Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کے لئے رشوت لے سکتاہوں   اوراس نے مجھے لوگو ں   کا مطیع نہیں   بنایا کہ میں   اس کی نافرمانی میں   لوگو ں   کی اطاعت کروں   ۔  ‘‘  پس قریش کے دونوں   قاصد ناکام ونامراد لوٹے،   ان کے لائے ہوئے تحائف ان کے منہ پر مار دیئے گئے اور ہم نجاشی کے پاس اچھے گھر میں   بہترین ہمسائے کے پڑوس میں   قیام پذیر ہو گئے ۔   ‘‘   ( [1] )

دربارِنجاشی میں   تعظیم وتوقیر :  

 ( 358 ) …  حضرت سیِّدُنا عمر و بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( یہ اس واقعہ کے وقت تک اسلام نہیں   لائے تھے  )  سے مروی ہے کہ جب ہم نجاشی کے دروازے پر پہنچے تو میں   نے نِدادی کہ ’’ عمر و بن عا ص کو اندر آنے کی اجازت دی جائے ۔  اس وقت میرے پیچھے سے حضرت سیِّدُنا جَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آوازدی: ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکے گر وہ کو اندر داخل ہونے کی اجازت دی جائے ۔  ‘‘  نجاشی نے حضرت سیِّدُناجَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی آواز سنی تو انہیں   مجھ سے پہلے اندر داخل ہونے کی اجازت دی ۔  پھرجب میں   داخل ہوا تو دیکھا کہ نجاشی تخت پر بیٹھا تھا جبکہ حضرت سیِّدُنا جَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاس کے سامنے اور دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن اس کے گر د تکیہ لگائے بیٹھے تھے ۔  ‘‘ میں   نے

 

حضرت سیِّدُنا جَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بیٹھے دیکھا توحسد کی وجہ سے ان کے اور تخت کے درمیان بیٹھ گیا اور اُن کی طرف پیٹھ کر لی ۔  یونہی ہردو کے درمیان اپنا ایک ساتھی بٹھا دیا ۔   ‘‘   ( [2] )

تلاوت سن کررونے لگے:

 ( 359 ) … حضرت سیِّدُناابو بکر بن عبدالرحمن بن حارِث بن ہِشَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نجاشی نے حضرت سیِّدُناجَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بلوایا اور نصارٰی کو جمع کیا پھرآپ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کہاکہ ’’ انہیں   قرآن سنائیں    ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناجَعْفَر بن ابی طالب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان کے سامنے سورۂ مریم کی تلاوت کی جسے سن کر وہ رونے لگے  ۔ اورحضور نبی ٔکریم،   رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پریہ آیت کریمہ نازل ہوئی :  

تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّۚ   (  پ۷،  المائدۃ :  ۸۳ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  تو ان کی آنکھیں   دیکھو کہ آنسوؤں   سے اُبل رہی ہیں   اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے ۔  ( [3] )

مساکین کی خیرخواہی :  

 ( 360 ) …  حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ میں   نہ تو خمیری روٹی کھاتا اور نہ ہی ریشم پہنتا تھااور بھوک کی شدت سے میرا پیٹ سکڑ جاتاتھایہاں   تک کہ اگرمیں   کسی شخص کو قرآنِ مجید کی کوئی آیت سناتاجومجھے یاد ہوتی تواس سے مقصودیہ ہوتاکہ شاید وہ مجھے اپنے ساتھ لے جاکرکھاناکھلائے اور مسکینوں   کے سب سے زیادہ خیرخواہ حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتھے ۔  وہ ہمیں   اپنے ساتھ لے جاتے اور گھر میں   جو کچھ ہوتاہمیں   کھلا دیتے اوراگر کچھ نہ ہوتاتو گھی کا بر تن ( یعنی کپی )  ہمیں   دے دیتے اورہم اسے کھول کر اس میں   جوگھی لگاہوتا اسے چاٹ کر گزارا کر لیاکرتے ۔   ‘‘   ( [4] )

 ( 361 ) …  حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمساکین سے محبت فرماتے ان کی صحبت اختیارکرتے تھے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاُن سے گفتگو فرماتے اور  وہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے باتیں   کرتے اسی وجہ سے حضورنبی ٔاَکرم،  نور مُجسَّم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کی کُنْیَت ( [5] ) ’’  اَبُوالْمَسَاکِیْن ‘‘ رکھی ۔   ‘‘   ( [6] )

سَیِّدُناجَعْفَر بن ابی طالبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت کے متعلق روایات

70 سے زائد زخم:

 ( 362 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ مَیں   غزوۂ موتہ میں   حضرت سیِّدُنا جَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ہمراہ تھا ۔ جنگ کے بعدجب ہم نے انہیں   تلاش کیا تو ان کے جسم پرتیروں   اور نیزوں   کے 70 سے زائد زخم دیکھے ۔   ‘‘   ( [7] )

 ( 363 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ غزوۂ موتہ میں   حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکونہ پاکرتلاش کیاتوشُہَدا میں   ملے اور ان



[1]    المسند للامام احمد بن حنبل ،  حدیث جَعْفَر بن ابی طالب ،  الحدیث : ۲۲۵۶۱ ، ج۸ ، ص۳۴۹۔

[2]    البحرالزخارالمعروف بمسند البزار ،  مسندجَعْفَر بن ابی طالب ،  الحدیث : ۱۳۲۵ ، ج۴ ، ص۱۵۳۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب المغازی ،  باب ما جاء فی الحبشۃالخ ،  الحدیث : ۵ ، ج۸ ، ص۴۶۶۔

[4]    صحیح البخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب جَعْفَر بن ابی طالب ،  الحدیث : ۳۷۰۸ ، ص۳۰۳۔

[5]    ( کسی شخص کاایسانام جوعَلم اورلقب کے علاوہ ہواسیکُنْیَت کہتے ہیں  ۔جیسے اَبُوبِلَال ،  اُمِّ عَمَّاروغیرہ )  اس کے شروع میں   لفظ ’’اَبّ ،   اُمّ ،  اِبْن ،  بِنْت ،  اَخ ،  اُخْت‘‘میں   سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے۔ اس کااستعمال تین طرح ہوتاہے :   ( ۱ ) اس سے مقصودصاحبِ کنیت کی عظمت وشان کااظہار ہوتاہے اوریہ معززین کے لئے خاص ہے  ( ۲ ) ایسی چیز کاکنایہ ( یعنی اشارہ )  جس کانام لیناناپسنداوربراہو اسے بھی کُنْیَت