Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

فرمائی  ۔  انہوں   نے زندگی میں   اللہ عَزَّوَجَلَّسے کئے ہوئے عہد کو پورا کیا اوروہ جس طرح زندگی میں   کفار سے دُور رہتے تھے اسی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّنے ان کی وفات کے بعد بھی کفار کو ان کے قریب  نہ آنے دیا  ۔   ‘‘   ( [1] )

مشرکین سے نفرت:

 ( 353 ) …  حضر ت سیِّدُنابُرَیْدَہ بن سُفْیَان اَسْلَمِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سردارِ دوجہان،   رحمتِ عالمیان،  مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا عاصِم بن ثابِت،   حضرت سیِّدُنا زَید بن دَثِنَہ،   حضرت سیِّدُنا خُبَیب بن عَدِی اور حضرت سیِّدُنا مَرْثَدبن ابی مَرْثَد رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر مشتمل ایک قافلہ تبلیغِ دین کی غرض سے بنی لَحْیَان  کی طرف روانہ فرمایا ۔ جب یہ مقام رجیع تک پہنچے تومشرکین ان کے مقابلے میں   اتر آئے ۔  مجبوراً انہیں   بھی لڑنا پڑا لیکن قلت افراد کے پیش نظر سوائے حضرت سیِّدُناعاصِم بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سب امان لینے کے لئے تیا رہوگئے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  میں   کسی مشرک سے امان نہیں   لوں   گا ۔  ‘‘  پھراللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   التجاکرتے ہوئے عرض کی :   ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں   آج تیرے دین کی حفاظت پر کمر بستہ ہوں   پس تو میرے جسم کی حفاظت فرمانا ۔  ‘‘  پھریہ اشعار پڑھتے ہوئے دشمنوں   سے لڑنے لگے:

مَا عِلَّتِیْ وَاَنَا جَلْدٌ نَابِلُ        وَالْقَوْسُ فِیْھَا وَتْرٌ عُنَابِلُ

اِنْ لَّمْ اُقَاتِلْکُمْ فَاُمِّیْ ھَابِلُ      اَلْمَوْتُ حَقٌّ وَالْحَیَاۃُ بَاطِلُ

وَکُلُّ مَا حَمَّ اَلْاِلٰہُ نَازِلُ        بِالْمَرْءِ وَالْمَرْءُ اِلَیْہِ آئِلُ

     ترجمہ :   ( ۱ ) … میں   کمزور نہیں  بلکہ بہادر تیر انداز ہوں   اور میرے کمان میں   موٹا اور سخت چلہ لگا ہوا ہے ۔

                 ( ۲ ) …  ( اے دُشمنو !  )  اگر میں   تم سے لڑائی نہ کروں   تو میری ماں   مجھ سے محروم ہو جائے ۔  موت کا آنا حق اوریقینی ہے ا ور زندگی فانی و باطل ہے ۔

                 ( ۳ ) … اللہ عَزَّوَجَلَّنے جس کے بارے میں   جو ارادہ فرمالیا وہ واقع ہوکر رہتا ہے اور انسان اس کی طرف ضرور لوٹنے والا ہے  ۔

            بالآخرجب انہوں   نے حضرت سیِّدُناعاصِم بن ثابِترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کر دیا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اہلِ ہُذَیل کے ایک کنوئیں   میں   تھے کہ کسی نے کہا :  ’’ یہ تو وہی شخص ہے جس کے بارے میں  سُلافہ بنت سَعْد نے قسم کھائی تھی کہ اگر اس کے سر پر قدرت پاؤں   گی تو اس کی کھوپڑی میں   شراب بھر کر پیؤں   گی ۔  ‘‘ اوراس نے یہ قسم اس لئے کھائی تھی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جنگ اُحد میں  بنی عبدُالدار کے تین علَم بردار بہادروں  کو قتل کیا تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتیر چلاتے جاتے اور کہتے جاتے تھے :  ’’ میں   اَقْلَح کا بیٹا ہوں   ۔  ‘‘ چنانچہ،  انہوں   نے ارادہ کرلیا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا سر کاٹ کر سُلافہ بنت سَعْدکے پاس لے جائیں   گے تاکہ وہ اس کی کھوپڑی میں   شراب بھر کر پئے  ۔  جب وہ اپنے اس ناپاک ارادے سے حضرت سیِّدُناعاصِم بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے مقدس لاشے کی طرف بڑھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے ان کے ارادے کو خاک میں   ملا دیا ۔  وہ اس طرح کہ شہد کی مکھیوں   کے ایک لشکرنے آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاکیزہ لاشے کو چھپا لیاجس کی وجہ سے مشرکین آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا سَر تن سے جدا نہ کر سکے ۔   ‘‘   ( [2] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سَیِّدُنَاخُبَیْب بن عَدِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

             حضرت سیِّدُنا خُبَیْب بن عَدِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ،  اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے ثابت قدمی اختیار کرنے ،   صبر کرنے والے تھے اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ راہِ خدا میں   سُولی چڑھائے گئے ۔

            علمائے تصوُّف فرماتے ہیں : ’’  حفاظتِ دین کی خاطرسختیاں   برداشت کرنے کا نام  تصوُّفہے ۔  ‘‘

بہترین قیدی اورغیبی رزق :  

 ( 354 ) …  حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دس افراد کا ایک قافلہ کسی مہم پر روانہ فرمایااورحضرت عاصِم بن عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ناناحضرت سیِّدُنا عاصِم بن ثابِت اَنصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکواس قافلے کا امیر بنایا ۔  جب یہ قافلہ عَسْفان اور مکہ مکرمہزَادَھَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کے درمیان واقع ہَدَہ کے مقام پر پہنچا اور ہُذَیْل کے قبیلہ بنو لِحْیَان کواس کا پتہ چلا تو انہوں   نے تقریباً100 تیر اندازوں   کوان کے تعاقب میں   بھیجا  ۔  یہ لوگ ان کے نشاناتِ قدم تلاش کرنے لگے یہاں   تک اس مقام کوپانے میں   کامیاب ہوگئے جہاں   اترکرمسلمانوں   کے قافلے نے کھجوریں   تناو ُل فرمائیں   تھیں   توکفار کہنے لگے کہ یہ تویثرب  ( یعنی مدینہ منورہ  ) کی کھجوروں   کی گُٹھلیاں  ہیں   پس انہیں   نشانات پرپیچھا کرنے لگے ۔  اُدھر جب حضرت سیِّدُنا عاصِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور آپ کے رُفقا نے کفار کو پیچھا کر تے دیکھا تو ایک کشادہ وہموار زمین میں   پناہ لی اتنے میں  مشرکین نے انہیں   گھیرلیا اور کہا :  ’’  اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو ہم وعدہ کرتے ہیں   کہ تم میں   سے کسی کو قتل نہیں   کریں   گے ۔  ‘‘  امیرِ قافلہ حضر ت سیِّدُنا عاصِم بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   کسی کافر کی امان قبول نہیں   کروں   گا ۔  ‘‘  اتنا کہنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ خداوندی میں   عرض کی :   ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  ہمارے بارے میں   اپنے نبی



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۷۷۵ ، ج۲۰ ، ص۳۲۷۔

                السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  ص۳۶۹۔

[2]    السنن لابی عثمان سعیدبن منصور ،  کتاب الجھاد ،  باب جامع الشہادۃ ،  الحدیث : ۲۸۳۷ ، ج۲ ، ص۳۴۷۔

                السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،  ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث ،  ص۳۷۰۔



Total Pages: 273

Go To