Book Name:Aala Hazrat رحمۃ اللہ علیہ Ki Infiradi Koshishain

ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنی ذات کی خاطر کسی پر شِدّت وسختی نہ کریں ہماری محبت وعداوت  صرف اور صرف اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالی علیہ اٰلہ وسلم کے لئے ہونی  چاہئے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں حکمتِ عملی کے ساتھ دین متین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

                                                                                                                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 (11)   لوگوں کو بَد گُما نی سے بچاؤ!

           برسات کا موسم تھا، عشاء کے وقت ہوا کے تیز جھونکے مسجد کا چراغ باربار گل کررہے تھے۔اس زمانے میں ناروے کی دیاسلائی استعما ل ہوتی تھی جسے روشن کرتے وقت گندھک کی بدبو نکلتی تھی۔ اسی لئے اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت  کا حکم تھا کہ دِیا سلائی مسجد سے باہر جا کر روشن کی جائے تاکہ مسجد میں بدبو نہ ہو ۔ اب بار بارچراغ روشن کرنے میں بڑی دِقّت ہورہی تھی۔ اس تکلیف کی مدافعت آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے خا دِم خاص حاجی کفایت اللہ صاحب نے یہ کی کہ ایک لالٹین میں شیشہ لگوا کر کُپّی میں ارنڈی کا تیل ڈالا اور روشن کرکے مسجد کے اندر لے جا کر رکھ دی۔جب اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی نظر اس پر پڑ ی تو ارشاد فرمایا :  ’’ حاجی صاحب ! آپ نے یہ مسئلہ بار ہا سنا ہوگا کہ مسجد میں بدبو دار تیل نہیں جلانا چاہیے!  ‘‘  انہوں نے عرض کی : ’’  حضور ! اس میں اَرَنڈی کا تیل ہے۔ ‘‘  فرمایا : ’’  راہگیر دیکھ کر کیسے سمجھیں گے کہ اس لالٹین میں اَرَنڈی کا تیل جل رہا ہے ؟  وہ تو یہی کہیں گے کہ ’’  دوسروں کو فتویٰ دیا جاتا ہے کہ مٹی کا بدبو دار تیل مسجد میں نہ جلاؤ اور خود مسجد میں لالٹین جلوارہے ہیں ۔ ‘‘  ہاں ! اگر آپ برابر اس کے پاس بیٹھے ہوئے یہ کہتے رہیں کہ  ’’ اس لالٹین میں اَرَنڈی کا تیل ہے، اس لالٹین میں اَرَنڈی کا تیل ہے ‘‘  تو پھرمضائقہ نہیں ۔ ‘‘  اس اِصلاحی گفتگو کو سن کر حاجی صاحب نے فوراًلالٹین گُلکردی ۔  (حیات اعلیٰ حضرت ، ج۱، ص۱۵۰)  

مَدَنی پھول

           میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس ایمان افروزحکایت سے ہمیں یہ درس ملا کہ جس طرح بدگمانی کرنا منع ہے اسی طرح لوگوں کو بدگمانی سے بچانابھی بہت ضروری ہے۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :  ’’  مَنْ سَلَکَ مَسَالِکَ التُّہَمِ اُتُّھِمَ یعنی جو تہمت کے راستوں پر چلے گا اسے تہمت لگے گی۔ ‘‘  (المقاصد الحسنۃ ، الحدیث ۱۱۳۳، ج۱، ص۴۲۱ دارالکتاب العربی بیروت) یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں کو ہر طرح کی بدبو سے بچانابہت ضروری ہے ۔اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے گھروں کو ہمیشہ صاف ستھرا اور خوشبو دار رکھنا چاہئے مسجد وں کو صاف ستھرا رکھنے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنّتحضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکا تہم العالیہ کا رسالہ’مسجدیں خوشبوداررکھئے ‘‘  کا مطالعہ فرمائیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ہر ہر دینی معاملے میں احتیاط سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے اور مساجد کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اعلٰی حضرت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

                                                                                                                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 20

Go To