Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آگاہ فرما ۔  ‘‘  اتنے میں   ان بدبختوں   نے لگاتار تیر بر سانے شروع کر دئیے  ۔  جس کے سبب امیرقافلہ حضرت سیِّدُنا عاصِم بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور 7 شرکائے قافلہ جامِ شہادت نوش فرما گئے ۔  ‘‘

            اورجو 3 صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنزندہ بچے ان میں   حضرت سیِّدُنا خُبَیْب بن عَدِی،  حضرت سیِّدُنا زید بن دَثِنَہ اور ایک اور صحابی رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن تھے ۔  یہ تینوں   حضرات مشرکین کے وعدہ پر پہاڑ سے اتر آئے ۔  جب انہوں   نے ان پر غلبہ پالیاتو کمان کی تانت سے ان کے ہاتھ باندھ دیئے تو تیسرے صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  ! یہ پہلا دھوکا ہے،   میں   ان کے ساتھ ہی شہید ہوجاتاتو بہتر تھا ۔  ‘‘  جب مشرکین نے انہیں   ساتھ لے جانا چاہاتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جانے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے مشرکین نے انہیں   بھی شہید کر دیاا ور حضرت خُبَیْب و زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو لے کر چلے گئے اورغزوۂ بدر کے بعد انہیں   مکہ مکرمہ زَادَ ھَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًامیں   لے جا کر بیچ دیا ۔ حضرت سیِّدُنا خُبَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بنو حارِث نے خرید لیا کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بد ر کے دن حارِث بن عامر کو قتل کیا تھا ۔ انہوں   نے آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوکا فی عرصہ تک قید میں   رکھا یہاں   تک کہ سب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہیدکرنے پر متفق ہوگئے ۔  قید کے دوران حضرت سیِّدُنا خُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ضرورت کے تحت بنو حارِث کی ایک عورت سے اُسترا مانگا تو اس نے دے دیا ۔  اس دوران اس عورت کا بیٹا کھیلتا ہوا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی طرف چلا گیا ۔  وہ عورت کہتی ہے :  ’’ میں   نے اپنے بیٹے کو حضرت سیِّدُنا خُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی ران پر بیٹھے دیکھاتو گھبرا گئی کیونکہ اُسترا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ میں   تھا ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا خُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی گھبراہٹ دیکھ کرکہا :  ’’  تُو اس بات سے ڈرتی ہے کہ میں   اسے قتل کر دوں   گا حالانکہ میں   ایسا نہیں   کر سکتا ۔  ‘‘ وہ عورت کہا کرتی تھی: ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   نے حضرت سیِّدُنا خُبَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے بہتر کوئی قیدی نہیں   دیکھا ۔  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  ! میں   نے ایک دِن ان کے ہاتھ میں   انگوروں   کا خوشہ دیکھا حالانکہ مکّۂ مکرمہ زَادَہَا اللہ شَرْفًا وَّتَکْرِیْمًا میں   کہیں   بھی انگور نہ تھے ۔  یہ وہ رزق تھاجو اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوعطا فرمایا تھا ۔  ‘‘

            جب مشرکین آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کرنے کے لئے حرم سے باہر لے کر نکلے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دو ۔  ‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے نماز پڑھ کر فرمایا :  ’’  اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتاکہ تم میرے بارے میں   یہ سمجھو گے کہ میں   موت کے خوف سے نماز طویل کرتاہوں   تو میں   ضرور طویل کر تا ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دُعا مانگی :   ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّان کو چن چن کر قتل کر او ر کسی کو زندہ نہ چھوڑ ۔  ‘‘  

            پھر یہ اشعار پڑھے :   

فَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا           عَلٰی اَیِّ جَنْبٍ کَانَ فِی اللہ مَصْرَ عِی

وَذَالِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَاءُ           یُبَارِکُ عَلٰی اَوْصَالِ شِلْوٍمُمَزَّع

ترجمہ :   ( ۱ ) … میں   حالت ِ اسلام میں   شہید ہوجاؤں   تو مجھے اس کی کیا پرواہ کہ کس پہلو پر گرتا ہوں   جبکہ میری موت اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں   ہے  ۔

                 ( ۲ ) … میری شہادت صرف رضائے الٰہی کے لئے ہے ۔  اگر وہ چاہے گا تو میرے بِکھرے ہوئے اعضاء کے جوڑوں   میں   برکت عطا فرما دے گا ۔

             پھرابوسِرْوَعَہ عُقْبَہ بن حارِث نے آگے بڑھ کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوشہید کر دیا ۔  حضرت سیِّدُناخُبَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہی وہ پہلے انسان ہیں   جنہوں   نے ظلماً قتل کئے جانے والے ہر مسلمان کے لئے قتل سے پہلے نماز پڑھنے کا طریقہ جاری فرمایا ۔   ( [1] )

شہادت سے قبل نماز :  

 ( 355 ) … حُجَیْربن ابی اِہَاب کی باند ی ماریہ جو بعد میں   مسلمان ہو گئی تھیں   بیان کرتی ہیں :  ’’  حضرت سیِّدُنا خُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمیرے گھر میں   قید تھے ۔  ایک دن میں   نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں   انسانی سر کے برابر بڑے انگور کا خوشہ تھاا وروہ اس سے انگور کھا رہے ہیں   حالانکہ میں   نہیں   جانتی کہ اس وقت زمین پر انگور کا ایک دانہ بھی کھانے کے لئے موجود ہو ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناابن اِسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عاصِم بن عمر بن قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : جب بنی حارث،   حضرت سیِّدُنا خُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کرنے کے لئے تنعیم کی طرف لے گئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا :   ’’  مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو ۔  ‘‘  انہو ں   نے اجازت دی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے نماز ادا کی پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  ! اگر مجھے یہ گمان نہ ہوتا کہ تم سوچو گے کہ میں   موت سے ڈرکرلمبی نماز پڑھتا ہوں   تو میں   نماز کوضرور طویل کرتا ۔  ‘‘ جب آپ کو سُولی چڑھایا جانے لگا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دُعا مانگی :  ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  ہم نے تیرے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغام لوگوں   تک پہنچا یا تُو اپنے پیارے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہمارے حالات سے آگاہ فرما  ۔   ‘‘   ( [2] )

سیِّدُنا خُبَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پُرسوزاشعار :  

             حضرت سیِّدُناابن اِسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاق  فرماتے ہیں   کہ ’’   جب مشرکین حضرت سیِّدُنا خُبَیْب  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو سُولی چڑھانے لگے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ اشعار پڑھے :  

لَقَدْجَمَعَ الْاَحْزَابُ حَوْلِیْ وَاَلَبُّوْا              قَبَائِلَھُمْ وَاسْتَجْمَعُوْا کُلَّ مَجْمَعِ

وَقَدْ جَمَعُوْا اَبْنَاءَ ھُمْ وَنِسَائَھُمْ             وَقَرُبْتُ مِنْ جَزْعٍ طَوٰی مَمْنَعِ

 



[1]    صحیح البخاری ،  کتاب المغازی ،  باب۱۰ ، الحدیث : ۳۹۸۹ ، ص۳۲۵۔

[2]    السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث ،  ص۳۷۱ ، ’’ماریۃ‘‘ بدلہ ’ ’ماویۃ‘‘۔



Total Pages: 273

Go To