Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکے بارے میں   ہمارے آقاومولیٰ حضرت سیِّدُنا احمد مجتبیٰ،  محمدمصطفی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا عقیدہ وہی ہے جواللہعَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا ہے کہ وہ  رُوْحُ اللہ اورکَلِمَۃُ اللہہیں   ۔ اللہعَزَّوَجَلَّنے انہیں   کنواری مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پیدا فرمایا ،   جنہیں   نہ کسی مرد نے چُھوا اور نہ انہیں   کسی بچے کا گمان تھا ۔  ‘‘  یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اسے بلند کیا اور کہا :  ’’ اے پادریواوراے راہبو !  انہوں   نے بھی تو وہی کہا جو تم کہتے ہو کہ حضرت سیِّدَتُنا مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے برائی کا ارتکا ب نہیں  کیا ۔  ‘‘ پھرکہا :  ’’ اے مسلمانو !  خوش آمدید ! تمہیں   اور اس نبی  ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو جن کے پاس سے تم آئے ہو اور میں   گواہی دیتا ہوں   کہ وہ اللہعَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں   اوریہ وہی ہیں   جن کی بشار ت حضرت سیِّدُنا عیسیٰروح اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام نے دی تھی ۔  اگر میں   بادشاہ نہ ہوتا تو خود چل کر ان کی بارگاہ میں   حاضر ہوتا اور ان کے نعلینِ مبارَکین چومتا ۔ اے مسلمانو !  جب تک چاہو میری سلطنت میں   رہو ۔  ‘‘  اتنا کہنے کے بعدنجاشی شاہِ حبشہ نے اپنے خادموں   کو ہمارے لئے کھانا تیار کرنے اور ہمیں   لباس مہیا کرنے کا حکم دیا اور عمرو بن عاص وعُمَارَہ بن وَلِید کے تحائف ان کو واپس کرنے کا حکم جاری کردیا ۔   ‘‘   ( [1] )

دربارِشاہی میں   ایمان افروزبیان :  

 ( 357 ) … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُم سَلَمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا بیان فرماتی ہیں   کہ جب ہم مہاجرین کاقافلہ حبشہ کی سر زمین پر اترا تو ہم نے نجاشی کو بہترین پڑوسی پایا  ۔  وہاں  ہم اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتے رہے اور ہمیں   کوئی تکلیف پہنچی نہ ہم نے کوئی ناپسند یدہ بات سنی ۔ پھر جب قریش نیعبداللہبن ابی ربیعہ اور عمر و بن عاص کو تحائف دے کر نجاشی اوراس کے وزرا کی طرف بھیجاتو نجاشی نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو بلوایا ۔  جب نجاشی کا پیغام مسلمانوں   کو پہنچا تو وہ جمع ہوکر آپس میں   مشورہ کرنے لگے کہ ’’   نجاشی کے پاس جا کر کیا کہیں   گے  ؟  ‘‘  چنا نچہ،   وہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  ہم نجاشی سے وہی کہیں   گے جو ہم نے سیکھا اور جس کا ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا ہے پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا ۔  ‘‘

             جب مسلمان نجاشی کے دربار میں   پہنچے تواس نے اپنے عُلما کو پاس بٹھایا ہوا تھاجنہوں   نے اپنی آسمانی  کتابیں   کھول رکھی تھیں   ۔ نجاشی نے مسلمانوں  سے پوچھا :   ’’ وہ کون سا دین ہے جس کی وجہ سے تم اپنی قوم سے بچھڑ گئے ( یعنی ہجرت کر آئے )  نہ میرے دین میں   داخل ہوئے اور نہ ہی ان امتو ں   میں   سے کسی کا دین قبول کیا  ؟   ‘‘  مسلمانوں   کی طر ف سے حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے نجاشی سے گفتگو کی اور فرمایا :  ’’  اے بادشاہ  !  ہم جاہل تھے ۔  بتوں   کو پوجتے ،   مردار کھاتے اور فواحش کا اِرتکاب کرتے تھے ۔  قطع رحمی وامان کو تو ڑ نا ہمارا شیوہ تھا ۔  طاقتور،   کمزور کے حقوق غصب کرلیتے تھے ۔ ہم انہی گمراہیوں   میں   بھٹک رہے تھے کہ اللہعَزَّوَجَلَّنے ہمارے درمیان ایک رسول مبعوث فرمائے ۔  ہم ان کے نسب ،   سچائی ،   امانت داری اور پاکدامنی کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں   ۔  انہوں   نے ہمیں   اللہعَزَّوَجَلَّکی وحدانیت وعبادت کی طر ف بُلایا اورحکم دیا کہ ہم صرف ایک خدا کی عبادت کریں   اور اُن پتھروں   اور بتوں   کو چھوڑدیں   جن کی ہم اورہمارے آباء و اَجدادپر ستش کرتے تھے ۔ نیزہمیں  سچ بولنے،   امانت اداکرنے،  صلہ رحمی اورپڑوسی سے اچھا سلوک کرنے،  محارم سے بازرہنے اورخون ریزی سے رُکنے کا حکم دیا اور بے حیائی،   جھوٹ ،   یتیم کا مال کھانے اورپاکدامن پر تہمت لگانے سے منع فرمایا ۔  انہوں   نے ہمیں   حکم دیا کہ ہم صرف اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت کریں   اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں   نیزانہوں   نے ہمیں   نما زپڑھنے ،   زکوٰۃ ادا کرنے اور روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔  ‘‘  اسی طرح حضرت سیِّدُناجَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے متعد د اسلامی امور بیان کرنے کے بعد فرمایا :   ’’ پس ہم نے ان کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لے آئے اور وہ احکام جو اللہعَزَّوَجَلَّکی طرف لائے ان کی اتباع کی ۔ اور ہم نے صرف اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ۔  جس چیز کو اس نے ہم پر حرام کیاہم نے اسے حرام جانا اور جس کو حلال کیا اسے حلال جانا ۔  پس اس بات پر قوم ہماری دشمن بن گئی ۔ انہوں   نے ہمیں   طرح طرح سے ستایا اور دین کے معاملہ میں  آزمائش سے دو چار کیا تا کہ ہم اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت چھوڑ کر بتوں   کو پوجنا شروع کردیں  اور خبائث کو دوبارہ حلال سمجھیں  جب انھوں   نے ہمیں   حدسے زیادہ ستایا،  مظالم ڈھائے،  ہماری راہیں   تنگ کردیں   ،   ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان حائل ہوگئے ،  تب ہم تیرے ملک کی طر ف نکل آئے  ۔  اے بادشاہ  !  اس امید پر کہ تیری پناہ میں   ہم پر ظلم نہیں   کیا جائے گا،   ہم نے دوسروں   کو چھوڑ کر تیرا ملک پسند کیا اور تیرے پڑو س کو تر جیح دی  ۔  ‘‘ نجاشی نے پوچھا :   ’’ تمہارے نبی اللہعَزَّوَجَلَّکاجو پیغام لائے ہیں  ،   اس میں   سے کچھ تمہارے پاس ہے  ؟  ‘‘  حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ ہاں   ۔  ‘‘ نجاشی نے کہا:  ’’ مجھے اس میں   سے کچھ پڑھ کر سناؤ !  ‘‘  

حضرت سیِّدُنا جَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے سورۂ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں   جنہیں   سن کر نجاشی رو پڑا اور اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اس کی داڑھی آنسووں   سے تر ہوگئی نیز اس کے عُلما بھی تلاوت سن کر اس قدر روئے کہ ان کے صحائف آنسو ؤں   سے بھیگ گئے ۔  پھر نجاشی نے کہا :   ’’ بے شک یہ کلام اورجو حضرت سیِّدُناموسیٰ ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام )  لے کر آئے  ( یعنی توریت )  ایک ہی نور سے نکلے ہیں   ۔  ‘‘  اور قریش کے دونوں   قاصدوں   عبداللہبن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص سے کہا :   ’’ تم دونوں   چلے جاؤ ۔  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   ان لوگو ں   کو تمہارے سِپُر د نہیں   کروں   گا ۔  ‘‘

            پھرنجاشی بادشاہ نے مسلمانوں   سے کہا :  ’’  آج سے میرا ملک تمہارے لئے جائے پناہ ہے ،  جو تمہیں   چُھوئے گا نقصان اُٹھائے گا ۔  جو تمہیں   چھوئے گا نقصان اٹھائے گا ۔  جو تمہیں   چھوئے گا نقصان اٹھائے گا ۔  ( اے گروہِ مسلمین !  )  اگر مجھے سونے کا پہاڑبھی مل جائے،   تب بھی میں   یہ گوارا نہیں   کروں   گاکہ تم میں   سے کسی ایک کو تکلیف پہنچے  ۔ اورکہا :    ( کفارکے ) ان دونوں   قاصدوں   کے تحائف انہیں   لوٹا دو مجھے ان کی ضرورت نہیں   ۔ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  جب میرے ربّ  عَزَّوَجَلَّنے میرا ملک مجھے لوٹایاتومجھ سے کوئی رشوت نہیں   لی تومیں   کیسے اس



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب المغازی ،  باب ما جاء فی الحبشۃ واَمرالخ ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۴۶۵۔



Total Pages: 273

Go To