Book Name:Meethay Bol

میرے کُتّے کی دم ؟‘‘ بات اگرچِہ غصّہ دلانے والی تھی مگرچونکہ وہ ایک سمجھدار مبلِّغ تھے لہٰذا نہایت نرمی کے ساتھ فرمانے لگے : ’’ میں بھی اپنے خالقِ ومالِکاللہ عَزَّ وَجَلَّ کاکتّا ہوں اگر جاں نثاری اور وفاداری سے اسے خوش کرنے میں کامیاب ہوجاؤں تو میں اچّھا ورنہ آپ کے کُتّے کی دُم مجھ سے اچھی ہے جبکہ وہ آپ کا فرمانبردار و وفادار رہے ۔ ‘‘ چُونکہ وہ ایک باعمل مُبلِّغ تھے غیبت وچُغلی، عیب جوئی اور بد کلامی نیز فُضول گوئی وغیرہ سے دُور رہتے ہوئے اپنی زَبان ذکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ہمیشہ تَر رکھتے تھے لہٰذا ان کی زَبان سے نکلے ہوئے  میٹھے بول تا ثیر کا تیر بن کر تگودار خان کے دل میں پَیوَست ہو گئے کہ جب اس نے اپنے ’’زہریلے کانٹے ‘‘ کے جواب میں اس باعمل مبلِّغ کی طرف سے ’’خوشبودار مَدَنی پھول‘‘ پایا توپانی پانی ہوگیااور نرمی سے بولا :  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ میرے مہمان ہیں میرے ہی یہاں قِیام فرمایئے  ۔ چُنانچِہ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے پاس مُقیم ہوگئے ۔  تگودار خان روزانہ رات آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضِر ہوتا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنہایت ہی شفقت کے ساتھ اسے نیکی کی دعوت پیش کرتے ۔ آپ کی سَعیِ پیہم نے تگودار خان کے دل میں مَدَنی انقِلاب بر پا کردیا! وُہی تگودار خان جو کل تک اسلام کو صَفْحَۂ ہستی سے مٹانے کے درپے تھا آج اسلام کا شیدائی بن چکا تھا ۔  اسی  باعمل مبلِّغکے ہاتھوں تگودار خان اپنی پوری تاتاری قوم سمیت مسلمان ہوگیا ۔  اس کا اسلامی نام

 

’’احمد‘‘ رکھا گیا ۔  تاریخ گواہ ہے کہ ایک مبلِّغ کے میٹھے بول کی بَرَ کت سے وسط ایشیا کی خونخوار تاتاری سلطنت اسلامی حکومت سے بدل گئی ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

میٹھی زَبان

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ؟ مبلّغ ہو تو ایسا! اگر تگودار کے تیکھے جملے پروہ بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ غصّے میں آجاتے تو ہر گز یہ مَدَنی نتائج برآمدنہ ہوتے ۔  لہٰذا کوئی کتنا ہی غصّہ دلائے ہمیں اپنی زَبان کو قابو میں ہی رکھنا چاہئے کہ جب یہ بے قابو ہوجاتی ہے تو بعض اوقات بنے بنائے کھیل بھی بگاڑ کررکھ دیتی ہے ۔  میٹھی زَبان ہی توتھی کہ جس کی شیرینی اور چاشنی نے تگودار خان جیسے وحشی اور خونخوار انسا نِ بدتر از حیوان کو انسانیت کے بلند و بالا منصب پر فائز کردیا ۔     ؎

ہے فلاح وکامرانی نرمی وآسانی میں

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں

گو شت کی چھوٹی سی بوٹی

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زَبان اگرچِہ بظاہر گو شت کی ایک چھوٹی سی بَوٹی ہے مگر یہ خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّ  کی عظیم الشان نعمت ہے ۔ اِس نعمت کی قد ر تو شاید گونگا ہی جان سکتا ہے ۔  زَبان کا دُرُست استِعمال جنَّت میں داخِل اور غَلَط استِعمال جہنَّم سے واصِل کر سکتاہے ۔  اگر کوئی بدتر ین کا فربھی دل کی تصدیق کے ساتھ زَبان سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ



Total Pages: 17

Go To