Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

راضی ہوجا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ’’ یہ رات کاواقعہ ہے اوراللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  میں   یہ خواہش کرتا تھا کہ کاش  ! ان کی جگہ میں   ہوتا اور میں   ان سے 15 بر س قبل اسلام لایا تھا ۔   ‘‘   ( [1] )

کاش ! اِن کی جگہ مَیں   ہوتا :  

 ( 373 ) … حضر ت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں   کہ میں   غزوۂ تبوک میں   رحمتِ عالم ،   نورِمجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر تھا  ۔  آدھی رات کے وقت اُٹھاتو لشکر کے ایک کونے میں   آگ کا شعلہ دکھائی دیا ،   میں   اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں   پہنچا تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،   امیرالمؤمنین حضر ت سیِّدُنا ابوبکر صدیق اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا وہاں  موجود تھے جبکہ حضر ت عبداللہ ذُوالْبِجَادَیْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوفات پاچکے تھے  ۔ ان کے لئے قبر تیا ر کی گئی اورآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر کے اندرتشریف لے گئے جبکہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق اورحضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ،   حضرت عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو قبر میں   اتار رہے تھے اورحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرما رہے تھے :   ’’  اپنے بھائی کو میری طرف سے اُتا رو ۔  ‘‘ پس انہوں   نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان پر عمل کیا ۔

           تدفین سے فراغت کے بعدحضور نبی ٔ اکرم،  نورِمجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے حق میں   ہاتھ اٹھاکر یہ دُعا فرمائی:  ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   اس سے راضی ہوں   توبھی اس سے راضی ہو جا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ’’  کاش ! ان کی جگہ میں   ہوتااور پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رحمت بھرے ہاتھوں   سے قبر میں   اُتاردیا جاتا ۔   ‘‘    ( [2] )

بعض صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوان کا ذکرِخیر

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں :  ’’  اس طبقہ کے کثیر عارفین ،   زاہدین وعابدین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا ذکر ہم سے رہ گیا ہے جنہوں   نے رسولِ پاک،   صاحبِ لولاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ اَقدس میں   وفات پائی ان میں   سے بعض کے اسمائے گرامی بیان کئے گئے ہیں   جیسے حضرت سیِّدُنازَید بن دَثِنَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجو اپنے رُفقا سمیت مقامِ ’’ رجیع ‘‘  پر شہید ہوئے،   حضرت سیِّدُنا مُنذِر بن عمر و بن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیِّدُناحَرَام بن مِلْحَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجوبِئْرِ مَعُوْنَہ  کے مقام پرشہیدہوئے،  ان کے احوال بے شمارہیں  ،  بعض احوال ہم نے اپنی کتاب ’’ اَلْمَعْرِفَۃ ‘‘ میں   ذکر کئے ہیں   یہ حضرات اس حال میں    دنیا سے رخصت ہوئے کہاللہعَزَّوَجَلَّ  ان سے راضی اور وہ اللہعَزَّوَجَلَّسے راضی تھے اور جو اللہعَزَّوَجَلَّ نے بطو ر آزمائش انہیں   دنیاوی شادابی عطا فرمائی تواس سے ان کا دامن محفوظ رہااور وہ سلامتی کے ساتھ اپنے پیارے مولیٰ  عَزَّوَجَلَّکے حضور حاضر ہوگئے اور ( یاد رکھو !  )  جو ان کے راستے پر چلا اور ان کی سنت کو اپنا یا وہ نجات پاگیا  ۔  ‘‘

70قراء صحابہ رَضِیَ اللہ عَنْہُم کی شہادت:

 ( 374 ) …  حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ عرب کے تین قبائل رِعْل،   ذَکْوَان اورعُصَیَّہ کے لوگوں  نے حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہو کر اپنی قوم کے خلاف مدد طلب کی توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انصار کے اُن70 صحابہ  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  کو مددکے لئے روانہ فرمایاجو مشہور قراء  ( یعنی قرآن کے قاری  ) تھے  ۔ اور یہ قراء صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  ( گزر اوقات کے لئے  ) دن کو لکڑیاں   اکٹھی کرتے اور رات کونمازمیں   مشغول رہتے ۔ جب یہ سب بِئْرِمَعُوْنَہکے مقام پر پہنچے تو لے جانے والوں   نے دھوکا دہی اور منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان قراء صحابۂ کرام  رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو شہید کر دیا ۔ جب حضور نبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس واقعہ کی خبر ملی توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک ماہ تک نمازِ فجر میں   ان کے خلاف دعائے قنوت پڑھی ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ ہم ان کے بارے میں   یہ آیت تلاوت کیاکرتے تھے :   بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا اِنَّا لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَاَرْضَانَاترجمہ :   ہماری طر ف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں   پس وہ ہم سے راضی ہے اور ہمیں   اس نے راضی کردیا ۔  پھر یہ آیت ہم کو بھلادی گئی ( یعنی منسوخ ہوگئی )  ۔ ‘‘   ( [3] )

 ہرروزکفارکے خلاف دُعا :  

 ( 375 ) …  حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ ’’  انصار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم میں   سے70 کا حال یہ تھا کہ جب رات ہوتی تو مدینہ طیبہ میں   اپنے مُعَلِّم ( یعنی استاذ )  کے پاس چلے جاتے اور ساری رات قرآن پاک سیکھنے میں   گزار دیتے اوردن میں   جو طاقتورتھے وہ لکڑیاں   جمع کرتے اور پانی بھرکر لاتے اور صاحب ِحیثیت بکریاں  چرا کر گزر بسر کرتے  ۔ اور صبح ہوتے ہی اپنے محبوب آقا ،   دوعالم کے داتا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حجرۂ مبارَکہ کے قریب جمع ہو جایا کرتے ۔  پھر جب حضرت سیِّدُناخُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کردیا گیا توحضور سیِّدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا بدلہ لینے کے لئے ان اصحاب کو روانہ فرمایا ۔  ان میں   میرے ماموں   حضرت سیِّدُناحَرَام بن مِلْحَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی تھے ۔  جب یہ لوگ ’’ بَنُوسُلَـیْم  ‘‘  کے ایک قبیلہ کے پاس پہنچے تو حضرت سیِّدُناحَرَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے لشکر کے امیر سے کہا:  ’’ ہم انہیں   یہ بتا دیتے ہیں   کہ ہماری تمہاری کوئی دشمنی نہیں   ہے اس لئے



[1]    المغنی لابن قدامۃ  ،  کتاب الجنائز ،  فصل فأماالدفن لیلا ،  ج۳ ، ص۵۰۳۔

[2]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  غزوۃ تبوک فی رجب سنۃ تسع ،  کتاب رسول اﷲلصاحب أیلۃ ،  ص۵۱۹۔

[3]    صحیح البخاری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ الرجیع الخ ،  الحدیث : ۴۰۹۰ ، ص۳۳۵۔



Total Pages: 273

Go To