Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 407 ) … حضرت سیِّدُنااَبُوالْاَحْوَص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ بے شک قرآنِ پاک اللہعَزَّوَجَلَّ  کی ضیافت ہے لہٰذا اپنی طاقت کے مطابق اس کی

 

 ضیافت قبول کرو ( یعنی جس قدر ہوسکے اسے سیکھوکیونکہ ) جس گھر میں   اس کی تلاوت نہیں   ہوتی اس میں   کوئی بھلائی نہیں   ہوتی اور جس گھر میں   سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے شیطان وہاں   سے بھاگ جاتا ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 408 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن اَسود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  دل برتنوں   کی طرح ہیں   ۔ لہٰذا انہیں   قرآنِ پاک کے علاوہ کسی اور چیز سے نہ بھرو ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 409 ) … حضرت سیِّدُنا عَوْن بن عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ علم کثرتِ روایت سے نہیں   بلکہ خشیَّت الٰہی سے حاصل ہوتا ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 410 ) … حضرت سیِّدُناعَلْقَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اے لوگو !  علم سیکھو پھر اس پر عمل کرو ۔  ‘‘( [4] )

عالم اور جاہل دونوں   کے لیے ہلاکت:

 ( 411 ) … حضرت سیِّدُناعَدی بن عَدی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس نے علم حاصل نہیں   کیا اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ  چاہتا تو وہ ضرور حاصل کرتا اور اس کے لئے بھی ہلاکت ہے جس نے علم توحاصل کیامگراس پر عمل نہ کیا ۔  ‘‘  یہ بات آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے سات مرتبہ ارشاد فرمائی ۔    ( [5] )

 ( 412 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبنعُکَیْمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،  فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اس مسجدمیں   دائیں   ہاتھ سے اشارہ کرتے اور فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں   سے ہر ایک اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   اس طرح تنہا حاضر ہو گا جس طرح تم چودہویں   رات میں   چاندکے ساتھ تنہا ہوتے ہو پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ اے ابنِ آدم !  تجھے کس چیز نے مجھ سے فریب میں   رکھا ؟  اے ابنِ آدم !  تو نے مرسلین  ( عَلَیْہِمُ السَّلَام )  کی پیروی کیوں   نہ کی  ؟  اے ابنِ آدم  !  تو نے اپنے علم پر عمل کیوں   نہ کیا ؟  ‘‘   ( [6] )

عصیان سے نسیان :  

 ( 413 ) … حضرت سیِّدُناقاسِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  میں   سمجھتا ہوں   کہ آدمی جو علم حاصل کرتا ہے نافرمانی اسے بھلادیتی ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اہل وعیال کے معاملے میں   دنیا کی فضولیات سے دُوررہتے ۔  اپنے آپ پر،   اپنے دل کے حالات اور اس پر وارِد ہونے والے خطرات پر روتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ نعمت ایمان کی دولت کی وجہ سے اس کی رحمت پر اُمید رکھتے تھے ۔  ‘‘

            اصحابِ تصوُّف فرماتے ہیں  : ’’  خوف وامیدکے ساتھ نفس کو نجات پر اُبھارنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

مسلمان کے لئے تحفہ:

 ( 414 ) … حضرت سیِّدُنا اَبوجُحَیْفَۃرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دنیا کا خالص حصہ چلا گیا اور گدلا حصہ بچ گیا ۔ پس اب موت ہر مسلمان کے لئے تحفہ ہے ۔  ‘‘    ( [8] )

 ( 415 ) … حضرت سیِّدُنا اَبوجُحَیْفَۃ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ دنیاپہاڑکے سائے میں   واقع تالاب کی مانند ہے



[1]    المصنف لعبد الرزاق ،  کتاب فضائل القرآن  ،   باب تعلیم القرآن وفضلہ  ،   الحدیث : ۶۰۱۸ ، ج۳ ، ص۲۲۵۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد  ،  کلام ابن مسعود  ،  الحدیث : ۳۶ ،  ج۸ ، ص۱۶۲۔

[3]    الزہد للامام احمد بن حنبل  ،    فی فضل ابی ہریرۃ  ،  الحدیث : ۸۶۷ ، ص۱۸۰۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  کلام ابن مسعود ،   الحدیث : ۳۲ ،  ج۸ ،  ص۱۶۱ ، ’’العلم‘‘بدلہ ’’تعلموا

Total Pages: 273

Go To