Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جنگ ِ بدر میں   شرکت نہ کر سکے ۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ زَادَھَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاتشریف لائے تو فرمایا :  ’’  مَیں   پہلے معرکۂ حق وباطل میں   اللہعَزَّوَجَلَّکے محبوب،   دانائے غُیُوب،   منزہٌ عن العُیُوب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک نہیں   ہو سکا لیکن اب اگر اللہعَزَّوَجَلَّمجھے کفار سے جنگ کا موقع عطا فرمائے گا تو میں   اس کے فضل و کرم سے اس کی تلافی کروں   گا ۔  ‘‘  پھر اُحد کے دن جب ابتداً مسلمان پیچھے ہٹنے لگے تو حضرت سیِّدُنا اَنَس بن نَضْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   عرض کی :   ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  ان مشرکین نے جو کچھ کیا میں   اس سے بری ہوں  اورمسلمانوں   سے جو معاملہ سرزد ہوا اس کی معافی طلب کرتا ہوں   ۔  ‘‘ پھر تلوار پکڑی اور کفار کی طرف بڑھ گئے،   راستے میں   حضرت سیِّدُنا سعد بن مُعَاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے ملاقات ہوئی تو فرمایا :   ’’ اے سَعْد !  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  مجھے اُحد کی طرف سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے ۔ واہ !  جنت کی خوشبو کتنی پاکیزہ ہے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا سَعْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضور نبی ٔ رحمت ،   شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  مجھے نہیں   معلوم کہ اس کے بعد ان پر کیا بیتی ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’ جنگ کے بعدہم نے انہیں   تلاش کیا توشُہَدا میں   پایا اور ان کی بہن نے انہیں   انگلیوں   سے پہچانا کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسم پر تلوار ،   تیراور نیزے کے80 سے زائد زخم تھے اور دُشمنوں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا مُثلہ کر دیا تھا ( یعنی کان ،   ناک واعضاء وغیرہ کاٹ دیئے تھے )  ۔  ‘‘

             حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : جب یہ آیتِ مبارَکہ نازل ہوئی :  

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ- (  پ۲۱،  الاحزاب :  ۲۳ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  مسلمانوں   میں   کچھ وہ مرد ہیں   جنہوں   نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیاتھا ۔

            تو ہم کہا کرتے تھے کہ ’’  یہ آیت مبارَکہ حضرت سیِّدُنا اَنَس بن نَضْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور ان کے رُفقا کے بارے میں   نازل ہوئی ہے ۔   ‘‘ ( [1] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سَیِّدُ نا عبداللّٰہ ذوالْبِجَادَیْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا عبداللہذُوالْبِجَادَیْن  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( [2] ) فکرآخرت میں   مستغرق رہا کرتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے ۔  دنیا سے کِنارہ کَش رہتے ۔ اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدَناابوبکر صدیق اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدَنا عمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھائی چارہ قائم کرنے والے تھے ۔  نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ رسولوں   کے سالار،  نبیوں   کے سردار،  مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود اپنے پیارے پیارے مبارَک ومقدس ہاتھوں   سے انہیں   قبر میں   اُتارا اور ان کی وفات پر آنسوبہائے ۔

 سیِّد ِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبرمیں   اُتارا :  

 ( 371 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں   کہ حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس حضرت عبداللہ  ذُوالْبِجَادَیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی قبرمیں   رات کے وقت داخل ہوئے،  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے چراغ جلایا گیا پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو قبلہ کی جانب سے قبر میں   اُتارا،  نمازِ جنازہ بھی خود ہی پڑھائی اور پھران کے حق میں   یہ دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّتم پر رحم فرمائے  !  تم بہت توبہ کرنے والے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے تھے ۔   ‘‘   ( [3] )

 یااللہعَزَّوَجَلَّ !  تُو اس سے راضی ہوجا :  

 ( 372 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ مَیں   نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب،   حبیبِ لبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غزوۂ تبوک میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہذُوالْبِجَادَیْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی قبر میں   دیکھا  ۔ اس وقت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی حاضرتھے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سے فرما رہے تھے:  ’’ اپنے بھائی کو میری طرف لاؤ ۔  ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   قبلہ کی طرف سے قبر میں   اُتارا اورخود باہر تشریف لے آئے اور بقیہ کام امیرالمؤمنین حضر ت سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے سِپُردفرمایا ۔  تدفین سے فارغ ہو کرحضورنبی ٔ رحمت،   شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبلہ رُو ہو کرہاتھ بلندکئے اوریہ دعافرمائی :   ’’  یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   اس سے راضی ہوں   تُوبھی اس سے



[1]    السنن الکبرٰی للبیہقی ،  کتاب السیر ،  باب من تبرع بالتعرضالخ ،  الحدیث : ۱۷۹۱۷ ، ج۹ ، ص۷۵۔

[2]    ذُوالْبِجَادَیْنکا معنی ہے ،  دو چادروں   والا۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   آنے لگے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ نے آپ کو بالوں   سے بنی ایک چادر دی  ، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے دوٹکڑے کئے ایک کی چادر اور دوسرے کا ازار بنایا۔جب سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ذُوالْبِجَادَیْن کا لقب عطا فرمایا۔ ( معرفۃ الصحابۃ ،  باب الذال من باب العین ،   ج۳ ، ص۱۳۵ )  

[3]    جامع الترمذی ،  ابواب الجنائز ،  باب ماجاء فی الدفن باللیل ،  الحدیث : ۱۰۵۷ ، ص۱۷۵۳۔



Total Pages: 273

Go To