Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

۔ اگر تمہارے پاس کوئی ناواقف وناپسند شخص بھی حق بات لائے تواسے قبول کر لواورکوئی تمہارا پیاراوپسندیدہ شخص بھی ناحق بات پیش کرے تواسے ردکر دو ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 428 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ سچ بھاری اورتلخ لگتاہے جبکہ جھوٹ ہلکا و شیریں   محسوس ہوتا ہے اورکبھی تھوڑی سی شہوت طویل غم کا سبب بن جاتی ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 429 ) …  حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن عُقْبَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں   !  روئے زمین پرزبان سے بڑھ کر کوئی چیز ایسی نہیں   جسے طویل مدت قید میں   رکھنے کی زیادہ حاجت ہو ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 430 ) … حضرت سیِّدُنامَعْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ دل میں  اچھی خواہشات بھی پیداہوتی ہیں   اور برے خیالات بھی جنم لیتے ہیں   ۔ لہٰذانیکی کو غنیمت جان کراسے کرلو اوربد ی سے اپنا دامن داغدارنہ کرو بلکہ اسے ترک کردو  ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 431 ) …  حضرت سیِّدُنا محمد بن عبدالرحمن بن یزیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  دل کو سخت کر دینے والی اشیاء سے بچو اور جو چیز دل میں   کھٹکے اسے ترک کر دو ۔  ‘‘    ( [5] )

کفارکی خوشحالیاں   قابلِ فخر نہیں   !

 ( 432 ) … حضرت سیِّدُنامُنْذِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   کچھ کسان حاضر ہوئے تو ان کی موٹی گردنیں   اور صحت مند و تواناں   بدن دیکھ کر لوگوں   کو تعجب ہوا  ( اس پر ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ تم دیکھتے ہو کافروں   کے جسم صحت مندہیں   لیکن دل بیمار ہیں   اور مومن کا جسم اگرچہ کمزور ہولیکن اس کا دل صحت مند و مضبوط ہوتا ہے ۔  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! اگر تمہارے جسم صحت مندہوں   مگر دل مریض تو تمہاری حیثیت اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک گَبْرِیْلا ( یعنی گوبر کے کیڑے )  سے بھی کم تر ہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 433 ) … حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ جس سے بن پڑے اپنامال وہاں   رکھے جہاں   اسے کیڑا لگے نہ چور کا ہاتھ ( یعنی راہِ خدامیں   صدقہ  کر دے )  کیونکہ بندے کا دل مال کی طرف متوجہ رہتا ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 434 ) … حضرت سیِّدُناطارِق بن شِہابعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعِتْرِیسِ بن عُرْقُوب شَیْبَانِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حاضر ہوئے اور کہا :   ’’ ہلاک ہواوہ شخص جس نے نہ تو نیکی کا حکم دیا اور نہ ہی برائی سے منع کیا ۔  ‘‘ توحضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  بلکہ ہلاک تو وہ ہوا جس کادل بھلائی کو بھلائی اور برائی کو برائی نہیں   سمجھتا  ۔  ‘‘    ( [8] )

 ( 435 ) … حضرت سیِّدُنااَبوالْاَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ صالحین دنیا سے رخصت ہوگئے اور شک کرنے والے باقی رہ گئے جنہیں   نیکی کی پہچان ہے نہ برائی کاپتہ  ۔  ‘‘    ( [9] )

حفاظت ِ زبان کی نصیحت :  

 ( 436 ) … حضرت سیِّدُناقاسِمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   عرض کی :   ’’ اے ابو عبد الرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے !  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرمایا :   ’’ تیرا گھر تجھے کفایت کرے  ( یعنی بلاضرورت گھر سے نہ نکلو )  زبان کی حفاظت کرو اوراپنی خطاؤں   کو یاد کر کے آنسو بہاؤ ۔  ‘‘ ( [10] )

 ( 437 ) … حضرت سیِّدُنا ابو وَائِل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سناکہ ’’ کہاں   ہیں   دنیا کو ترک



[1]    الموسوعۃ لابن ابی الدنیا ،  کتاب الصَمْت آداب اللسان ،  باب الصدق وفضلہ ،   الحدیث : ۴۵۴ ، ج۷ ، ص۲۶۴ ،  مفہومًا۔

[2]    الزہد لابن المبارک  ،  باب الاعتبار والتفکر  ،  الحدیث : ۲۹۰ ، ص۹۸۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۷۴۴ / ۸۷۴۵ ، ج۹ ، ص۱۴۹۔

[4]    الزہدلابن المبارک ،  باب فضل ذکر اﷲ ،  الحدیث : ۱۳۳۱ ، ص۴۶۹ ، مفہومًا۔

[5]    الورع للامام احمد بن حنبل  ،  باب ما یکرہ من امر الربا