Book Name:4 Sansani khez Khwab

قَبر سے بچّہ زندہ  بَر آمد ہُوا!

                ایک شخص امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمتِ با بَرَکت میں اپنے بیٹے کے ساتھ آیا ۔  بیٹے کی صُورت ہُو بَہُو اپنے والِد سے ملتی تھی ۔  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُن کو دیکھ کرفرمایا کہ میں نے ان باپ بیٹوں کے درمیان جتنی مُشَابَہَت دیکھی اِس سے پہلے کبھی کسی اور میں نہیں دیکھی ۔ والِد نے عرض کی :  عالی جاہ! اِس بچّے کا واقِعہ نہایت ہی عجیب و غریب ہے ۔  میں سفر پر جانے لگا تو یہ بچّہ ماں کے پیٹ میں تھا، بیوی نے کہا :  تُم اِس کو کس کے سِپُرد کر کے جا رہے ہو؟ میں نے کہا  :  ’’ میں نے اس کو اللہ تَعَالٰی عَزَّوَجَلَّ کے سِپُرد کیا ۔  ‘‘  جب سفر سے لوٹ کر آیا تو گھر کو مُقَفَّل (بند) پایا ۔ جب معلومات کیں تو پتا چلا کہ بیوی کا انتِقال ہو چکا ہے ، میں فاتِحہ پڑھنے اُس کی قَبْر پر گیا تو ایک روشن شُعلہ اُس کی قَبر پر دیکھا ۔ میں نے سوچا بیوی تو نیک تھی یہ شُعلہ کیسا؟میں ضَرور کھود کر دیکھوں گا ۔  جب  قَبْرکھودی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُس میں چاند سامَدَنی مُنّا موجود ہے جو مَری ہوئی ماں کے ارد گرد اُچھل کود کر کھیل رہا ہے ! غیب سے آواز آئی :  ’’ یہ وہ بچّہ ہے جس کو تُو نے سفر پر جاتے وَقت ہمارے سِپُرد کیا تھا، لے اَمانت سنبھال ، اگر بیوی کو بھی ہمارے سِپُرد کر جاتا تو وہ بھی تُجھ کو مل جاتی  ۔  ‘‘  ( فُتُوحاتُ الرَّبِّانِیّہ)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

شادی غمی کی تقریبات، اجتماعات، اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے ۔

 

 



Total Pages: 12

Go To