Book Name:Meethay Bol

     بعض لوگ اِس طرح کہہ دیتے ہیں  : ’’بِسم اللّٰہ کیجئے ! ‘‘ ’’ آؤ جی بِسم اللّٰہ!‘‘’’میں نے بِسم اللّٰہ کرڈالی‘‘، تاجِرحضرات جودن میں پہلا سودا بیچتے ہیں اُس کو عُمُوماً ’’بَونی‘‘کہا جاتاہے مگربعض لوگ اس کوبھی’’بِسم اللّٰہ‘‘ کہتے  ہیں ، مَثَلاً ’’ میری توآج ابھی تکبِسم اللّٰہہی نہیں ہوئی!‘‘جن جملوں کی مثالیں پیش کی گئیں یہ سب غَلَط اندازہیں  ۔ اسی طرح کھاناکھاتے وقت اگر کوئی آجاتاہے تواکثر کھانے والااُس سے کہتاہے : آئیے !آپ بھی کھا لیجئے ، عام طورپرجواب ملتا ہے : ’’بِسم اللّٰہ‘‘یا اس طرح کہتے ہیں  : ’’بِسم اللّٰہ کیجئے ! ‘‘ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِشریعت حصّہ 16 صَفْحَہ22 پر ہے کہ ، ’’اِس موقع پراِس طرحبِسم اللّٰہ کہنے کوعُلَماء نے بَہُت سخت ممنوع قرار دیا ہے ۔ ‘ ‘ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں  : بِسم اللّٰہ پڑھ کر کھالیجئے ۔ بلکہ ایسے موقع پردُعائیہ الفاظ کہنا بہتر ہے ، مَثَلًاباَرَکَ اللہ لَنَا وَلَکُمْیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں اور تمہیں بَرَکت دے ۔  یا اپنی مادری زَبان میں کہہ دیجئے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ  بَرَکت دے  ۔

بِسْمِ اللہ  کہنا کب کفر ہے

 حرام وناجائزکام سے قبلبِسم اللّٰہشریف ہرگز، ہرگز، ہرگزنہ پڑھی جائے ، حرام قطعی کام سے پہلے بِسْمِ اللہ  پڑھنا کفر ہے چُنانچِہ’’فتاویٰ عالمگیری ‘‘ میں ہے : ’’

 

شراب پیتے وَقْت، زِناکرتے وَقْت یا جُواکھیلتے وَقْت بِسْمِ اللہ کہناکُفْر ہے ۔ (فتاوٰی عالَمگیری ج ۲ ص ۳ ۲۷)  

کب ذکرُ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کرنا گناہ ہے !

          یاد رکھئے ! زَبان سے ذکر و دُرُود باعثِ اجر و ثواب بھی ہے اور بعض صورَتوں میں ممنوع بھی مَثَلاً ’’ مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ533 پرہے :  گاہک کو سودا دکھاتے وَقت تاجِر کا اِس غَرَ ض سے دُرُود شریف  پڑھنا یا سبحٰن اللّٰہ کہنا کہ اس چیز کی عُمدَگی خریدار پر ظاہرکرے ناجائز ہے ۔  یونہی کسی بڑے کو دیکھ کر اس نیّت سے دُرُود شریف پڑھنا کہ لوگو ں کو اس کے آنے کی خبر ہوجائے تا کہ اس کی تعظیم کو اٹھیں او رجگہ چھوڑ دیں ناجائز ہے ۔  (رَدُّالْمُحتار ج۲ ص۲۸۱ دارالمعرفۃ بیروت)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِسی جُزیئے کے پیشِ نظر میں اکثر اسلامی بھائیوں کو سمجھاتا رہتا ہوں کہ میری آمد پر ’’ اللہ   اللہ ‘‘ کی صدائیں بلند نہ کیا کریں کیونکہ بظاہر یہاں ذکر اللہ نہیں استِقبال مقصود ہوتا ہے  ۔

کھچڑے کو حلیم کہنا

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کاایک صِفاتی نام حَلِیم عَزَّ وَجَلَّ    بھی ہے لہٰذا کھانے کی چیز کوحَلیم کہنا اگر چِہ جائز ہے مگرمجھے ( سگِ مدینہ عفی عنہ کو)اچّھا نہیں لگتا ۔  اِس غذا کو اُردو میں کِھچڑا بھی کہتے ہیں لہٰذا  حتَّی الوسع میں یہی لفظ استعمال کرتا ہوں ، تذکرۃُ الاولیا  میں ہے :  حضرتِ سیِّدُنا بایزید بِسطامی  قُدِّسَ سرُّہُ السّامینے ایک بار سُرخ رنگ کا سیب ہاتھ میں لے کر فرمایا :  ’’ یہ بَہُت لطیف ہے ۔ ‘‘ غیب سے آواز آئی : ’’ ہمارا نام سیب کیلئے استِعمال کرتے ہوئے حیا نہیں آئی!‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چالیس دن کیلئے اپنی یاد آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے قلب سے نکالدی ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی قسم کھائی کہ



Total Pages: 17

Go To