Book Name:Meethay Bol

لٹکادیتے ہیں {13} فُلاں کی گائے قَصّاب کے ہاتھ سے چُھوٹ کربھاگ کھڑی ہوئی، بڑا مزا آیا! {14} ہاں یار! قَصّاب اَناڑی تھا!(اِس جملے میں غیبت ، تہمت، دل آزاری، بدگمانی اور بداَلقابی وغیرہ گناہوں کی بدبو ہے البتّہ اگر واقِعی وہ قصاب اَناڑی ہو اور جس کو کہا اس کو اس سے بچانا مقصود ہو تو اِس جملے میں حَرَج نہیں ) {15}آپ کا بکر اکتنے دانت کا ہے ؟ {16} کتنے میں ملا؟{17}اوہو! بڑا مہنگا ملا{18}چلتا بھی ہے یا نہیں ؟ {19} کتنی کٹائی لگی؟ وغیرہ وغیرہ ۔

فون پر کی جانے والی فُضول باتوں کی 5مثالیں

          فون پر بھی اکثر غیر ضَروری سُوالات کی ترکیب رہتی ہے ، پانچ مثالیں حاضرِ خدمت ہیں  : {1}کیا کر رہے ہو؟{2}کہاں ہو؟{3}گاڑی میں فون آیا تو سامنے سے سُوال ہو گا اس وقت آپ کے پاس کون کون ہے ؟{4}کدھر سے گزر رہے ہو؟ {5}کہاں تک پہنچے ؟وغیرہ ۔ ہاں جوجو سُوال ضرورتاً کیاجائے وہ فُضُول نہیں کہلائے گا مگربعض سُوالات آدمی کو شرمندہ کر کے جھوٹ پر مجبور کر سکتے ہیں مَثَلاً ہو سکتا ہے کہ سوال نمبر 3-2-1کا جواب وہ دُرُست نہ دے پائے کیوں کہ وہ نہیں چاہتا کہ کسی کو پتا چلے کہ کیا کررہا ہے یا کہاں ہے یا اُس کے پاس کون کون ہے ۔  بس کام کی بات وہ بھی حسبِ ضرورت کرنے ہی میں دونوں جہاں کی عافیّت ہے ۔

جھوٹ پر مجبور کرنے والے سُوالات کی14 مثالیں

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض اوقات لوگ ایسے سُوالات کر دیتے ہیں کہ جواب دینے میں بے احتیاطی اور مُرُوَّت کی وجہ سے آدمی کے منہ سے جھوٹ نکل سکتا ہے اگر چِہ سوال کرنے والا گنہگار نہیں تاہم مسلمانوں کو گناہوں سے بچانے کیلئے بِلاضَرورت اِس طرح کے سُوالات سے اِجتناب (یعنی پرہیز) کرنا مناسب ہے ۔  سُوالات کی 14مثالیں حاضِر ہیں : {1} ہمارا گھر  ڈھونڈنے میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی؟{2}ہمارے گھر کا کھانا پسند آیا ؟ {3}میرے ہاتھ کی چائے کیسی تھی؟ {4}ہمارا گھر آپ کو اچّھا لگا؟ {5} میرے لئے دُعا کرتے ہیں یا نہیں ؟ {6}میں نے ابھی جو بیان کیا آپ کو کیسا لگا ؟{7} میں نے جو نعت شریف پڑھی تھی اس میں آپ کو میر ی آواز کیسی لگی ؟ {8}  میری بات آپ کو بُری تو نہیں لگی ؟{9} میرے آنے سے آپ کو تکلیف تو نہیں ہوئی ؟{10}میری وجہ سے آپ کو بوریت تو نہیں ہو رہی؟ {11} میں آکر آپ کی باتوں میں کہیں مُخِل تو نہیں ہو گیا؟{12}آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ؟{13}آپ مجھ سے خوش ہیں نا؟{14}میرے بارے میں آپ کا دل تو صاف ہے نا؟وغیرہ ۔  

سب سے خطرناک ابو الفُضُول

      بعض لوگ تو بڑے ہی عجیب ہوتے ہیں ، بات بات پر خوامخواہ اس طر ح تائیدطلب کرتے ہیں  : {1} ہاں بھئی کیا سمجھے ؟{2}میری بات کا مطلب سمجھ گئے نا؟ (البتّہ ضرورتاً شاگردوں یا ماتحتوں سے استاذ یا بزرگوں وغیرہ کاپوچھنا کبھی مُفید بھی ہو تا ہے تا کہ کسی کو سمجھ میں نہ آیا ہو تو سمجھایا جا سکے ۔ ایسے موقع پر سمجھ میں نہ آنے کی صورت میں سامنے والے کو چاہئے کہ جھوٹ موٹ ہاں میں ہاں نہ ملائے ){3} کیوں بھئی ! ٹھیک ہے نا ! ‘‘ {4} ’’میں غَلَط تو نہیں کہہ رہا!‘‘ {5} ’’کیا خیال ہے آپ کا؟‘‘اب



Total Pages: 17

Go To