Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

 

حضرت سیِّدُ نا عبداللّٰہ بن جَحْشرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جَحْش  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاللہعَزَّوَجَلَّپر قسم اٹھانے والے ،   اُس کی محبت میں   کوشش کرنے والے اورسب سے پہلے اِسلامی پرچم اٹھانے والے ہیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ اُمَیْمَہ بنت عبدالمطلب سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی ان افراد میں   سے ہیں   جنہوں   نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جنگِ بد ر میں   شریک ہوئے اور حضورنبی ٔکریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی بہن حضرت سیِّدَتُنا زینب بنت جَحْش  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح فرمایا ۔

پہلااسلامی پرچم:

 ( 344 ) … حضرت سیِّدُنا امام شَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ اسلام میں   سب سے پہلا جوپرچم لہرایا گیا وہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جَحْش  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا تھا ۔  نیزمسلمان مجاہدین کے درمیان سب سے پہلے جومالِ غنیمت تقسیم کیا گیا وہ بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا حاصل کیا ہواتھا ۔  ( [1] )

شہادت کی دُعا :  

 ( 345 ) … حضرت سیِّدُنااسحاق بن سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بنجَحْش رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اُحد کے دن حضرت سیِّدُنا سَعْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کہا :   ’’ آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کیوں   نہیں   کرتے  ؟  ‘‘ پھر خود ایک طرف جا کر اللہعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   عرض کرنے لگے :   اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !  کل میرا مقابلہ دشمنوں   کے ایسے شخص سے ہوجو بہت سخت ہومیں   تیری رضا کے لئے اس سے مقابلہ کروں   پھر وہ میرے کان،  ناک کاٹ دے اور جب بروزِقیامت میں   تیری بارگاہ میں  حاضرہوں  اور توان  ( کان،   ناک ) کے بارے میں  پوچھے تومیں   عرض کروں : ’’ تیرے اور تیرے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی راہ میں   کٹ گئے ۔  ‘‘  پھر تُو ارشاد فرمائے :  ’’  تو نے سچ کہا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناسَعْدبن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ میں   نے دن کے آخری حصے میں   ان کی ناک اور کان دھاگے میں   پروئے ہوئے دیکھے ۔   ‘‘  ( [2] )

 ( 346 ) …  حضرت سیِّدُنا سَعِیدبن مُسَیِّبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن جَحْش  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اُحد کے دن دعا مانگی :  یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھے قسم دیتا ہوں   کہ کل میرا مقابلہ ایسے دشمن سے ہو جو مجھے شہید کر کے میرا پیٹ پھاڑ دے اور میری ناک یا کان یا دو نوں   کاٹ لے،   پھر تُو بروز ِقیامت مجھ سے ان کے بارے میں   پوچھے تو میں  عرض کروں : ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ ! یہ تیری راہ میں   کاٹے گئے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا سَعِیدبن مُسَیِّبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں :  ’’ مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے جس طرح ان کی پہلی دعا قبول فرمائی اسی طرح آخری دعا بھی قبول فرمائے گا ۔   ‘‘   ( [3] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سیِّدُنا عَامر بن فُہَیْرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناعَامر بن فُہَیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ شرعی اَحکام کوبجالانے اور حسدکی نحوست سے خود کو بچانے والے تھے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسم کو وفات کے بعد آسمان پر اُٹھا لیا گیا ۔  دین اسلام کی دعوت ملتے ہی اسے قبول کرنے والے اور ہجرت کے مواقع پر حضورنبی ٔرحمت،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت وخدمت میں   رہ کر فیض پانے والے تھے ۔

            صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں :  ’’  تصوُّف اسی کا نام ہے کہ فرشتہ موت کی خبر لائے توبندہ اپنے دل میں   خوشی پائے ۔  ‘‘

آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت ملی :  

 ( 347 ) …  اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا بیان فرماتی ہیں   کہ ’’   جب میرے سر تاج،   صاحبِ معراج صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منوّرہ زَادَہُمَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاہجرت فرمائی اس وقت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہمراہ صرف امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق اورحضرت عامر بن فُہَیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اورراستہ بتانے کے لئے قبیلۂ بنی دیل کا ایک شخص تھا ۔   ‘‘   ( [4] )

 ( 348 ) …  حضرتِ سیِّدَتُنااسماء بنت ابی بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں   کہ ’’ ہجرت کے موقع پرحضور نبی ٔکریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے تین راتیں   غارِ ثور کوشرف بخشاکہ وہاں   قیام فرمایا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے آزاد کردہ غلام ،   حضرت عَامر بن فُہَیْرَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی بکریاں   چرایاکرتے تھے یہ بھی شام کو ان کے پاس حاضر ہوجاتے ،   رات وہیں   گزارتے،   صبح پھرچرواہوں   کے ساتھ چراگاہ پہنچ جاتے ۔ یہ اس طرح کرتے کہ جب شام کے وقت چرواہوں   کے ساتھ واپس آرہے ہوتے توچلنے کی رفتارکم کر دیتے یہاں   تک کہ جب رات کی تا ریکی چھا جاتی تو بکریاں   لے کران حضرات کے پاس غار کی



[1]    الاِستِیْعاب فی معرفۃ الاصحاب ،  الرقم۱۵۰۲عبد اﷲ بن جحش ،  ج۳ ، ص۱۴۔

[2]    المستدرک ،  کتاب الجہاد ،  باب رأس الأمر الإسلامالخ ،  الحدیث   ۲۴۵۶ ، ج۲ ،  ص۳۹۵۔

[3]    المستدرک  ،  کتاب معرفۃالصحابۃ  ،  باب ذکر مناقب عبد اﷲ بن جحش ،  الحدیث : ۴۹۵۴ ، ج۴ ، ص۲۰۵۔

[4]    المسندلابی یعلی الموصلی ،  مسندعائشۃ ،  الحدیث

Total Pages: 273

Go To