Book Name:Meethay Bol

الفاظ بھی چُونکہ ضَرورت کی وجہ سے بولے گئے لہٰذا فُضُول گوئی نہیں کہلائیں گے ۔

 بَہرحال جتنے الفاظ میں مقصود حاصِل ہو جاتا ہے اُس سے اگر ایک لَفظ بھی زائِد بولا گیا تو وہ فُضُول ہے ۔  ہاں وہ کلام جو کہ جائز حق ہے مگر بے فائدہ ہے اُس کا’’ ایک لفظ‘‘ بولنا بھی فُضُول ہی ٹھہرے گا اوراگر وہ بات ناجائز ہے تو اس کا’’ایک لفظ ‘‘ بولنا بھی ناجائز و گناہقرار پائیگا ۔

جو اللّٰہ و آخرت پر ایمان  رکھتا ہو

          یہ تفصیل سُن کر ہو سکتا ہے کہ ذہن میں آئے کہ فُضُول بات سے بچنا بے حد دُشوار ہے ۔  ہمّت مت ہاریئے ، کوشِش جاری رکھئے زبان کا قفلِ مدینہ لگانے (یعنی خاموشی) لگانے کی عادت بنانے کیلئے ممکنہ صورت میں کچھ نہ کچھ اشارے سے یا لکھ کر بات کرنے کی ترکیب بنایئے کہ نیّت صاف منزل آسان ۔  مَقولہ ہے : اَلسَّعْیُ مِنّیْ وَالاِْتْمَامُ مِنَ اللّٰہ یعنی کوشش کرنا میرا کام اور پورا کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے ۔ خاموشی کی عادت بنانے کیلئے بخاری شریف کی حدیثِ پاک کو حِفظ کر لیجئے اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کافی سَہولت رہے گی ۔ وہ حدیثِ مبارکہ یہ ہے  : مدینے کے سلطان ، سرکارِ دو جہان، رحمتِ عالمیان  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ     اور آخِرت پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے ۔ ‘‘(صَحِیحُ البُخارِیّ  ج۴ ص۱۰۵حدیث ۶۰۱۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

نِرالے فُضول گو

           بعض لوگ خود تو فُضُول گوہوتے ہی ہیں دُوسرو ں کو بھی دومرتبہ بولنے پر مجبور کرتے ہیں ! غورفرمالیجئے کہ نادانِستہ طو رپر یہ غَلَطی کہیں آپ سے بھی تو سر زد  نہیں ہو جاتی !دو مرتبہ بولنے پر مجبور کرنے کی صورت یہ ہے : مَثَلاً زَید کچھ بات کہتا ہے تو بکر سمجھ لینے کے باوُجُودچَونکنے کے انداز میں سُوالیہ انداز میں سر اُوپر اٹھا کر اشارہ کرتا ہے اور اکثر منہ سے سُوالیہ انداز ہی میں نکلتا ہے ’’ہوں ‘‘؟ جی؟ (ہیں ؟ کیا؟) اِس طرح ’’جی؟‘‘ یا ’’ہیں ؟‘‘اس کے جواب میں زَید کو اپنی بات خواہ مخواہ دُہرانی پڑتی ہے ۔ سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ   کو چُونکہ بعض لوگوں کی اِس عادت کا تجرِبہ ہے اس لئے مُخاطَب کے ’’ ہیں ہوں ‘‘کہنے پر اپنی بات دُہرانے کے بجائے اکثر خاموشی اختیار کرلیتا ہے اور عُمُوماً نتیجۃً یہی بات سامنے آتی ہے کہ مُخاطَب (یعنی جس سے بات کی ہے وہ) سمجھ چُکا تھا! فُضُول عادتیں نکالنے کیلئے خوب جِدّو جُہد کرنی پڑیگی ، صِرف ایک آدھ بیان سُن کر یا( تحریر پڑھتے ہی) اس طرح کی عادت نکل جائے اِس کی اُمّید نہ ہونے کے برابر ہے ۔  آپ خوب غور وفِکر کیجئے اور اپنے آپ کو ذِہنی طور پر تیّار فرمایئے کہ کسی کی بات سُن کر ایک دم سے ’’ہیں ؟‘‘ کیا؟‘‘ وغیرہ نہیں کہا کروں گا پھر بھی بُھول ہو جائے تو اپنا اِحتِساب کیجئے ۔  

گفتگو کا جائز ہ

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی بات چیت کی احتیاطیں مُلاحَظہ فرمایئے : چُنانچِہ’’مِنھاجُالعابدین‘‘ میں ہے : ایک بار حضرتِ سیِّدُنا فُضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اورسُفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی   کی ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے آپس میں گفتگو کی اور پھر دونوں روئے پھر سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  اے ابو علی(یہ حضرتِ سیِّدُنا فُضیل



Total Pages: 17

Go To