Book Name:4 Sansani khez Khwab

خالہ زاد بہن سے بے تکلُّف تھا  ([1])اور اس سے اپنی نگاہ کی حفاظت نہیں کرتا تھا، بے رِیش خوبصورت لڑکوں میں دلچسپی لیتا تھا ۔  لذّت کے ساتھ ان کو دیکھتا اور لذّت ہی کے ساتھ ان سے ملاقات کرتا تھا ۔  خود بھی فلمیں ڈِرامے دیکھتا اور دوسروں کو بھی دکھاتا تھا، اسے بدنگاہی اور شہوت پرستی کا مزا چکھا دو! ‘‘

             بس پھر کیا تھا ان دونوں نے ڈرِل مشین کی آتَشیں سلاخیں میری آنکھوں میں گھونپ دیں جو کَرَخت آواز کے ساتھ گھومتی ہوئیں آنکھوں کو پھوڑتی ہوئیں گدّی سے آر پار ہوگئیں ، ساتھ ہی ساتھ میرے ہاتھوں اور جسم کے ان حِصّوں پر بھی ڈرل مشینیں چلنے لگیں جن سے میں شہوت کو تسکین دیا کرتا تھا ۔  اس قدر خوفناک عذاب کے باوُجُود نہ مجھ پر بیہوشی طاری ہوتی تھی نہ ہی نظر آنا بند ہوتا تھا ۔  یہی عذاب کیا کم تھا کہ پھر آواز آئی :   ’’یہ گانے باجے سننے کا شوقین تھا، جب کبھی دو آدمی خُفیہ بات کرنے کی کوشش کرتے تو یہ کان لگاکر ان کی باتیں سن لیا کرتا تھا ۔  ‘‘  جوں ہی آواز بند ہوئی، ڈرل مشینوں نے میر ے کانوں کا رخ کیا اور آہ! اب میرے کانوں میں بھی سلاخیں زور زور سے گھومنے لگیں ۔ کافی دیر تک یہ اَذِیّت ناک عذاب ہوتا رہا کہ آواز گونج اٹھی :   ’’یہ ماں باپ کو ستاتا تھا… مسلمانوں کے دل دکھاتا تھا… جھوٹا تھا وعدہ نہ نبھاتا تھا… جب غصّہ آتا تو گالی گلوچ اور مار دھاڑ پر اُتر آتا تھا… لوگوں پر طنز کرنا، ان کا مذاق اڑانا، اِدھر کی اُدھر لگانا، لوگوں کے عیب اچھالنا، تاش، شطرنج، لُوڈو اور وڈیو گیمز کھیلنا، نشہ کرنا اور پتنگ اڑانا یہ سب اس کے محبوب مشغلے تھے ۔  لوگوں کا حق دبانا، ناجائز کمانااور حرام کھانا اس کا وَتِیرہ تھا… یہ داڑھی بھی منڈاتا تھا… اس کے عذاب میں اضافہ کر دو! ‘‘ چُنانچِہ دیکھتے ہی دیکھتے بَہُت سارے لمبے لمبے کالے بچّھو ڈنک اٹھائے میری طرف لپکے اور میری ٹھوڑی کی کھال کے اندر گھسنے شروع ہوگئے اور جہاں داڑھی ہوتی ہے اس حصے میں کھال اور گوشت کے درمیان داخِل ہو کر مجھے ڈنک مارنے لگے ۔  خوفناک سیاہ سانپوں نے مجھے بھَنْبھُوڑْنا (کاٹنا) شروع کر دیا، میں دنیا میں جن جن چیزوں سے ڈرتا تھا وہ سب(مَثَلاًکُتّے ، کن کھجورے ، چھپکلیاں ، چوہے وغیرہ) یکبارگی مجھ پر ٹوٹ پڑے ، نیز میری قَبْر آگ کی بھٹّی بن گئی ۔  اتنے میں کسی نے بَہُت بڑے آتَشیں ہتھوڑے سے مجھے ایک زور دارضَرب لگائی اور میں گیند کی طرح اُچھلا، دھڑام سے گرا اور میری آنکھ کُھل گئی!میں اپنے پلنگ سے نیچے گر پڑا تھا ، گھر والے گھبرا کر جاگ اٹھے تھے ، دہشت کے مارے میرا بدن بُری طرح کانپ رہا تھا ۔

             جب حواس کچھ بحال ہوئے تو میں نے رو رو کر اپنے گناہوں سے توبہ کی، ماں باپ اور دیگر افرادِ خانہ کو راضی کیا،



[1]     دیگر نامحرم عورتوں کے ساتھ ساتھ خالہ زاد، چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، تایا زاد، سالی اور بھابھی سے بھی مرد کا پردہ ہے ۔  اسی طرح غیر مردوں کے علاوہ خالو، پھوپھا، بہنوئی، دیور و جیٹھ سے بھی عورت کا پردہ ہے ۔



Total Pages: 12

Go To