Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

 

مقربینِ بارگاہِ خداوندی میں   سے کہلاؤں    ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں : یہ سن کرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: لیکن یہاں   تو ایک ایسا شخص ہے جویہ تمنا کرتا ہے کہ ’’ جب وہ مر جائے تو اسے دوبارہ نہ اٹھایا جائے ۔  ‘‘  یہاں   ’’  شخص  ‘‘  سے انہوں   نے اپنی ذات مرادلی ہے ۔    ( [1] )

خوفِ خداکی ایک جھلک :  

 ( 421 ) … حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اگر مجھے جنت و دوزخ کے درمیان کھڑا کرکے دونوں   میں   سے ایک میں   جانے یا مِٹی ہو جانے کا اختیار دیا جائے تو میں   مِٹی ہو جانا پسند کروں   گا ۔  ‘‘    ( [2] )

 آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کازُہد :  

 ( 422 ) …  حضرت سیِّدُناحارِث بن سُوَیْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اگر تم میری حقیقت واصلیت کو پہچان لو تو میرے سر پر مٹی ڈالنے لگو ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 423 ) …  حضرت سیِّدُنا اَبُوالْاَحْوَص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ ہم حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی خدمت میں  حاضر ہوئے تو آ پ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس دیناروں   کی طرح خوبصورت تین صاحبزادے بیٹھے ہوئے تھے ۔  ہم ان کی طرف دیکھنے لگے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس بات کو بھانپ گئے اور فرمانے لگے :   ’’  شاید !  تم انہیں   دیکھ کر مجھ پر رشک کر رہے ہو ؟  ‘‘  ہم نے کہا :  ’’  آدمی پر ایسوں   ہی کی وجہ سے رشک کیا جاتا ہے ۔  ‘‘  توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے چھت کی طرف سر اٹھایاتو وہاں   ابابیل پرندے نے انڈے دے رکھے تھے،   انہیں   ملاحظہ کیاپھر فرمایا :  ’’ انہیں    ( یعنی اپنے بیٹوں   کو )  قبروں  میں   دفن کرکے مِٹی سے ہاتھ جھاڑ لینا مجھے اس پرندے کے انڈوں   کے نیچے گر کر ٹوٹ جانے سے زیادہ پسند ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 424 ) … حضرت سیِّدُنا ابو عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : میں   کوفہ میں   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   بیٹھا کرتا تھا،   ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گھر میں   چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ نیچے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دو خوبصورت وصاحب ِحیثیت بیویاں   بیٹھی ہوئی تھیں   اور ان دونوں   سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خوبصورت اولاد بھی تھی ۔  اچانک ایک چڑیا نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر بیٹ کر دی ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے ہاتھ سے صاف کر کے فرمایا :  ’’ عبد اللہکے اہل و عیال کا مرجانااور میرا اس دنیا سے چلا جانا مجھے اس چڑیا کی موت سے زیادہ پسند ہے  ۔  ‘‘   ( [5] )

سفرِآخرت کی تیاری کادرس :  

 ( 425 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بنحَجِیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں  کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب لوگوں   کے پاس بیٹھتے تو فرماتے :  ’’ اے لوگو ! شب و روز گزرنے کے ساتھ ساتھ تمہاری عمریں   بھی کم ہوتی جا رہی ہیں   ۔  تمہارے اعمال لکھے جارہے ہیں   ۔  موت اچانک آئے گی  ۔ پس جو نیکی کی فصل بوئے گا جلد ہی اسے شوق سے کاٹے گا اور جوبرائی کی کھیتی بوئے گااسے ندامت کے ساتھ کاٹنا پڑے گا  ۔  ہر ایک اپنی ہی اُگائی ہوئی کھیتی کاٹے گا ۔ سستی و کاہلی کرنے والا اپنے عمل کے ذریعے آگے کبھی نہیں   بڑھ پائے گا اور حرص و لالچ میں   مبتلا صرف اپنا مقدرہی حاصل کر پائے گا  ۔  جسے بھی بھلائی کی توفیق ملی وہ اللہعَزَّوَجَلَّہی کی طرف سے ہے اور جسے برائی سے بچایا گیا تووہ بھی اللہعَزَّوَجَلَّہی کے کرم سے ہے ۔  متقی وپرہیزگارعام لوگوں   کے سردار اور فقہا،   رہنماہیں   ۔ ان کی صحبت اختیارکرنا نیکیوں   میں   اضافے کا سبب ہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 426 ) …  حضرت سیِّدُناضَحَّاک بنمُزَاحِمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم میں   سے ہر ایک مہمان ہے اورمہمان ہمیشہ نہیں   رہتا اسے رخصت ہونا پڑتا ہے اور تمہارے پاس جو مال ہے یہ اُدھار ہے اور اُدھار اس کے مالک کولوٹانا ہوتا ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

کلماتِ نافعہ :  

 ( 427 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان کے پاس آکر کہا :  ’’ اے ابو عبدالرحمن !  ( یہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ہے )  مجھے جامع ونافع کلمات سکھائیے !  ‘‘   فرمایا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرو ۔  اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔  قرآنِ مجیدکے اَحکامات کے مطابق زندگی بسر کرو



[1]    الزہد للامام احمد بن حنبل  ،  فی فضل ابی ہریرۃ  ،  الحدیث : ۸۶۹ ، ص۱۸۰ ،  مفہومًا۔

[2]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۸۵۳۵ ، ج۹ ، ص۱۰۲۔

[3]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ  ،  باب کان عبد اﷲ یخطبالخ ،   الحدیث : ۵۴۳۳ ، ج۴ ، ص۳۷۵ ، بتغیرٍ۔

[4]    الزہد لابن المبارک  ،  باب فی أخبار ابو ریحانۃ وغیرہ ،  الحدیث : ۸۸۰ ، ص۳۰۷ ، بتغیرٍ۔

[5]    الزہد لابی داؤد  ،  باب من خبر ابن مسعود  ،   الحدیث۱۴۸ ،  ج۱ ،  ص۱۶۰ ، بتغیرٍقلیلٍ۔