Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اِلَی اللہ اَشْکُوْ کُرْبَتِیْ بَعْدَ غُرْبَتِیْ             وَمَا جَمَعَ الْاَحْزَابُ لِیْ حَوْلَ مَصْرَعِی

فَذَا الْعَرْشِ صَبِّرْنِیْ عَلٰی مَا یُرَادُ بِیْ            فَقَدْ بَضَعُوْا لَحْمِیْ وَقَدْ یَاسُ مَطْمَعِی

وَقَدْ خَبَرُ وْنِیَ الْکُفْرَ وَالْمَوْتُ دُوْنَہٗ       وَقَدْ ذَرَفَتْ عَیْنَایَ مِنْ غَیْرِ مَجْزَعِ

وَمَا بِیْ حَذَارُ الْمَوْتِ اِنِّیْ مَیِّتٌ                وَلٰکِنْ حَذَارِیْ جَحْمُ نَارٍ مُلَفَّعِ

وَذٰلِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَاءُ              یُبَارِکُ عَلٰی اَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ

فَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا             عَلٰی اَیِّ جَنْبٍ کَانَ فِی اللہ مَصْرَعِی

ترجمہ :   ( ۱ ) … میرے ارد گردمشرکین کے کئی گر وہ اپنے تمام قبائل کو لے کرجمع ہوگئے  ۔

                 ( ۲ ) …  یہی نہیں  ،  بلکہ وہ تو اپنے بچوں  اوراپنی عورتو ں   کو بھی جمع کرلائے ۔ اور میں   جزع فزع ( یعنی گریہ وزاری )  کے قریب ہوگیا ۔  

                 ( ۳ ) …  میں   اپنی تنہائی ومصیبت اور میرے قتل کے لئے جمع ہونے والے مشرکین کی شکایت اللہ عَزَّوَجَلَّہی سے کرتاہوں   ۔

                 ( ۴ ) … اے عرش کے مالک !  مجھے ان تکالیف پر صبر عطا فرما جس کا کفار ارادہ کئے بیٹھے ہیں   ۔  بے شک وہ میرے جسم کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں   اور میں   اپنی زندگی سے اُمید اٹھا چکا ہوں   ۔

                 ( ۵ ) … وہ مجھے اسلام سے پِھرنے کا کہتے ہیں   جبکہ  ( میں   جانتا ہوں   کہ  ) موت کی تکلیف کفر کے عذاب سے بہت ہلکی ہے ۔  اوراس حالت میں  میری آنکھوں   سے بے ساختہ سیلِ اشک رواں   ہے ۔

                 ( ۶ ) … مجھے یقین ہے کہ ایک دن مرنا ہے اور مجھے موت کا کوئی ڈر نہیں   ۔  ہاں   ! جہنم کی جُھلسادینے والی آگ سے خوف آتا ہے  ۔

                 ( ۷ ) … میں   حالت ِ اسلام میں   شہید ہوجاؤں   تو مجھے اس کی کیا پرواہ کہ کس پہلو پر گرتا ہوں   جبکہ میری موت اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں   ہے  ۔

     ( ۸ ) … میری شہادت صرف رضائے الٰہی کے لئے ہے ۔  اگر وہ چاہے گا تو میرے بِکھرے ہوئے اعضاء کے جوڑوں   میں   برکت عطا فرمائے گا ۔    ( [1] )

اللہ  عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔  آمین

حضرت سَیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

             حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبہترین خطیب اور مہمان کی خاطر تواضع فرمانے والے تھے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاہلِ معرفت میں   وعظ ونصیحت فرماتے اور غریبوں  مسکینوں   کواپنے ہاں   مہمان بناتے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دونوں   ہجرتوں    ( یعنی پہلے حبشہ پھر مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاکی طرف ہجرت )  کا شرف پایا ۔  دونوں   قبلوں   کی طر ف نماز پڑھنے کی خصوصیت بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے حصہ میں   آئی  ۔  شجاعت وسخاوت میں  بھی نمایاں   تھے ۔  نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں   سے کنارہ کش اور ربعَزَّوَجَلَّسے لولگائے رہتے تھے ۔

            علمائے تصوُّف فرماتے ہیں  : ’’  مخلوق سے کنارہ کشی اختیار کرنے اوراللہ  عَزَّوَجَلَّکی طرف لولگائے رہنے کا نام                                                        تصوُّف ہے ۔  ‘‘

نجاشی کے دربارمیں   اعلانِ حق :  

 ( 356 ) … حضرت سیِّدُنابُرْدَ ہ اپنے والد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں   کہ تاجدارِمدینہ ،  راحتِ قلب وسینہ ،  فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی سلطنت میں   جانے کا حکم فرمایا ۔ اُدھر قریش کویہ خبر پہنچی تو انھوں   نے عمر و بن عاص اور عُمَارَہ بن وَلِید کو شاہِ حبشہ نجاشی کے لئے تحائف دے کر ہمارے پیچھے بھیج دیا  ۔ ہم وہاں   پہنچے تو یہ دونوں   بھی نجاشی کے دربار میں   پہنچ گئے اور تحائف پیش کئے  ۔  اس نے قبول کرلئے  ۔  پھر ان دونوں   نے اسے سجدہ کیا اور عمر و بن عاص نے کہا :   ’’ اے بادشاہ  !  ہمارے ملک کے چند لوگوں   نے اپنا دین ترک کردیا ہے اوروہ اس وقت تمہارے ملک میں   پناہ لئے ہوئے ہیں    ۔  ‘‘  نجاشی نے پوچھا :   ’’ میری سلطنت میں    ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا :  ’’  ہاں   ۔  ‘‘   ( راوی بیان کرتے ہیں   کہ ) پھرشاہِ حبشہ نجاشی نے ہمیں   بُلالیا ۔ حضر ت سیِّدُناجَعْفَربن ابی طالب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے رُفقا سے فرمایا :  ’’  تم میں   سے کوئی نہ بولے گا ۔  آج میں   اس سے بات کروں   گا ۔  ‘‘  جب ہم نجاشی کے دربار میں   پہنچے تو دربار لگا ہوا تھا ،   اس کے دائیں   طرف عمرو بن عا ص اوربائیں   جانب عُمَارَہ بن وَلِیدبیٹھا ہواتھا جبکہ دیگر پادری ورا ہب اس کے سامنے ہاتھ باندھے صف بستہ کھڑے تھے ۔ چونکہ عمرو بن عاص اور عُمَارَہ بن وَلِید نے پہلے ہی ہمارے بارے میں   انہیں   کہہ دیا تھا کہ وہ دونوں   بادشاہ کو سجدہ نہیں   کریں   گے ۔  چنانچہ،  ہمارے وہاں   پہنچتے ہی بادشاہ کی طر ف سے پادریوں   اور راہبوں   نے ہم سے کہا کہ ’’  بادشاہ کو سجدہ کرو ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناجَعْفَربن ابی طالب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ ہم اللہعَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں   کرتے  ۔  ‘‘ نجاشی بادشاہ نے اس کی وجہ دریافت کی تو حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّنے ہم میں   ایک رسول بھیجا ہے اور یہ وہی رسول ہیں   جن کی آمد کی بشارت حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامنے دی تھی اور فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک رسول تشریف لائیں   گے جن کا نام احمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہو گا ۔ تو اے بادشاہ !  اسی رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   حکم دیا ہے کہ ہم صرفاللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت کریں   اور کسی کو اس کاشریک نہ ٹھہرائیں  ،   نماز قائم کریں   اور زکوٰۃ دیں   ،   اس نے ہمیں   نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع فرمایاہے ۔  ‘‘

             نجاشی بادشاہ کو حضرت سیِّدُناجَعْفَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی بات بڑی اچھی لگی ۔  لیکن جب عمرو بن عاص نے یہ معاملہ دیکھا تو فورًا کہنے لگا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّبادشاہ کو سلامت رکھے !  یہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن مریم ( عَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )  کے بارے میں   تمہارے خِلاف عقیدہ رکھتے  ۔  ‘‘  نجاشی نے حضر ت سیِّدُناجَعْفَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا :   ’’ تمہارے نبی  ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ) حضرت سیِّدُناعیسٰی بن مریم ( عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) کے بارے میں   کیا کہتے ہیں   ؟  ‘‘  حضرت سیِّدُناجعفربن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’  حضرت سیِّدُنا عیسٰیعَلٰی



[1]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  ص۳۷۲۔



Total Pages: 273

Go To