Book Name:Aala Hazrat رحمۃ اللہ علیہ Ki Infiradi Koshishain

’’ فوراً بریلی آؤ ‘‘  وہ گھبرا گئے۔ مولوی محمد حسین صاحب تاجر طلسمی پریس سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا : ’’  فوراً جائیے۔ ‘‘  چنانچہ بریلی شریف پہنچے آستانہ عالیہ پر حاضر ہو کر سب سے دریافت کیا کسی نے تار بھیجنا بیان نہ کیا۔ سخت تشویش ہوئی، خیال کیا مخالفین کی یہ چال ہے کہ حسین حبیب اللہ میرٹھ سے ہٹ جائیں ، اس لیے کہ ان دنوں بعض معاملات چل رہے ہیں ۔ آخری بار تار آفس میں گئے، معلوم ہوا کہ یہاں سے تار گیا ہے، لیکن دینے کون آیا تھا یہ یاد نہیں ۔ بہت متفکر ہوئے کہ یہ کیا ماجراہے ؟  امام اہلسنّت مجددِدین وملت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمننے خود کچھ فرمایانہ ہی اِنہیں جرأت ہوئی کہ کچھ دریافت کرتے ۔ تیسرے دن میرٹھ واپسی کا قصد کیا، اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت  مسجد میں تشریف فرما تھے۔ جب اجازت چاہی توفرمایا: ’’ مولانا ! اس آیت ِکریمہ کو تو پڑھئے:   ’’ لَیْسَ الْبِرَّ اَنَْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِب ‘‘  ترجمۂ کنز الایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یامغرب کی طرف کرو۔۲، آیت: ۱۷۷) ۔مولانا فرماتے ہیں کہ ’’  رُعب کی وجہ سے مجھ سے آیت نہ پڑھی گئی، میرے ساتھ مولوی محمد حسین صاحب میرٹھی بھی تھے،  انہوں نے آیت کریمہ پوری کی۔ میرے دل میں معاً خیال گزرا کہ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے اِصلاح کی غرض سے مجھے یہاں بلوایا تھا اور صرف ایک آیت تلاوت کرکے اِصلاح فرمادی۔ (حیات اعلیٰ حضرت، ج۳، ص۱۶۷)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

                                                                                                                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 (18)    بَیْعَت توڑنے والے کی اصلاح

        حضرت مولانا سید ایوب علی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا بیان ہے : ’’  صبح 9یا 10 بجے کا وقت ہوگا، میں اور برادرم قَنَاعت علی پھاٹک میں کام کررہے تھے کہ ایک نوجوان صاحبز ادے بحیثیت مسافر تشریف لائے اور سلام کرکے ایک طرف خاموش بیٹھ گئے۔ ہم لوگوں نے دولت خانہ دریافت کیا، فرمایا : ’’  میرٹھ کا رہنے والا ہوں ۔ ‘‘  پوچھا: ’’  کیسے آناہوا؟  ‘‘  اس پر وہ بے اختیار رونے لگے، بار بار دریافت کیا جاتا مگر انکشاف نہ ہوتا تھا۔ بالآخر بہت اِصرار کے بعد فرمایا: ’’  میں امام اہلِ سنت، مجددِ دین وملت، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃالرحمن کامرید ہوں ۔اس سال جب میں سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز حسن سنجری اجمیری علیہ رحمۃاللہ القوی کے عر س مبارک میں حاضرہواتو وہاں ایک بُزُرگ سے ملا۔ بعض لوگوں نے مجھ سے کہا : ’’  تم ان بزرگ کے مرید ہوجاؤ! ‘‘  میں نے کہا: ’’ میں توامام اہلِ سنت، مجددِ دین وملت، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت ، سرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃالرحمن سے بیعت ہوں  ‘‘  انہوں نے کہا:  ’’ وہاں تم شریعت میں بیعت ہوئے ہو، یہاں طریقت میں بیعت ہوجاؤ۔ ‘‘  چنانچہ میں ان لوگوں کی باتوں میں آکر ان بزرگ کا مرید ہوگیا۔ جب سویاتوخواب میں دیکھا کہ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت تشریف لائے، چہرہ ٔاَنور پر جلال نمایاں تھا مجھ سے فرمایا: ’’ لا ہمارا شجرہ واپس کردے! ‘‘  اتنے میں آنکھ کھل گئی۔بس اسی روز سے میرا کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ پڑھائی بھی چھوڑ دی ۔ ہر وقت دل یہی چاہتا ہے کہ دھاڑیں مار مار کرخوب روؤں ۔ ہم لوگوں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا: ’’  آپ گھبرائیں نہیں ! ظہر کے وقت اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت تشریف لائیں گے، بعد نماز عرض کردیجئے کہ تجدیدِ بیعت کے لئے حاضر ہوا ہوں  ‘‘ ۔ یہ سن کر ان کو کچھ سکون ہوا۔

 



Total Pages: 20

Go To