Book Name:4 Sansani khez Khwab

اچھّا یہ گناہوں کا بیمار نہیں ہوتا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

سُنّتیں عام کریں دین کا ہم کام کریں

نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’چل مدینہ‘‘ کے سات حُرُوف کی نسبت سے جوتے پہننے  کے 7 مَدَنی پھول

  فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   : {1}جوتے بکثرت استعمال کرو کہآدمی جب تک جوتے پہنے ہوتا ہے گویا وہ سُوار ہوتا ہے ۔ ( یعنی کم تھکتا ہے )  ( مُسلِم  ص۱۱۶۱ حدیث۲۰۹۶ ) {2} جوتے پہننے سے پہلے جھاڑ لیجئے تاکہ کیڑا یا کنکر وغیرہ ہوتو نکل جائے {3} پہلے سیدھا جوتا پہنئے پھر ُالٹا اور اُتارتے وَقت پہلے اُلٹا جوتا اُتاریئے پھر سیدھا  ۔

فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  : جب تم میں سے کوئی جوتے پہنے تو دائیں (یعنی سیدھی ) جانب سے اِبتداء کرنی چاہیے اور جب اُتارے تو بائیں(یعنی الٹی) جانب سے اِبتِداء کرنی چاہیے تاکہ دایاں (یعنی سیدھا)پاؤں پہننے میں اوّل اور اُتارنے میں آخِری رہے ۔  (بُخاری ج ۴ ص۶۵حدیث۵۸۵۵ )  نزھۃُ القاری میں ہے  : مسجد میں داخِل ہوتے وقت حکم یہ ہے پہلے سیدھا پاؤں مسجد میں رکھے اور جب مسجد سے نکلے تو پہلے اُلٹا پاؤں نکالے ۔  مسجد کے داخلے کے وقت اس حدیث پر عمل دشوار ہے ۔  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اس کا حل یہ ارشاد فرمایا ہے  : جب مسجد میں جاناہو تو پہلے اُلٹے پاؤں کو نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھے پاؤں سے جوتا نکال کر مسجد میں داخل ہو ۔  اور جب مسجد سے باہر ہوتواُلٹا پاؤں نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھا پاؤں نکال کرسیدھا جوتا پہن لیجئے پھراُلٹا پہن لیجئے ۔ ( نزہۃ القاری ج۵ ص۵۳۰ فرید بک اسٹال) {4}مَرد مردانہ اور عورت زَنانہ جوتا استعمال کرے {5}کسی نے حضرتِ  سیِّدتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کہا کہ ایک عورت (مردوں کی طرح) جوتے پہنتی ہے ۔  انھوں نے فرمایا :  رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مردانی عورَتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ ( اَ بُو دَاوٗد ج۴ ص۸۴حدیث۴۰۹۹ ) صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : یعنی عورَتوں کو مردانہ جوتا نہیں پہننا چاہیے بلکہ وہ تمام باتیں جن میں مردوں اور عورَتوں کا امتیاز ہوتا ہے ان میں ہر ایک کودوسرے کی وَضع اختیار کرنے (یعنی نقالی کرنے ) سے



Total Pages: 12

Go To