Book Name:Aala Hazrat رحمۃ اللہ علیہ Ki Infiradi Koshishain

           اتنے میں دیکھا کہ اسی وقت خلاف معمول اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت باہر تشریف لائے اور صاحبزادے سے فرمایا:  ’’ آپ کیسے آئے؟  یہ سن کرہمیں بہت تعجب ہوا، اس لئے کہ عادتِ کریمہ یہ تھی کہ ہر نَووَارِد سے دریافت فرماتے :  ’’ آپ نے کیسے تکلیف فرمائی؟  ‘‘  بہر حال صاحبزادے نے حضرت کے دریافت کرنے پر بجز رونے کے کچھ جواب نہ دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور نے پھر فرمایا: ’’  رونے سے کوئی نتیجہ نہیں ، مطلب کہیے! ‘‘  اس پر انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر ارشاد فرمایا:  ’’ میرے پاس کس لیے آئے ہیں ؟  ‘‘  یہ سن کروہ صاحبزادے پھر رونے لگے اور جو ترکیب ہم لوگوں نے بتائی تھی اس کے کہنے کی انہیں جرأت نہ ہوئی۔ اس کے بعد حضور یہ فرماتے ہوئے تشریف لے گئے کہ ’’  آپ قیام کریں مجھے کام کرنا ہے۔ ‘‘  ہم نے نوجوان کو تسلی دیتے ہوئے کہا: ’’  آپ ڈریں نہیں اور نمازِ ظہر کے وقت تجدیدِ بیعت کے لئے عرض کردیں ۔ ‘‘  بعد نماز ِظہر پیر طریقت رہبرشریعت اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت جب اپنی نشست گاہ پر جلوہ گر ہوئے تواس نوجوان نے تجدیدِ بیعت کے لئے عرض کی۔ آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ جب آپ وہاں بیعت ہوچکے ہیں پھر مجھ سے کیوں کہا جاتا ہے؟  عرض کی : ’’ حضور ! مجھ سے قصور ہواہے اپنے قصور کی معافی چاہتا ہوں ، لوگوں کے بہکانے میں آگیا تھا۔ ‘‘  فرمایا: ’’  خوب غور کرلو! سوچ لو! سمجھ لو! مجھے مرید کرنے کا شوق نہیں ہے مگر یہ کہ لوگ صراطِ مستقیم پر قائم رہیں ، یہ ٹھیک نہیں کہ آج اِس دروازہ پر کھڑے ہیں ، کل اُس دروازہ پر، یَک دَرْگِیر مُحْکَم گِیر۔  ‘‘ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی: ’’ حضور! اب ایسا ہی ہوگاخداکے لئے میری خطا معاف فرمادیجئے۔ ‘‘  یہ سن کرآپ  رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے انہیں داخلِ سلسلہ فرمالیااوروہ صاحبزادے خوشی خوشی واپس تشریف لے گئے۔  (حیات اعلی حضرت ، ج۳، ص۱۹۵)

جومرکزہے شریعت کا مدار اہلِ طریقت کا                 جو محور ہے طریقت کا وہ قطب الاولیا تم ہو

یہاں آکر ملیں نہریں شریعت اورطریقت کی                      ہے سینہ مجمع البحرین ایسے رہنما تم ہو

تمہاری شان میں جو کچھ کہوں ا س سے سوا تم ہو        قسیمِ جامِ عرفاں اے شہ احمد رضا تم ہو

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                             صلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی محمَّد

  (19)   نگاہِ  ولی کی تاثیر

          امام اہلِ سنت، مجددِ دین وملت، اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت ۱۳۲۹ھ  میں  ’’  مدرسۃ الحدیث  ‘‘ میں حضرت علّامہ مولانا شاہ محمد وَصی احمد سُورتی علیہ رحمۃاللہ القوی  کے ہاں مُقِیم تھے۔ سیِّد فرزند علی صاحب آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے ملنے آئے اور دست بَوس ہوئے ۔ سیِّد صاحب کی داڑھی کٹی ہوئی تھی۔ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت بہت دیر تک گہری نظروں سے سیِّد صاحب کے چہرے کو دیکھتے رہے۔ سیِّد صاحب فرماتے ہیں کہ ’’  آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کی نگاہوں نے مجھے پسینہ پسینہ کردیا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک سچے عاشقِ رسول مجھے داڑھی رکھنے کی خاموش ہدایت

فرمارہے ہیں ۔ میں نے صبح کو حاضر ِ خدمت ہو کر اپنے اس فعل شَنِیعہ ( برے فعل)  سے توبہ کی۔اس حکایت کے راوی کہتے ہیں کہ ’’  آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کہ سید صاحب کے چہرہ پر نہایت خوش نما داڑھی موجو د ہے ۔  ‘‘  ( حیات اعلی حضرت ، ج۳، ص۲۳۸)  

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

 



Total Pages: 20

Go To