Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 377 ) … حضرت سیِّدُنا اَبوخُمَیْربن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ ’’ مَیں   نے سرکارِ مدینہ ،   قرارِقلب وسینہ ،  فیض گنجینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قرآنِ مجید کی 70 سورتیں   یاد کیں    ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت زَید بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کم سن بچے تھے اور میں   نے حضورنبی ٔ پاک ،  صاحبِ لولاک،  سیاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان مبارَک سے جو سناہے اُسے دہراتا رہتا ہوں   ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 378 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو سَعْد اَزْدِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’  میں   نے حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مقدَّس زبان سے 70 سورتیں   یاد کی تھیں   اور یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ حضرت زَید بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ابھی اسلام سے مشرَّف نہیں   ہوئے تھے اور وہ بچوں   کے ساتھ کھیلاکرتے اور ان کے بالوں   میں   گرہیں   لگی ہوتی تھیں    ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 379 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ مَیں   ابھی کم سن بچا تھا اور مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْْمًامیں   عُقْبَہ بن ابی مُعِیْط کی بکریاں   چرایا کرتا تھا ۔  ایک دن حضورنبی ٔ رحمت ،   شفیعِ امت،   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا :   ’’  اے لڑکے !  تمہارے پاس دودھ ہو تو ہمیں   پلاؤ ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی: ’’  یہ بکریاں   تو میرے پاس کسی کی امانت ہیں  اس لئے میں   ایسا نہیں   کر سکتا  ۔  ‘‘  توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا تمہارے پاس کوئی کم سن بکری ہے جس سے نَر نے جفتی نہ کی ہو ؟  ‘‘  میں   نے خدمت بابرکت میں   حاضر کردی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  نے اسے پکڑا اورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُعا پڑھ کر اپنے رحمت بھرے ہاتھوں   سے اس کے تھنوں   کو مَس فرمایاتو وہ دودھ سے بھر گئے ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دودھ دوہا ۔  خود بھی نوش فرمایا اورامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی پلایا ۔  پھر تھنوں   سے فرمایا: ’’  اپنی پہلی حالت پر لوٹ آؤ ۔  ‘‘  یہ حکم پاتے ہی تھن پہلی حالت پر لوٹ آئے ۔  ( یہ دیکھ کر )  میں   نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے بھی اس پاکیزہ کلام سے کچھ سکھادیجئے  ۔  ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ تم خدا داد صلاح وخیر کے مالک ہو ۔  ‘‘ فرماتے ہیں : ’’  مَیں   نے بعد میں   حضور ،  سراپا نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ مُقَدَّس سے 70سورتیں   حفظ کیں   جن میں   مجھ سے کوئی مقابلہ نہیں   کر سکتا تھا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 380 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  لوگوں   پر تعجب ہے کہ وہ میری قراء َت چھوڑ کر حضرت زَید بن ثابِت  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کی قرا ء ت کے مطابق تلاوت کرنے لگے ہیں   حالانکہ میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان مبارَک سے 70سورتیں   یاد کی ہیں   اور یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ حضرت زَید بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہابھی بچے تھے اور بال لٹکائے مدینۂ منوَّرہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی گلیوں   میں   گھوما کرتے تھے اوربالوں   میں   گانٹھیں   لگی ہوتی تھیں   ۔  ‘‘   ( [4] )

٭٭٭٭٭٭

سَیِّدُنَاعَبْدُاللّٰہ بن مَسْعُوْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خصوصیات

گھرمیں   داخلے کی خصوصی اجازت:

 ( 381 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن یزید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے بتایاکہ حضورنبی ٔاکرم،  نورِمجسَّم،  شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشادفرمایا:  ’’ تجھے  پردہ اٹھا کرگھرمیں   آنے جانے اورمیری باتیں   سننے کی اجازت ہے جب تک کہ میں   تجھے اس سے منع نہ کر دوں   ۔  ‘‘   ( [5] )

 تکیہ ومسواک والے :  

 ( 382 ) … حضرت سیِّدُنا عَلْقَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ میں   ایک مرتبہ ملکِ شام گیا اور حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مجلس میں   جا کر بیٹھ گیا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ’’ کہاں   سے آئے ہو ؟   ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ کوفہ سے ۔  ‘‘ فرمایا :   ’’ کیا تمہارے درمیان صَاحِبُ الْوِسَادَۃ وَالسِّوَاک ( یعنی تکیہ اورمسواک والے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   نہیں   ہیں   ؟   ‘‘     ( [6] )

 ( 383 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن شداد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  شمعِ رسالت ،  مصطفی جانِ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تکیہ مبارَک،   مسواک اور نعلین شریفین اُٹھایاکرتے تھے ۔  ‘‘    ( [7] )

اسلام قبول کرنے میں   سبقت:

 



[1]    مسند ابی داودالطیالسی ،  مااسند عبد اﷲ بن مسعود ،  الحدیث : ۴۰۵ ، ص۵۴۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۴۳۹ ، ج۹ ، ص۷۵ ، ’’الغلمان‘‘بدلہ ’ ’الصبیان‘‘۔

[3]    مسند ابی داؤد الطیالسی ،  مااسند عبد اﷲ بن مسعود ،  الحدیث : ۳۵۳ ، ص۴۷۔

[4]

Total Pages: 273

Go To