Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کے پاس گئے اور فرمایا :   ’’ جو دُعا تم ابھی مانگ رہے تھے،   مجھے بتاؤ  !  ‘‘ تو حضرت سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ میں   نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و بزرگی بیان کی پھریہ  دعاکی :   

                لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ وَعْدُکَ حَقٌّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ،   اَلْجَنَّۃُ حَقٌّ،   وَالنَّارُحَقٌّ،   وَرُسُلُکَ حَقٌّ،   وَکِتَابُکَ حَقٌّ،   وَالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌصَلَّی اللہ تَعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْحَقٌیعنی:  یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں   ،  تیراوعدہ سچاہے  ۔  تیری ملاقات حق ہے  ۔  جنت ودوزخ حق ہے ۔  تیرے رسول سچے ،   تیری کتاب سچی اور تیرے انبیاء بر حق ہیں   اور حضورنبی ٔاَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بھی سچے ہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 392 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،  نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ عبد اللہ بن مسعود ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کے عہد کو لازم پکڑلو ۔  ‘‘    ( [2] )

سرکارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے 14رُفقا :  

 ( 393 ) …  امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  ہر نبی  کو 7،   7 باوفا رفیق ووزیر عطا ہوئے،   جبکہ مجھے 14عطا فرمائے گئے ہیں :  امیر حمزہ،   جَعْفَر،   علی ،   حسن،   حسین ،   ابوبکر،   عمر،   عبداللہبن مسعود،   ابو ذَر،   مقداد،   حُذَیفہ ،   عَمَّار ،  سلمان اوربلال ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا مسیب بن نَجِیَّہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے اسی حدیث کی مثل روایت کیا ہے ۔  اور ان کی روایت میں  ’’ رُفَقا ‘‘  یا ’’ رُقَبائ ‘‘  کا لفظ ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 394 ) … حضرت سیِّدُناابوالْاَحْوَصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،   فرماتے ہیں  : جب حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاوصال ہواتو میں   حضرتِ سیِّدُنا ابو موسیٰ اورحضرتِ سیِّدُنا ابو مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی بارگاہ میں   حاضر تھا ۔  ان میں   سے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے :   ’’ کیا تمہارے خیال میں   حضرت عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے جیسا کوئی شخص چھوڑا ہے ؟  ‘‘  دوسرے نے کہا :  ’’  اگر ایسی بات ہے تو سنو !  جب ہمیں   بارگاہِ نبوی عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   حاضری سے روک دیا جاتاتوانہیں   حاضر ی کی اجازت ہوتی تھی اور جب ہم غائب ہوتے تو یہ بارگاہ ِنبویعَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   حاضر ہوتے تھے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 395 ) … حضرت سیِّدُنا زَید بن وَہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں  :  میں   حضرت سیِّدُنا حُذَیفہ اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں   سے ایک نے دوسرے سے پوچھا :   ’’ کیا آپ نے حضور نبی ٔکریم،   ر َء ُ وفٌ رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فلاں   فلاں   حدیث سنی ہے ؟  ‘‘  دوسرے نے نفی میں   جواب دیتے ہوئے پوچھا:  ’’ کیا آپ نے سنی ہے ؟  ‘‘  تو پہلے نے کہا :  ’’  میں   نے تو نہیں   سنی،   البتہ اس گھر والے کا دعویٰ ہے کہ اس نے وہ حدیث سنی ہے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کہا :  ’’  تو ان کی بات سچ ہے ۔  کیونکہ جب ہمیں   بارگاہِ نبویعَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   حاضری سے روک دیا جاتا تھا تو اس وقت بھی انہیں   داخلے کی اجازت ہوتی تھی اور جب ہم غائب ہوتے تو یہ حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربار میں   حاضر رہتے تھے  ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’  اس ( گھر والے )  سے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمراد ہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاعلمی مقام:

 ( 396 ) … حضرت سیِّدُنا زَید بن وَہْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتشریف فرما تھے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی وہاں  آگئے انہیں   دیکھ کر امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’  یہ کیسا کامل فقیہ ہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 397 ) …  حضرت سیِّدُنا ابوعَطِیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں   سے فرمایا: ’’ جب تک سیِّدعالم،  نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی ومتبحرعالِم یعنی حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہمارے درمیان موجود ہیں   ہم سے کوئی مسئلہ دریافت نہ کیا کرو ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 398 ) … حضرت سیِّدُناعامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ جب تک یہ متبحر عا لِم یعنی حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتمہارے درمیان موجود ہوں   مجھ سے کوئی مسئلہ دریافت نہ کیا کرو ۔  ‘‘  ( [8] )

 



[1]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۸۴۱۸ / ۸۴۱۹ ، ج۹ ، ص۶۸۔

[2]    جامع الترمذی ،  ابواب المناقب ،  باب مناقب عبد اﷲ بن مسعود ،   الحدیث : ۳۸۰۵ ، ص۲۰۴۳۔

[3]    جامع الترمذی ،   ابواب المناقب  ،  باب اَن الحسن والحسینالخ ،   الحدیث : ۳۷۸۵ ، ص۲۰۴۱۔