Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جس کا صاف حصہ تو ختم ہوگیا لیکن گدلا حصہ باقی رہ گیا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 416 ) …  حضرت سیِّدُنا قَیْس بن حَبْتَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دو ناپسندیدہ چیزیں   موت اور تنگدستی کتنی عمدہ ہیں   ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! دو چیزوں  میں   سے ایک تو ضرور ہے مالداری یا ناداری اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں   کہ ان میں   سے کسی کے ذریعے بھی آزمایا جاؤں   کیونکہ اگرمالداری عطا ہوئی تو اس سے لوگوں   پر مہربانی کروں  گا اور اگر تنگدستی عطا ہوئی تو صبرکروں   گا ۔  ‘‘    ( [2] )

حلاوت ِایمان سے محرومی کے اَسباب :  

 ( 417 ) … حضرت سیِّدُناعَوْن بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  کوئی مسلمان اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں   پا سکتا جب تک اِیمان کی بلندی کو نہ پالے اور ایمان کی بلندی کو پانے میں  اس وقت تک کامیاب نہیں  ہوسکتا جب تک فقرکودولت سے بہتراور عاجزی و انکساری کوعزت وشرافت سے اچھاخیال نہ کرے نیز جب تک تعریف کرنے والے اورمذمت کرنے والے کو یکساں   حیثیت نہ دے  ۔  ‘‘   ( [3] )

         راوی بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے رُفقا نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اس فرمان ذیشان کی وضاحت یوں   فرمائی کہ ’’   آدمی ایمان کی حلاوت ورفعت اس وقت پا سکتا ہے جب اسے حلال پر گزارا کرتے ہوئے غریبی وناداری کو گوارا کرنا حرام اختیار کر کے مالداری حاصل ہو جانے سے زیادہ پسند ہو اور اللہعَزَّوَجَلَّکی اطاعت و فرمانبرداری والی عاجزی وانکساری اس  کی نافرمانی والی عزت و شہرت سے زیادہ پسند ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی ذات وصفات میں   اس طرح فنا ہو جائے کہ اس کی نظرمیں   تعریف کرنے والااور برائی و مذمت کرنے والا دونوں   برابرہوں   ۔  ‘‘

 ( 418 ) … حضرت سیِّدُنا مُغِیْرَہ بن سَعْد بن اَخْرَمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں   !  جو شخص اسلام کی حالت میں   صبح وشام کرتاہے اسے دنیاوی رنج و غم نقصان نہیں   دیتے  ( بلکہ وہ اس پر صبر کرکے اجر پاتاہے )   ۔  ‘‘  ( [4] )

 ( 419 ) … حضرت سیِّدُناحارِث بن سُوَیْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں   !  کوئی صبح ایسی نہ ہوئی کہ عبداللہبن مسعود  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کی اولاد کے پاس کوئی ایسی چیز ہوتی جس سے انہیں   امید ہو کہاللہعَزَّوَجَلَّ  انہیں   خیرو بھلائی عطا فرمائے یا ان سے کسی برائی کودورفرمائے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّخوب جانتاہے کہ عبداللہبن مسعود ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں   ٹھہراتا ۔  ‘‘    ( [5] )

حساب وکتاب کاخوف :  

 ( 420 ) … حضرت سیِّدُنا عامر بن مَسْرُوق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قریب کسی نے کہا :  ’’  میں   نہیں   چاہتا کہ اصحابِ یمین  ( [6] )سے ہوجاؤں  بلکہ میں   تو یہ چاہتا ہوں   کہ

 



[1]    المصنف لابن  ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد  ،   کلام ابن مسعود  ،  الحدیث : ۲ ،  ج۸ ،  ص۱۵۸ ، بدون  إنما۔

[2]    الزہد للامام احمد بن حنبل  ،  فی فضل ابی ہریرۃ  ،  الحدیث : ۸۴۷ ، ص۱۷۸۔

[3]    الزہد للامام احمد بن حنبل  ،  فی فضل ابی ہریرۃ  ،  الحدیث : ۸۶۳ ، ص۱۸۰۔

[4]    الزہد للامام احمد بن حنبل  ،  فی فضل ابی ہریرۃ  ،  الحدیث : ۸۷۶ ، ص۱۸۱۔

[5]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد  ،  کلام ابن مسعود  ،   الحدیث : ۱۸ ،  ج۸ ، ص۱۶۰۔

[6]    اصحابِ یمین اہلِ جنت کاایک گروہ ہے جس کاذکرقرآنِ پاک میں   سورۂ واقعہ کے اندر ہے ،  اس کا ترجمہ کنز الایمان سے پیش کیا جاتا ہے  :  ’’اوردہنی طرف والے ( یعنی جن کے نامۂ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں   میں   دئیے جائیں   گے )  کیسے دہنی طرف والے ( یہ ان کی تعظیم شان کے لئے فرمایا کہ وہ بڑی شان رکھتے ہیں   سعید ہیں   جنت میں   داخل ہوں   گے )   بے کانٹوں   کی بیریوں   میں   اورکیلے کے گچھوں   میں   اور ہمیشہ کے سائے میں   اورہمیشہ جاری پانی میں   اور بہت سے میوؤں   میں   جونہ ختم ہوں   اورنہ روکے جائیں   اور بلند بچھونوں   میں  ۔بے شک ہم نے ان عورتوں   کواچھی اُٹھان اٹھایا تو انہیں   بنایاکنواریاں   ،  اپنے شوہروں   پرپیاریاں   ،  انہیں   پیاردلاتیاں   ،  ایک عمر والیاں  د ہنی طرف والوں   کے لئے۔‘‘اسی طرح مقربین بھی اہلِ جنت کاایک گروہ ہے جس کاتذکرہ بھی سورۂ واقعہ میں   ملتاہے۔ اس کا بھی ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ ترجمۂ کنز الایمان :  ’’اورجوسبقت لے گئے ( نیکیوں   میں   )  وہ تو سبقت ہی لے گئے ( دخولِ جنت میں   )  وہی مقرب بارگاہ ہیں   چَین کے باغوں   میں   ،  اگلوں   میں   سے ایک گروہ اور پچھلوں   میں   سے تھوڑے۔ جڑاؤ تختوں   پرہوں   گے ،  ان پرتکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے ان کے گرد لئے پھریں   گے ( آدابِ خدمت کے ساتھ ) ہمیشہ رہنے والے لڑکے  ( جونہ مریں   ،  نہ بوڑھے ہوں    ، نہ ان میں   تغیرآئے۔ یہاللہتعالیٰ نے اہلِ جنت کی خدمت کے لئے جنت میں   پیدا فرمائے ) کوزے اورآفتابے اور جام اورآنکھوں   کے سامنے بہتی شراب کہ اس سے نہ انہیں   درد  سرہو اورنہ ہوش میں   فرق آئے ( بخلاف شراب ِدنیا کے کہ اس کے پینے سے حواس مختِل ہوجاتے ہیں   )  اور میوے جوپسندکریں   اورپرندوں   کاگوشت جو چاہیں   اوربڑی آنکھ والیاں   حوریں    ( ان کے لئے ہوں   گی )  جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی ،  صلہ ان کے اعمال کا ، اس میں   نہ سنیں   گے نہ کوئی بے کار بات ،  نہ گنہگاری۔ ہاں  ! یہ کہناہوگاسلام سلام۔‘‘ ( ہلالَینبریکٹس brackets )  میں   لکھی ہوئی عبارات تفسیر خزائن العرفان از مفسِّرِقرآن ،  صدر الافاضل حضرت علامہ مولانامفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی سے لی گئی ہیں   )   ( کنز الایمان مع خزائن العرفان ،

Total Pages: 273

Go To