Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کے جسم پر تیرو ں   اورنیز وں   کے 90 سے زائدزخم تھے اور یہ وہ زخم تھے جو جسم کے اگلے حصہ پر تھے ۔   ‘‘ ( [1] )

 ( 364 ) … حضر ت سیِّدُناابن عبادبنعبداللہ بن زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ میرے رضاعی والد  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جو غزوۂ موتہ میں   شریک ہوئے تھے مجھے بتایا :   ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   دیکھ رہا تھا کہ حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے گھوڑے سے اُتر ے اور اس کی کُونچیں   ( یعنی ٹخنوں   کے اُوپر کے موٹے پٹھے )  کاٹ کر اسے ناکارہ کر دیا  ( تاکہ اسے دشمن استعمال نہ کر سکے )  پھر جہاد میں   مصروف ہوگئے یہاں   تک کہ شہید ہو گئے ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناابن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاقبیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہلڑائی کے وقت یہ اشعار پڑھ رہے تھے :  

یَا حَبَّذَا الْجَنَّۃُ وَاقْتِرَابُھَا           طَیِّبَۃٌ وَبَارِدٌ شَرَابُھَا

وَالرُّوْمُ رَوْمٌ قَدْ دَنَا عَذَابُھَا       عَلَیَّ اَنْ لَاقَیْتُھَا ضَرَّابَھَا

ترجمہ :   ( ۱ ) … جنت کتنی پیاری جگہ ہے،   اس کا قرب پاکیزہ اور مشروب ٹھنڈا ہے ۔

                 ( ۲ ) …  یقینا اہلِ روم ہلاکت کے قریب پہنچ گئے  ۔  مجھ پر لازم ہے کہ ان سے اس حال میں   ملوں   کہ ان سے خوب قتال کروں   ۔  ‘‘   ( [2] )

حضرت سَیِّدُنَاعبدُاللّٰہ بن رَوَاحَہ اَنْصَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن رَوَاحَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہقرآنی آیات میں   غور وفکرکیا کرتے اور عَلم جہاداٹھانے میں   جلدبازی نہ کیا کرتے تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے  ( ملک ِشام کے ایک شہر )   بَلْقَاءکے مقام پر شہادت پائی  ۔  دنیا سے بے رغبتی اور آخرت میں   رغبت رکھتے تھے ۔

            عُلمائے تصوُّف فرماتے ہیں : ’’ مصیبتوں   اور پریشانیوں   پر صبر کرکے الفت و رضا کی منزلیں   طے کرنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

  پُل صراط سے گزرنے کاخوف :  

 ( 365 ) … حضرت سیِّدُناعروہ بن زُبَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ جب حضرت سیِّدُناعبداللہ بن رَوَاحَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہشام سے موتہ ( شہرِ بلقاء کے ایک قریبی گاؤں   میں   )  جانے لگے تو مسلمان انہیں   رخصت کرنے آئے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہرونے لگے  ۔  لوگو ں   نے وجہ دریافت کی تو فرمایا :   ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  مجھے دنیا سے محبت ہے نہ تم سے جدائی کا ڈر ،   لیکن میں   نے رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اللہعَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان سنا ہے جسے یاد کرکے رورہا ہوں : وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱)

  (  پ۱۶،  مریم :  ۸۱ )

  ترجمۂ کنزالایمان:  اور تم میں   کوئی ایسا نہیں   جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے ۔

            مجھے یہ تومعلوم ہے کہ میں   جہنم پرسے گزروں   گا لیکن یہ خبر نہیں   کہ اس سے نجات بھی پاؤں   گایا نہیں   ۔   ‘‘   ( [3] )

 ( 366 ) … حضرت سیِّدُناامام ابن شِہاب زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ موتہ روانگی سے کچھ دیر پہلے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن رَوَاحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو روتے دیکھ کر ان کے گھر والے بھی رونے لگے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   نہ توموت کے ڈر سے رو رہا ہوں   اور نہ ہی تمہاری جدائی کی وجہ سے بلکہ میں   تو اللہعَزَّوَجَلَّکے اس فرمان کو یاد کرکے رو رہا ہوں :  

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱) (  پ۱۶،  مریم :  ۸۱ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور تم میں   کوئی ایسا نہیں   جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے ۔

            کیونکہ مجھے یہ تویقین ہے کہ میں   جہنم پرسے گزروں   گا لیکن یہ خبر نہیں   کہ اس سے نجات بھی پاؤں   گا یا نہیں   ۔   ‘‘   ( [4] )

 فرش سے ماتم اُٹھے وہ طیِّب وطاہر گیا :  

 ( 367 ) …  حضرت سیِّدُنا عروہ بن زُبَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ جب مجاہدین کا قافلہ موتہ جانے کے  لئے تیار ہوگیا تو میں   نے لوگوں  سے کہا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّتمہارا ساتھ دے اور تم سے مصائب و تکالیف دور فرمائے ۔  ‘‘   ( یہ سن کر )  حضرت سیِّدُناعبداللہبن رَوَ احَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرمانے لگے:  

لٰکِنَّنِیْ اَسْاَلُ الرَّحْمٰنَ مَغْـفِـرَۃً             وَضَرْبَۃً ذَاتَ فَرْعٍ تَـقْذِفُ الزَّبَدَا

اَوْطَعْنَۃً  بِیَدَیْ حَرَّانَ  مُجَھَّزَۃً             بِحَرْبَۃٍ تَنْفُذُ الْاَحْشَاء وَالْکَبِدَا

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۴۶۴ ،  ج۲ ،  ص۱۰۷۔

                صحیح البخاری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ مؤتۃ من ارض الشام  ،  الحدیث : ۴۲۶۱ ، ص۳۴۹۔

[2]    سنن ابی داؤد ،  کتاب الجھاد ،  باب فی الدابۃالخ ،  الحدیث : ۲۵۷۳ ، ص۱۴۱۴۔

                السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  ذکر غزوۃ مؤتۃ فی جمادی الاولیالخ ،  ص۴۵۹۔

[3]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  ذکرغزوۃ مؤتۃ فی جمادی الاولی سنۃ ثمان ،  ص۴۵۷ ، مفہومًا۔

[4]