعی کتاب کیمُتَعَلِّق جب میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰنکی خدمت میں   استِفتاء پیش ہوا تو جواباًفرمایا : وہ کتاب مذہبِ اہلسنّت کے خلاف ہے بلکہ اس میں   خود اسلام کی بھی مخالَفَت ہے ! اس کا دیکھنا، پڑھنا سُننا حرام ہے ۔ ہاں   جو عالم اس کا مُطالَعَہ(مُطَا ۔ لَ ۔ عَہ) کرے اس کی تردید کے لئے یا اس میں   جو کفر بیان ہوا اس کے انکشاف کے لئے تو اس کے لئے پڑھنا دیکھنا حرام نہیں  ۔ واللہ تعالٰی اعلم (فتاوٰی رضویہ ج ۱۴ص ۳۵۸)ہر اسلامی بھائی کو چاہئے کہ وہ اچھّی صُحبت اختیار کرے ، صِرف اورصِرف عُلَمائے اہلسنّت کے مضامین اورانہیں   کی کتابوں   کا مُطالَعَہ کرے اور ایمان کی حفاظت کا جذبہ بڑھانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں   کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں   میں   سفر کو اپنا معمول بنائے ۔

کَلِمہ شریف کا مذاق اڑانا کُفْر ہے

سُوال :  کسی شخص نے مذاق میں   اِس طرح کلمہ پڑھا  :  ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہُ محمد بھائی بالٹی لا ‘‘ اُس کے بارے میں   کیا حکم ہے ؟

جواب : کلمہ شریف کامذاق اُڑاناکفر ہے ۔  شخصِ مذکور نے اگر کلمۂ طیِّبہ کا مذاق اُڑانے ہی کی غَرَض سے مذکورہ جُملہ بولا ہے تو بے شک کافِر و مُرتَد ہے ، اُس کا نکاح بھی ٹوٹا اور سابِقہ تمام نیک اعمال بھی غارت ہوئے ۔

سبحان حلوا کہنا کیسا ؟

سُوال :  سبحٰن اللہ کے بجائے مذاقاً ’’  سبحان حلوا ‘‘  کہنا کیسا ؟

جواب :  اگر سبحٰنَ اللّٰہ کا مذاق اُڑانا مقصود ہے تو  صریحکفر ہے ۔ فُقَہائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام فرماتے ہیں  : ذکرِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے تَمسخُر کرنا( یعنی مذاق اُڑانا) کُفر ہے ۔  (مجمع الانھر ج۲ص۵۰۷)البتّہ یا د رہے کہ مختلف قَرائن کی وجہ سے حکم مختلف ہو سکتا ہے ۔

 ’’ آج نَماز کی چُھٹّی ہے  ‘‘ کہنا کیسا ؟

 سُوال :  عام تعطیل کے روز ایک نے کہا : آؤ ظہر کی نماز پڑھیں   ، دوسرے نے  مذاق میں  جواب دیا : یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔ یہ جواب کیسا ہے ؟جبکہ جواب دینے والا عاقلِ و بالِغ بھی ہو ۔

جواب :  یہ جملہ صریح کفر  ہے ۔  

صُبح مُومِن  تو شام کو کافِر

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! نہایت ہی نازُک دَور ہے ، مَعاذَاللّٰہ بعض  مُنہ پھٹ لوگ بات بات پر کُفریات بک دیتے ہیں   ۔ ہم اللہ  عَزَّوَجَلَّکی پناہ طلب کرتے ہیں   ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حُضورِ اکرم، نورِ مجسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رحمتِ عالم، شَہَنْشاہِ عَرَب و عَجَم، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ارشادِمُعظَّم ہے :   ’’  ان فِتنوں   سے پہلے نیک اعمال کے سلسلے میں   جلدی کرو ! جو تاریک رات کے حِصّوں   کی طرح ہوں   گے ،  ایک آدَمی صُبح کو مومِن ہو گا اور شام کو کافِر ہوگااور شام کو مومِن ہوگااور صُبح کو کافِر ہوگا ۔ نیز اپنے دین کو دُنیاوی سازو سامان کے بدلے فروخت کر دے گا ۔  ‘‘ (مُسلِم حدیث۱۱۸ص۷۳)

  آندھی کے وَقت سرکار بے قرار ہو جاتے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کس قَدَر غفلت کا دَور آگیا ہے  ! بجلی کا کَڑکْنا اور بادَل کا گرَجْنا جو کہ خوف کے مقامات ہیں  ، ان میں   بھی بعضوں   کو مذاق سوجھتا ہے  ! اکثر لوگ خوب اُچھل کود کرتے اور طرح طرح کی آوازیں   نکالتے ہیں   حالانکہ جب آندھی چلتی، مَطْلَع اَبْر آلود ہو تا تو ہمارے مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے خوف



Total Pages: 147

Go To