Book Name:4 Sansani khez Khwab

پُلْصراط تلوار کی دھار سے تیز تر ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حالانکہ غیرِ نبی کا خواب شریعت میں حُجَّتنہیں ۔ پھر بھی آپ نے دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  پُلْصراط پر گزرنے کے مُعاملے میں کس قَدَر حَسّاس تھے ۔ واِقعی پُلْصراط کا مُعامَلہ بڑا ہی نازُک ہے ۔ پُلْصراط بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے تیز تر ہے اور یہ جہنّم کی پُشت پر رکھا ہوا ہوگا ، خدا کی قسم ! یہ سخت تشویشناک مَرحَلہ ہے ، ہر ایک کو اس پر سے گزرناہی پڑے گا ۔

 صَحابی کا رونا

            پُلصراط کامَرحَلہ آسان نہیں ، ہمارے اَسلاف اس ضِمن میں بے حد مُتَفَکِّر(مُ ۔ تَ ۔ فَکْ ۔ کِر) اور مغموم رہا کرتے تھے چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُناعبد اللہ بن رَواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ایک بار روتے دیکھ کر ان کی زَوجۂ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی  : آپ کو کس بات نے رُلایا ہے ؟  فرمایا :  مجھے (پارہ16 سورۂ مریم میں وارِد شدہ )اللہ  عَزَّوَجَلَّکا یہ فرمان یاد آگیا،  (ترجمۂ کنزُالایمان :  اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو)یہ تو جان لیا کہ میں نے اس میں داخل ہونا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ میں اس سے نَجات بھی حاصِل کرسکوں گا یا نہیں ۔ (اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحاکِم  ج ۴ ص ۶۳۱حدیث ۸۷۴۸، اَلتَّخویف مِنَ النَّار ‘‘  ص ۲۴۹  )

وارِدُھا سے مراد

            صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا خوفِ خدا عزوجل مرحبا! سورۂ مریم کی آیت نمبر 71میں لفظ،  ’’ وارِدُھا ‘‘  (یعنی دوزخ سے گزرنے کے بارے میں ) حضرتِ سیِّدَتُنا حَفْصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور  سیِّدُناعبد اللہ بن رَواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوغیرہ کے خیال میں بات یہ تھی کہ قرآنِ کریم کے ان الفاظ میں  ’’ وَارِدُھَا ‘‘ کے معنی دَاخِلُھَا  (یعنی دوزخ میں داخل ہونے ) کے ہیں ۔  ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح  ج۱۰ص۵۹۹ تحت الحدیث ۶۲۲۷، اَلتَّخویف مِنَ النَّار ص ۲۴۹ ، البدورالسّافرۃ ص ۳۳۸)

پُلْصراط پندَرَہ ہزار سال کی راہ ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ  عَزَّوَجَلَّ ہم پر رحم فرمائے ، پُلْصرا ط کا سفر نہایت ہی طویل ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مَنْقول ہے : پُلْصراط کاسفر پندَرہ ہزا ر سال کی راہ ہے ، پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے ، پانچ ہزار سال نیچے اُترنے کے اور پانچ ہزار سال برابرکے  ۔ پُلصراط بال سے زِیادہ باریک اور تلوار سے تیز تر ہے اور وہ جہنَّم کی پُشت پر بنا ہوا ہے اس پر سے وہ گزر سکے گا جو خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّکے باعث کمزور ونِڈھال ہوگا  ۔ ( البدورالسّافرۃ ص ۳۴۴ دارالکتب العلمیہ بیروت  )

پُلصراط سے گزرنے کامنظر

 



Total Pages: 12

Go To