Book Name:Madani Channel Kay Baray Main Ulama o Shakhsiyaat Kay Tasurat - Qist 5

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مَدَنی چینل کے بارے میں عُلَماء و شَخْصیّات کے تأثُّرات کے اقتِباسات(قِسط پنجم)

دُرُود شریف کی فضیلت

        سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ ، باعِث نُزُولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شَفاعت نشان ہے : ’’بے شک اللّٰہ  تَعَالٰی نے ایک فِرِشتہ میری قَبْر پر مُقرَّرفرمایا ہے جسے تمام مخلوق کی آوازیںسُننے کی طاقت عطا فرمائی ہے، پس قِیامت تک جوکوئی مجھ پر دُرُودِپاک پڑھتا ہے تو وہ مجھے اُس کا اور اُسکے باپ کا نام پیش کرتا ہے۔کہتا ہے :  فُلاں بن فُلاں نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودِ پاک پڑھا ہے۔‘‘(مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج۱۰ص۲۵۱حدیث ۱۷۲۹۱دارالفکر بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

مَدَنی چینل کے ذریعے ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش

        دین اِسلام میں یوں توبے شمار ہستیاں مخلوقِ خدا کی رُشدو ہدایت کے لیے تشریف لائیں مگر اوراقِ تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ جن کو اللّٰہ سبحانہٗ و تَعَالٰی نے عالمگیر مقبولیت سے نوازا اور ان کے فیض کو سارے جہاں میں عام کیا، شرق و غرب میں ان کا چرچا ہوا، جن کی بارگاہ میں ظالموں کے سر جھک گئے، فاسِقوں کوتوبہ کی توفیق ملی ، سرکش و منکِر عاجز و مُطِیع ہوئے ، کبیرہ گناہوں میں مبتلا نہ صرف واجب ، سُنَّت ، مستحب کے پابند ہوئے بلکہ مکروہ تک سے بچنے لگے ، ایسے عظیم المرتبت لوگ زمانۂ ماضیٔ قریب میں بَہُت کم نظر آتے ہیں، اور عصرِ حاضر میں تقریباًنایاب۔اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کا لاکھ شکر ہے جس نے اِس دور میں اِصلاح اُمّت کا عظیم مَنصب اپنے ایک مقبول بندے اوراپنے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عاشقِ صادق شیخِ طریقت ، امیر اہلسنّت حضرت علّامہ مولیٰنا ابوبلال مُحمّد الیاس عطّارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کو عطا فرمایا۔ آپ ایک جامع شخصیت ہیں دَردِ دین سے بھرا ہوا دِل رکھتے ہیں۔آپ کی پُرخُلوص کوششوں سے دنیا کے بیشتر ملکوں میں خوب دین کا کام ہو رہا ہے۔ہر طرف سُنَّت کی بہاریں ہیں۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں :  میرا مقصدِ زندگی یہ ہے کہ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ ۔ اللّٰہ  تَعَالٰی نے آپ کی اس تمنا کی تکمیل کیلئے اسباب مہیّا فرما ئے اور مَدَنی چینل کی ترکیب ہوئی ، مَدَنی چینل اشاعتِ دین کا ایک مضبوط ترین ذریعہ ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کَثِیر عُلَماء وشخصیّات نے مَدَنی چینلکے اِنقِلابی اقدام پردعوتِ اسلامی کی مجلِسِ رَابِطَۃ بِالْعُلَماء وَالْمَشائِخاوردیگر مُبلِّغین کے ذریعے اپنے تَاثُّرات سے نوازا ہے جن کے اِقتباسات حسبِ ذیل ہیں :

(242)نبیرۂ صدرالشریعہ مولانا انعام المصطفٰی اعظمی  مُدَّظِلُّہُ العَالِی    

(ناظم اعلیٰ دارالعلوم نوریہ رضویہ، کہکشاں اسکیم ، کلفٹن، کراچی )

        تبلیغ قرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیرسیاسی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی نے عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے مَدَنی چینل کی بنیاد رکھ کر فراہمی علم قرآن و سُنَّت کا بہترین ذریعہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تِشنگانِ قرآن و سُنَّت کو سیرابی کا بھر پور موقع عطافرمادیا ہے اور یوں فیضانِ قرآن و سُنَّت کے مہکتے ہوئے گلدستوں سے عالم کا گوشہ گوشہ مُعطَّر اور شرق تا غرب اِسلام کا آفاقی پیغام عام ہوتا چلا جارہا ہے۔ میری ناقص معلومات کے مطابق اس وقت برّصغیرپاک و ہند میں اسلام کے نام سے کئی چینلوں کی بھرمار ہے۔ ( بشمول علاقائی چینل) لیکن کسی چینل میں بے پردگی کا دور دورہ ہے تو کہیں فاسد عقائد کا اژدھام مُنہ کھولے ہوئے لوگوں سے ایمان کو نگلنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ اِشتہارات کی آڑمیں انہیں فروغ دیا جارہا ہے۔مَدَنی چینل اِنہی تمام خرابیوں کو دُور کرنے اور لوگوں کو قرآن و سُنَّت کے جام پلا کر انہیں دین سے قریب کرنے کے لیے مَعرِضِ وُجُود میں آیا ہے اوردرحقیقت مَدَنی چینل اسلام اور مصطفی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا مبارک  نُورپھیلا کر مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی نہ صرف بھرپور اصلاحی کوششیں کررہا ہے بلکہ ان کے ایمان کی حفاظت بھی کررہا ہے کیونکہ آج جب کہ دشمنانِ دین وملّت یہود و نصاریٰ و ہنود اپنی کفریہ و شرکیہ و بے ہودہ ثقافت کے ذریعے نقب زنی کو چلے ہیں اور اپنی بے ہودہ ثقافت کے ذریعے مسلمانوں کی دینی حمیت و غیرت کو امتحان میں ڈال چکے ہیں۔ ایسے عالم میں اِس اَمر کی شدید ضرورت تھی کہ میڈیا کے ذریعے اِحیائے سُنَّت کے فروغ کے لیے کام کیا جا ئے تا کہ یہود و نصاریٰ و ہنود کی فکری مرعوبیت کا شکار اور گنبدِ خضرا کے فیضان سے محروم رہنے والوں کو رُشد و ہدایت کا  نُورنصیب ہوجائے۔ میری دُعا ہے کہ دعوتِ اسلامی اپنے اَکابرین کی یادوںکو مینارئہ نُور بنا کر کامیابی و کامرانی کے زینے ہمیشہ طے کرتی رہے اور اسی آئینہ میں اپنے حال کے خدوخال کو دیکھ کر اُمّت مُسلِمہ کے مستقبل کو مدنی اِنقلاب سے سنوارتی رہے۔

مدنی چینل اسلاف کی برکتوں کا نُور ہے

اس کی برکت سے گھروں سے فحاشی دور ہے

تھیں پہلے کبھی جن کی نگاہوں میں دنیا کی مستیاں

ان کی آنکھوں میں اِیمان کی چمک و دل مسرور ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد

(243)حضرت مولانا قاری محمد اکرم چشتی گولڑوی  مُدَّظِلُّہُ العَالِی   

(جامعہ حنفیہ دارالعلوم اشرف المدارس ، جی ٹی روڈ، اوکاڑہ، پاکستان)

اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے     اُمَّت پہ تِری آکے عجب وقت پڑا ہے

 



Total Pages: 12

Go To