Book Name:Kufriya Kalmaat kay Baray Main Sawal Jawab

معصیَّت(یعنی جس کام یا طریقِ کار سے معصیَّت لازم آئے وہ خود معصیَّت ہے )  اور جانا محض بغرضِ تجارت ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیّت (سے )، کہ اس نیّت سے مُطلَقًا ممنوع اگر چِہ(وہ تقریب) غیر مذہبی ہو ۔  اس لئے کہ ان کی عِیدیں   او ر مجلسیں   بد ترین قَباحتوں   (سخت بُری باتوں  ) اور رُسواکُن مُنکَرات(اور رسوا کرنے والی شرعی ممنوعات ) پر مشتمل ہوتی ہیں   اور حرام سے خوش ہونا (بھی) حرام ہے جیسا کہ دُرِّ مختار وغیرہ میں   تصریح فرمائی گئی ہے ۔  اللہ تعالیٰ پاک بر تر اور خوب جاننے والا ہے ۔              ( تفصیلی معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد۲۳صَفْحَہ۲۳ ۵تا ۵۲۶ کا مطالعہ فرما لیجئے )

ارادۂ کفر کے بارے میں   سُوال جواب

 سُوال : کسی شخْص نے یہ جُملہ کہا :   ’’  اگر میرا فُلاں   کام نہ ہوا تو میں   کافِر ہوجاؤں   گا ۔  ‘‘   تو کیا حُکْم ہوگا ؟

جواب :  وہ شخْص یہ کہتے ہی کافِر ہوگیا کہ یہ ارادہ ٔکُفْر ہے اور ارادۂ کُفر بھی  کُفْر  ہے ۔  فتاوٰی عالمگیری جلد2 صَفْحَہ279 پر ہے :  بیوی نے شوہر سے کہا، اگرتُو نے آئندہ مجھ پر زیادَتی کی یا میرے لیے یہ چیز نہ خریدی تو میں   کافِرہ ہو جاؤں   گی تو وہ  ابھی سے ہی کافِرہ ہو گئی ۔

  ’’ اللّٰہ و رسول ایک ہیں    ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال :  زَید نے کہا :  میں   کہتا ہوں   :  ’’  اللہ و رسول ایک ہیں  ، اس کہنے سے  چاہے میں   کافِر ہی کیوں   نہ ہو جاؤں   ۔  ‘‘ زید کیلئے کیا حکم ہے ؟

جواب : اِسی طرح کے ایک سُوال کا جواب دیتے ہوئے فَقیہِ ملّت حضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی جلالُ الدّین احمد امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں  : اگر زید نے یہ کہا کہ اللہ و رسول ایک ہیں   اورمُراد یہ تھی کہ بَاِعتِبارِ ذات ایک ہیں   تو یہ کُفر ہے اور اگر مُراد یہ تھی کہ بَاِعتِبارِ اطاعت ایک ہیں   کہ رسول کی اِطاعت اللہ کی اِطاعت ہے اور اللہ کی اِطاعت رسول کی اطاعت ہے تو کفر نہیں  ۔ مگر ایسے کلمات سے جو مُوہمِ شِرک یا کُفر( یعنی ایسی باتیں   جس سے ذہن کفریہ  یا شرکیہ معنیٰ کی طرف سبقت کرتا ہو)اِحتِراز(یعنی بچنا) واجِب ہے اور یہ کہنا کہ ’’  چاہے میں   اِس کہنے سے کافِر ہی کیوں   نہ ہو جاؤں   ‘‘  چُونکہ اِس میں  کُفر کے ساتھ اپنی رِضا (مندی)  ظاہِر کر رہا ہے ۔ لہٰذا یہ بھی کُفر ہے ۔ فتاوٰی عالمگیری جلد2 صفحہ235 میں   ہے :  مَنْ یَّرْضٰی بِکُفْرِ نَفْسِہٖ فَقَدْ کَفَرَ یعنی ’’  جو شخص اپنے کُفر پر راضی ہو تو وہ کافِر ہو گیا ۔  ‘‘  لہٰذا زَید توبہ کے ساتھ تجدیدِ ایمان وتجدیدِ نکاح بھی کرے ۔ وَھُوَ تعالٰی اعلمُ بِالصَّواب ۔  (فتاوٰی فیضُ الرَّسُول ج۱ ص ۴)

ویزا فارم پر خود کو کرسچین لکھنا کیسا ؟

سُوال :  مسلمان ایجنٹ نے کسی مسلمان کو ویزا فارم پر اپنے آپ کوکرسچین لکھنے کا مشورہ دیا تو کیا حکم ہے ؟

جواب :  مشورہ دینے والے ایجنٹ کا ایسا مشورہ دینا کفر  ہے ۔  جس کو مشورہ دیا گیا اُسے لازِم ہے کہ وہ اس مشور ے کو مُسْتَرَد کر دے (یعنی نہ مانے ) فتاوٰی عالمگیری  میں   ہے :  ’’ دوسرے کو کافر ہونے کا حکم یا مشورہ دینے والے پر حکمِ کفر ہے ، خوا ہ جس کو حکم یا مشورہ دیا گیا وہ کفر کرے یا نہ کرے ۔  ‘‘  (فتاوٰی عالمگیری ج ۲ ص ۲۷۶ )

نوکَری کی خاطِر جھوٹ موٹ خود کو یہودی لکھنا کیسا ؟

سُوال :  کُفّار کے مَمَالِک میں   نوکَری حاصل کرنے کیلئے ویزا فارم پر اپنے آپ کو جھوٹ مُوٹ یہودی لکھ دینا کیسا ہے ؟

جواب : کفر ہے ۔ بعض لوگ جو اِزالۂ قرض و تنگدستی یا دولت کی زیادتی کیلئے کُفّار کے یہاں   نوکری کی خاطِریا ویزا فارم پر یا کسی طرح کی رقم وغیرہ کی بچت کیلئے درخواست پر خودکو عیسائی(کرسچین)، یہودی، قادِیانی یا کسی بھی کافِر و مُرتد گُروہ کا ’’ فر د ‘‘  لکھتے یا لکھواتے  ہیں   ان پر حکمِ کفر ہے ۔  

 ’’ میں   قادِیانی ہو جاؤں   گا ‘‘  کہنا کیسا ؟

سُوال :  کسی سے مالی مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہنا یا لکھنا کہ اگر آپ نے میرا کام نہ کیا تو میں  قادِیانی یا کرسچین ہو جاؤں   گا ۔  یہ کیسا ؟

جواب :  کہنے والاکہتے ہی کافر ہوگیا ۔   میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   :  ’’ عَزمِ کُفر (یعنی کافر ہونے کا ارادہ کرنا ) فی الحال( یعنی ابھی سے ہی) کُفر ہے ۔  ‘‘  ( فتاوٰی رضویہ ج۱۵ص۲۹۳)

ایک مغرور کا عبرتناک انجام

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  ہم سب کو ایمان کی حفاظت کی ضَرور ضَرور ضَرور فکر کرنی چاہئے ۔  فُضُول بک بک کی عادت ، گناھوں   کی بُری  خَصلت، بے باکی وغفلت اورغُرورو نَخْوَت و غیرہ بڑے خطرناک باطِنی امراض ہیں   ۔ ان وُجوہات کی بِنا پر یا دوسروں   کو بِلااجازتِ شَرْعی جھاڑنے ، لِتاڑنے کی بُری لت وغیرہ کے سبب ایمان برباد ہو گیاتو کیا ہو گا ! حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الوالی نَقْل کرتے ہیں   : بنی اسرائیل کا ایک مغرورآدَمی اپنے بند کمرے میں   کسی کے ساتھ تنہائی میں   تھاکہ اتنے میں   ایک شخص اُس کی طرف ایک دم لپکا ۔  اُس مغرور نے کہا :  اندر داخِلے کی تمہیں   کس نے اجازت دی اور تم ہو کون ؟ نَو وارِد نے کہا : مجھے اِس گھر کے مالک نے اجازت دی اور میں   وہ ہوں   جسے کوئی دربان نہیں   روک سکتا ، مجھے بادشاہوں   سے بھی اجازت لینے کی ضَرورت نہیں   ہوتی ، نہ مجھے کسی کا دبدبہ ڈرا سکتا ہے ، نہ ہی مجھ سے کوئی مغر ور وسرکش بچ سکتا ہے ۔  یہ سُن کر وہ مغرورآدمی خوف سے تھرّاتا ہوا منہ کے بل گر پڑا، پھر انتہائی ذلّت کے ساتھ منہ اُٹھا کر بولا : آپ مَلَکُ الْمَوتعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  معلوم ہوتے ہیں   ! فرمایا :  ہاں   میں   مَلَکُ الْمَوت ہوں  ۔ اُس نے عرض کی :  کیا مجھے مُہْلَت مل سکتی ہے تا کہ توبہ کر کے نیکیوں   کا عَہْد کروں  ؟ فرمایا :

Total Pages: 147

Go To