Book Name:Meethay Bol

    حضرت ِ سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، رسولِ انور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیَّت کر ے گااللہ عَزَّ وَجَلَّ   اُسے تقوٰی کا لباس پہنائے

 

گا اور رُوحو ں کے درمِیان اس کی رُوح پر رَحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیَّت کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّ     اُسے جنّت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت (ساری )دنیا بھی نہیں ہوسکتی ۔ ‘‘ (  اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطَّبَرَانِیّ ج۶ ص ۴۲۹حدیث ۹۲۹۲دارالفکربیروت)

زَبان مفید بھی ہے مضر بھی

          اَلحمدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  زَبان کا صحیح استعمال کرنے کے بے شمار فوائد ہیں اور اگر یہی زَبان اللّٰہُرحمٰنعَزَّ وَجَلَّ  کی نافرمان بن کرچلی تو بَہُت بڑی آفت کا سامان ہے ۔  مشہورصَحابی حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے :  فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : انسان کی اکثر خطائیں اس کی زَبان میں ہوتی ہیں ۔ (شُعَبُ الْاِیْمان ج۴ ص۲۴۰حدیث ۴۹۳۳ )

روزانہ صُبح اَعضاء زَبان کی خوشامد کرتے ہیں

           حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے :  جب انسان صُبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اَعضاء زَبان کی خوشامد کرتے ہیں ، کہتے ہیں : ’’ہمارے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ    سے ڈر! کیونکہ ہم تجھ سے وابَستہ ہیں اگرتو سیدھی رہے گی تو ہم سیدھے رہیں گے اگر تو ٹیڑ ھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوں گے ۔ ‘‘(سُنَنُ التِّرْمِذِی ج۴ ص۱۸۳حدیث ۲۴۱۵ دارالفکر بیروت)

       مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّاناِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں  : نَفع نقصان راحت و آرام تکالیف وآلام میں (اے زَبان!)ہم تیرے ساتھ وابَستہ ہیں اگر تُو خراب ہو گی ہماری شامت آ جاوے گی تو دُرُست ہو گی ہماری عزّت ہو گی ۔  خیال رہے کہ زَبان دل کی تَرجُمان ہے اس کی اچّھائی بُرائی دل کی اچّھائی بُرائی کا پتا دیتی ہے ۔ (مِراٰۃ ج ۶ ص ۴۶۵)

زَبان کی بے اِحتِیاطی کی آفتیں

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقِعی زَبان اگرٹیڑھی چلتی ہے تو بعض اوقات فَسادات بر پا ہوجاتے ہیں ، اِسی زَبان سے اگر مرد اپنی مَدخُولہ بیوی کو طَلَاق طَلَاق طَلَاق کہہ دے توطلاقِ مُغَلَّظہ واقِع ہوجاتی ہے ، اِسی زَبان سے اگر کسی کوبُرا بھلا کہا اوراُس کوطَیش(یعنی غصّہ) آگیا تو بعض اوقات قتل وغارَ تگری تک نوبت پَہنچ جاتی ہے ۔  اِسی زَبان سے کسی مسلمان کوبِلااجازت شَرعی ڈانٹ دیا اور اُس کی دل آزاری کر دی تویقینا اس میں گنہگاری اور جہنَّم کی حقداری ہے ۔  ’’ طبرانی شریف ‘‘ کی روایت میں ہے ، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ جس نے ( بِلاوجہِ شرعی) کسی مسلمان کو اِیذادی اُس نے مجھے اِیذادی اور جس نے مجھے اِیذادی اُس نیاللہ عَزَّ وَجَلَّ     کو ایذا دی ۔  ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۲ ص۳۸۶حدیث ۳۶۰۷ )

دائمی رضا و ناراضی

          حضرتِ سیِّدُنا بلال بِن حارث رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں ، سلطانِ دو جہان، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



Total Pages: 17

Go To