Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 384 ) …  حضرت سیِّدُنا قاسم بن عبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   چھٹے نمبر پر اسلام لایا اور اس وقت سوائے ہم چند افراد کے کوئی مسلمان نہ ہوا تھا ۔  ‘‘    ( [1] )

مقربِ بارگاہِ الٰہی :  

 ( 385 ) … حضرت سیِّدُناابو وَائل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی موجودگی میں   حضرت سیِّدُناحُذَیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے ہوئے سناکہ ’’   حضراتِ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   سے جنہیں   حفظِ قرآن کریم کی سعادت ملی ان میں   حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہیں   جوبروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقربین وبرگزیدہ بندوں   میں   ہوں   گئے ۔  ‘‘    ( [2] )     

 ( 386 ) … حضرت سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  قیامت کے دن صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنمیں   سے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن مسعو د رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاللہعَزَّوَجَلَّکے سب سے زیادہ مقرب بندے ہوں   گے ۔  ‘‘   ( [3] )

اُحد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی:

 ( 387 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن یزید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں  کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا کہ ’’   ہمیں   کسی ایسے شخض کے بارے میں   بتائیں   جو ہدایت و سنت میں   سرکارِمدینہ ،  قرارقلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب ہو تاکہ ہم اس کی صحبت کو لازم کرلیں   ۔  ‘‘  توحضرت سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ میں   حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے زیادہ ہدایت و سنت کی اتباع کرنے والے کسی شخص کو نہیں   جانتا کیونکہ حفاظ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   سے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بروزِ قیا مت اللہعَزَّوَجَلَّکے سب سے زیادہ مقرب بندے ہوں   گے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 388 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،   فرماتے ہیں : میں   پیلوکے درخت سے حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے مسواک توڑا کرتا تھا  ۔  ایک مرتبہ تیزہوا کی وجہ سے میری پنڈلیوں   سے کپڑا ہٹ گیا اور لوگ میری کمزور و پتلی پنڈلیاں   دیکھ کر ہنسنے لگے ۔  حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہنسنے کی وجہ دریافت فرمائی  ؟ تو لوگوں   نے عرض کی :  ’’  ان کی کمزورو پتلی پنڈلیاں   دیکھ کر ہمیں   ہنسی آگئی ۔  ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  یہ میزان میں   اُحد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں    ۔  ‘‘   ( [5] )

قبولیتِ دُعاکی بشارت :  

 ( 389 ) … حضرت سیِّدُنا ابواِسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاق   فرماتے ہیں : ’’  میں   نے حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے سنا وہ اپنے والد حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ وہ رات میں   نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس سے حضور نبی ٔ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا گزر ہوا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’ مانگو تمہیں   عطا کیا جائے گا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’  ( یہ سن کر )  میں   حضرت عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف گیا  ( اورانہیں   یہ خوشخبری سنائی )  تو انہوں   نے کہا :  ’’  میری ایک دُعا ہے جسے میں   ضرور مانگوں   گااور وہ یہ ہے :  اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ اِیْمَانًالَایَبِیْدُ وَنَعِیْمًالَایَنْفَدُ وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْقَطِعُ،   وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ اَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْد ( راوی کو اس میں   شک ہے کہ ’’  لَا یَبِیْدُ ‘‘ کہا تھا یا ’’  لَا تَبِیْدُ ‘‘  ) یعنی: یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں  تجھ سے ایمانِ کامل اوراَزلی نعمتوں   کا سوال کرتا ہوں   اور آنکھوں   کی ایسی ٹھنڈک کاطلبگار ہوں  جوکبھی ختم نہ ہو اور جنّت الفردوس میں   حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس مانگتا ہوں ۔  ‘‘    ( [6] )

( 390 ) … حضرت سیِّدُنا عَوْن بن عبداللہبنعُتْبَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دُعا مانگ رہے تھے کہ حضورنبی ٔرحمت،  شفیعِ اُمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے پاس سے گزرے،   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی ساتھ تھے ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی دُعا سنی تو فرمایا :   ’’ یہ کون دُعا مانگ رہا ہے ؟ مانگے،   اسے دیاجائے گا ۔   ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ان



[1]    المصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب التأریخ ،  باب کتاب التأریخ ،  الحدیث : ۲۴ ، ج۸ ، ص۴۳۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۴۸۸ ، ج۹ ، ص۸۸۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۴۸۱ ، ص۸۸۔

[4]    مسند ابی داودالطیالسی ،  احادیث حذیفۃ بن الیمان ،  الحدیث : ۴۲۶ ، ص۵۷۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث