Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 399 ) … حضرت سیِّدُنا ابوبَخْتَرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ لوگوں   نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِ مُجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے بارے میں   پوچھا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’  تم کس صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   پوچھتے ہو ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا:  ’’  ہمیں   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   بتائیں   ۔  ‘‘  توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا :   ’’ وہ قرآن و سنت کے عالِم ہیں   اور علم میں   وہی کافی ہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 400 ) … حضرت سیِّدُناابوبَخْتَرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   پوچھا گیا تو فرمایا:  ’’ انہوں   نے قرآنِ مجید کی تلاوت کی اور اس میں  اس قدر غور وفکر کیا کہ یہ انہیں   کفایت کرگیا ۔  ‘‘    ( [2] )

اِرشاداتِ ابنِ مسعود :  

            حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ارشادات جو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ان حالات پرمشتمل ہیں   جن کی بدولت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  آفات سے محفوظ رہے اور اوقات میں   برکات حاصل ہوئیں   ۔  ‘‘

            علمائے تصوُّف فرماتے ہیں   کہ ’’  منازل کی درستی کے لئے معاملہ کو صحیح رکھنے کا نام  تصوُّف ہے ۔  ‘‘

حافظِ قرآن کو کیساہونا چاہیے  ؟

 ( 401 ) … حضرت سیِّدُنا مُسَیَّب بن رَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  حافظ قرآن کو چاہیے کہ جب لوگ سو رہے ہوں   تووہ اپنی رات کی حفاظت کرے  ( کہ اس میں   جاگ کر قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عبادت کرے ہر گز اسے غفلت میں   نہ گزارے )   ۔ جب لوگ کھاپی رہے ہوں   تووہ اپنے دن کا خیال ( یعنی روزہ )  رکھے ۔ جب لوگ خوش ہو رہے ہوں   تووہ اپنے غم کو یاد کرے ( یعنی فکر ِ آخرت کرے )  ۔ جب لوگ ہنس رہے ہو ں   تووہ آنسو بہائے ۔ جب لوگ باہم مل جل رہے ہوں   تووہ خاموش رہے اور جب لوگ تکبر کاشکار ہوں   تووہ خشوع وخضوع اختیار کرے ۔ نیزحافظِ قرآن کو چاہیے کہ وہ رونے والا،  غمزدہ ،   حکمت و بردباری،   علم واطمینان والاہو ۔ اوراسے چاہیے کہ وہ خشک رو،   غافل،   شور مچانے والا،  چیخ و پکار کرنے والانہ ہو اورنہ ہی سخت مزاج ہو ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 402 ) …  حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن وَثَاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناا بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ مجھے فارغ شخص نا پسندہے کہ جونہ تودُنیا کے کسی کام میں   مصروف ہواور نہ ہی آخرت کے کسی عمل میں   مشغول ہو ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 403 ) … حضرت سیِّدُنا مُسَیَّب بن رَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ مجھے ایسے شخص سے سخت نفرت ہے،   جو نہ تودنیاکے کسی کام میں   مگن ہو اورنہ ہی اسے آخرت کی کچھ فکرہو  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 404 ) … حضرت سیِّدُناخَیْثَمَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  لَا اُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ جِیْفَۃَ لَیْلٍ قُطْرُبَ نَہَارٍ یعنی: میں   تم میں   سے کسی کو ہرگز ایسے شخص کی طرح نہ پاؤں   جو رات بھر بے جان لاشے کی طرح پڑا رہتااوردِن بھر دنیا کمانے کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے  ( جبکہ اسے آخرت کی بالکل فکر نہیں   ہوتی )  ۔  ‘‘    ( [6] )

            حضرت سیِّدُنا اِبنِ عُیَیْنَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ ’’ قُطْرُب سے مراد وہ شخص ہے جو اِدھراُدھر بیٹھ کر اپنا وقت برباد کرتا ہے ۔  ‘‘

 ( 405 ) …  حضرت سیِّدُنا مُرَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ جب تک تم نماز میں   مشغول رہتے ہو تو گویا ایسے ہو جیسے بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہو اور جو بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹاتارہتا ہے اس کے لئے دروازہ کھول ہی دیا جاتا ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

جب ’’    یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا   ‘‘  سنو !

 ( 406 ) …  حضرت سیِّدُنا مَعْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ جہاں   تک ہو سکے با وضو رہاکرو اور جب اللہعَزَّوَجَلَّ کا فرمان :   ’’  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا  ‘‘  ( اے ایمان والو !  )   سنو تو اپنے کانوں   کو اس کی طرف لگا دو کیونکہ اس میں   کسی بھلائی کا حکم یا کسی برائی سے ممانعت ہوتی ہے ۔  ‘‘     ( [8] )

شیطان کوبھگانے کاقرآنی نسخہ:

 



[1]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  مشایخ شتی  ،  ج۲ ، ص۲۶۳۔

[2]    تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر ،   الرقم۳۵۷۳عبد اﷲ بن مسعود  ،  ج۳۳ ،  ص۱۴۳ ، ’’وقف‘‘بدلہ ’ ’قام‘‘۔

[3]    الزہد للامام احمد بن حنبل ،   فی فضل ابی ہریرۃ ،   الحدیث : ۸۹۲ ،  ص۱۸۳۔

                المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد  ،  باب ما قالوا فیالخ  ،  الحدیث۶۳ ، ج۸ ،  ص۳۰۵۔

[4] <



Total Pages: 273

Go To