Book Name:Aala Hazrat رحمۃ اللہ علیہ Ki Infiradi Koshishain

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

مَدَنی پھول

           میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! داڑھی بڑھانا تمام انبیاء کرام علیہم السلام بلکہ خودہمارے میٹھے میٹھے آقا مدینے والے مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم کی پیاری اور پاکیزہ سنت ہے۔ داڑھی بڑھانے کی ہمارے پیارے آقاصلی اللہ تعالٰی علیہ آلہ وسلم نے بہت تاکید فرمائی ہے۔سچے عاشق کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے محبوب کی ہر ہر اَدا کواپنانے کی کوشش کر تاہے ۔ کبھی بھی ا پنے محبوب کی ناپسندیدہ چیزوں کے قریب نہیں جاتا بس اسکی یہی خواہش ہوتی ہے کسی طرح میرامحبوب مجھ سے راضی رہے۔ لیکن یہ سب باتیں اُسی وقت دل ودماغ میں راسِخ ہوتی ہیں جب ایسا ماحول ملے جس میں رہ کرخوف ِخدا و عشقِ مصطفیٰ  عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی دولتِ عظمیٰ نصیب ہو۔ الحمد للّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تبلیغِ قراٰن وسنت کی غیرسیاسی عالمگیرتحریک  ’’ دعوت اسلامی ‘‘  ہمیں ایسا ماحول فراہم کرتی ہے جس میں رہ کر سنتوں پرعمل کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے، بے عمل اَعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہوجاتے ہیں ۔ فیشن کے متوالے سنتوں کے دیوانے بن جاتے ہیں اور گناہوں کی دلدل سے نکل کر سنتوں کے پُربہا رگلشن میں آجاتے ہیں ۔چہرے پرداڑھی شریف کا نورآجاتا ہے، سرپر عمامے شریف کاتاج اورجسم پر سفید نورانی لباس اپنی ضیائیں بکھیرنے لگتا ہے۔ پھر اس رنگ میں رنگا ہوااسلامی بھائی سنتوں کی چلتی پھرتی تصویر نظرآنے لگتا ہے۔

اُن کا دیوانہ عمامہ اور زُلف ورِیش میں

واہ! دیکھو تو ذرا لگتا ہے کیسا شاندار

 اللہ تبارک وتعالٰی ہمیں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے سچی وابستگی عطا فرمائے اور تادم آخر اسی ماحول میں رہنے کی توفیق عطافرمائے!  

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں

اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

                                                                                                                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                               صلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(20)   اِصلاحی مکتوب

            اِمام اہلِ سنت، مجددِ دین وملت، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت ، سرکاراعلیٰ حضرت مولیٰنا احمد رضاخان علیہ رحمۃالرحمن کاسینہ بے کینہ پیارے آقا مدینے والے مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت کی خیر خواہی کے عظیم جذبے کا خزینہ تھا۔ اسی مُقَدَّس جذبے کے تحت آپ اپنی ساری زندگی مسلمانوں کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے۔نیکی کی دعوت کاانداز ایسا پیارا ہوتا کہ لوگ خودبخوداَعمال صالحہ کی طرف راغِب ہونے لگتے۔ آیئے! ایک ا یسا ہی اِصلاحی مکتوب پڑھتے ہیں جس میں آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے اپنے مسلمان بھائیوں کو بڑے ہی پیارے انداز میں نیکی کی دعوت دی  :

        شبِ بَرَاءَ ت قریب ہے، اِس رات تمام بندوں کے اَعمال حضرتِ عزّت عزَّوَجلَّمیں پیش ہوتے ہیں ۔مولا عزَّوَجلَّ  بطفیلِ حضُورِ پُر نور ، شافِعِ یومُ النُّشور ، علیہ افضل الصّلٰوۃ ُ والسَّلام مسلمانوں کے ذُنوب  (گناہ ) مُعاف فرماتا ہے مگر چند ان میں وہ دو مسلمان جو باہَم دُنیوی وجہ سے رَنَجش رکھتے ہیں



Total Pages: 20

Go To