Book Name:4 Sansani khez Khwab

زانیوں کاانجام

            مِعراج کی رات سَرورَِ کائنات، شاہِ مَوجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تَنُّورجیسے ایک سُوراخ کے پاس پہنچے تو اس کے اندر جھانک کر دیکھا ، تو اس میں کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اچانک ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ اٹھتا تو مرداور  عورتیں دھاڑیں مارتے اور ہائے ہائے کرتے ۔  سرکارِ عالم مدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اِستفسار پر سیِّدُنا جبرئیلِ اَمین عَلَیْہِ السَّلَام  نے عرض کی :  یہ زانی مرد اور زانیہ عورَتیں ہیں ۔   (مُسنَد اِمام احمد بن حَنبل ج۷ص۲۴۹حدیث۲۰۱۱۵دارالفکربیروت )خاتَمُ الْمُرسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عبرت نشان ہے : جب مرد مرد سے حرام کاری کرے تووہ دونوں زانی ہیں اور جب عورت عورت سے حرام کاری کرے تو وہ دونوں زانی ہیں ۔ ( السنن الکبری ج ۸ص۴۰۶ حدیث۱۷۰۳۳دارالکتب العلمیۃ بیروت)

زانی کو شَرْمٓگاہ سے لٹکا یاجائیگا

            مروی ہوا کہ زبورشریف میں ہے :  زانیوں کو ان کی شرمگاہوں کے ذَرِیعے جہنَّم میں لٹکایا جائے گا اور لوہے کے کوڑوں سے مارا جائے گا ۔  جب کوئی زانی اس سزا سے بچنے کے لیے مدد طلب کرے گا تو فرشتے کہیں گے کہ تیری یہ آواز اُس وقت کہاں تھی جب تو ہنستا تھا، خوش ہوتا اور اکڑتا تھا ۔  نہ اللہ تَعَالٰی کی عظمت کو دیکھتا اور نہ ہی اس سے حیا کرتا تھا ۔  ( کتاب الکبائر  ص ۵۵)

{3}خوفناک شیر

            ایک شخص نے خواب دیکھا، کہ وہ کسی جنگل میں چلا جارہا ہے اتنے میں پیچھے آہٹ محسوس ہوئی مڑ کر دیکھا تو ایک خوفناک شیر اُس کے تَعاقُب میں چلا آرہا ہے ، وہ گھبرا کر بھاگ کھڑا ہوا، شیر بھی پیچھے دوڑا، اتنے میں ایک گہرا گڑھا آڑے آگیا، اس نے گڑھے میں جھانک کر دیکھا تو اندرایک بَہُت بڑا سانپ منہ کھولے بیٹھا نظر آیا! اب یہ بَہُت ڈرا کہ کرے تو کیا کرے ! آگے خطرناک سانپ ہے تو پیچھے خوفناک شیر! اتنے میں اُسے ایک درخت نظر آیا، یہ اُس کی ٹہنی سے لٹک گیا لیکن ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی، وہ یہ کہ ایک سفید اور ایک سیاہ چوہا دونوں مل کر اُس ٹہنی کی جڑ کو کُتَرْ رہے ہیں ، اب تو یہ بہت گھبرایاکہ عنقریب یہ دونوں چوہے ٹہنی کاٹ ڈالیں گے اور میں گر جاؤں گا اور پھر شیر اور سانپ کا لقمہ بن جاؤں گا ۔  ابھی وہ اسی تَرَدُّد میں تھا کہ اس کی نظر شہد کے چھتّے پر پڑی اور وہ شہد پینے میں مشغول ہوگیااور شہد کی لذّت میں کچھ ایسا گم ہوا کہ نہ شیر و سانپ کا خوف رہا، نہ ہی دونوں چوہوں کا ڈر ۔  اچانک ٹہنی جڑ سے کٹ گئی اور یہ د ھڑام سے نیچے گرا، شیر اُس پر جھپٹا اور اس نے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور سانپ اُس کو نگل گیا ۔  پھر آنکھ کُھل گئی ۔  

وہ ہے عَیش وعِشرت کا کوئی مَحَل بھی                    جہاں تاک میں ہر گھڑی ہواَجَل بھی

 



Total Pages: 12

Go To