Book Name:4 Sansani khez Khwab

   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تصوُّر کیجئے ! اُس وقت کیا گزر رہی ہوگی جب میدانِ قِیامت میں سورج ایک میل پر رَہ کر آگ برسا رہا ہوگا ، بھیجے کھول رہے ہوں گے ، کلیجے پھٹ گئے ہوں گے ، دل اُبل کر گلے میں آگئے ہوں گے ایسے درد ناک حالات میں پُلْصراط سے گزرنے کا مرحلہ درپیش ہوگا  ۔ اِس سے گزرنے کیلئے دنیوی طاقتور و باکسر، کڑیل نوجوان و پہلوان ، تیز وطَرّار و سُبک رفتار، خلابازو کراٹے باز، اور ہٹّے کٹّے مُسٹَنڈے ہونے کی حاجت نہیں بلکہ حضرتِ سیدُنا فُضَیل بن عیاض رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے فرمانِ عافیّت نشان کے مطابِق خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّکے سبب کمزورو زار اور نَحیف و نَزار رہنے والے پُلْصراط کو بآسانی پار کر لیں گے ۔

ہر ایک پُلصِرا ط سے گزرے گا

            اُمّ الْمُؤْمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا حَفْصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے مروی ہے کہ حُضُورِ اکرم، نورِ مُجسَّم ، شاہِ بنی آدم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : مجھے امّید ہے کہ جو غَزوۂ بدراور حُدَیبِیہ میں حاضِر تھے وہ آگ میں داخِل نہیں ہوں گے ۔  میں نے عرض کی :  یارسولَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّو صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیااللہ تَعَالٰی نے یہ نہیں فرمایا  :

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱) (  پارہ ۱۶ سورۂ مریم ۷۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے ربّ کے ذمّے پر یہ ضَرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔

آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، کیا تُو نے نہیں سنا  :

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا(۷۲) ( پارہ ۱۶ سورۂ مریم ۷۲)

ترجَمۂ کنزُ الایمان : پھر ہم ڈر والو ں کو بچالیں گے اور ظالِموں کو اس میں چھوڑدیں گے گُھٹنوں کے بل گرے ۔  ( سُنَن ابنِ ماجہ  ج ۴ ص ۵۰۸حدیث ۴۲۸۱دارالمعرفۃ بیروت )

مُجرِمین جھنَّم میں گر پڑیں گے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس روایت سے معلوم ہوا کہ ہر ایک کو دوزخ سے گزرنا ہوگا  ۔ خوفِ خداعزوجل رکھنے والے مؤمِنین بچا لئے جائیں گے اور مجرِمین وظالِمین جہنَّم میں گِر پڑیں گے  ۔ آہ!آہ! آہ! انتہائی دشوار معاملہ ہے ،  ہائے !ہائے ! پھر بھی ہم خوابِ غفلت سے بیدار نہیں ہوتے  ۔

دل ہائے گناہوں سے بیزار نہیں ہوتا                       مغلوب شہا نفسِ بدکار نہیں ہوتا

یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے                       غفلت سے مگر دل کیوں بَیدار نہیں ہوتا

گولاکھ کروں کوشِش اِصلاح نہیں ہوتی                        پاکیزہ گناہوں سے کردار نہیں ہوتا

اے رب کے حبیب آؤ اے میرے طبیب آؤ

 



Total Pages: 12

Go To