Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جس پر چمڑے کے پیوند لگے تھے ۔ انہیں   دیکھ کر نبی ٔ مہربان ،   سرور دو جہان ،   محبوبِ رحمن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  رو نے لگے پھرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ اے صحابہ  !  تمہاری اس وقت کیا حالت ہوگی جب تم صبح ایک لباس میں   ہوگے اور شام کو دوسرا لباس پہنو گے اور تمہارے سامنے ( کھانے کا )  ایک کے بعد دوسرا پیالہ رکھاجائے گا اور تمہارے گھرو ں   پر کعبۃ اللہکے پردو ں   کی طرح پردے لٹکے ہوں   گے ؟  ‘‘  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہم چاہتے ہیں   کہ ایسا ہوجائے کیونکہ اس میں   ہمارے لئے سہولت وآرام ہے  ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’  ایسا ضرورہوگا ،   حالانکہ آج تم اس دن سے بہتر ہو ۔   ‘‘   ( [1] )

رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بوسہ دیا :  

 ( 336 ) …  اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’  میں   نے دیکھا کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ عثمان بن مَظْعُون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے بعد اُنہیں   بو سہ دے رہے ہیں   ۔   ‘‘ ( [2] )

محبت ِخداومصطفٰی کافی:

 ( 337 ) …  حضرت سیِّدُنا زید بن اَسلمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں   کہ جب حضر تِ سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات ہوئی تو رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی تجہیز وتکفین کا حکم فرمایا ۔  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو قبر میں   رکھا گیا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اہلیہ نے کہا :  ’’  اے ابو سائب  !  تجھے جنت کی بشارت ہو ۔  ‘‘ تومصطفی کریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْمنے ارشادفرمایا :  ’’  تجھے کیسے اس کا علم ہوا  ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! یہ دن کو رو زہ رکھتے اور رات کو عبادت کیاکرتے تھے  ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :   ’’ اگر تو یہ کہتی کہ یہ اللہعَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتے تھے تو یہی کا فی ہوتا ۔   ‘‘   ( [3] )

وصال پراہلیہ کے اشعار :  

 ( 338 ) … حضرت سیِّدُنا ابو اِسحاق سَبِیْعِیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعثمان بن مَظْعُون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اہلیہ پُرانے کپڑوں   میں   ملبوس ازواجِ مطہرات کے پاس حاضر ہوئیں   تو اُنہوں   نے اس کی وجہ دریافت کی توعرض کی :  ’’  میرے شوہر دن کو روزہ رکھتے اور رات کو عبادت کرتے ہیں   ( اور کماتے نہیں   )  ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات کی خبر ملی تو حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بلا کر تنبیہ فرمائی اور فرمایا :  ’’  کیا تمہارے لئے میراطریقہ کافی نہیں   ؟  ‘‘  اُنہوں   نے عرض کی :  ’’ کیوں   نہیں   !  اللہعَزَّوَجَلَّمجھے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر فدا کرے !  ‘‘  اس کے بعد ان کی زوجۂ محترمہ اچھی حالت میں   اور خوشبو لگائے ازواجِ مطہرات کے پا س آئیں   اور جب حضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات ہوئی تو اُنہوں   نے یہ اشعار کہے:

یَا عَیْنِ جُوْدِیْ بِدَمْعٍ غَیْرِ مَمْنُوْنٍ          عَلٰی رَزِیَّۃِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْن

عَلٰی اِمْرَئٍ بَاتَ فِیْ رِضْوَانِ خَالِقِہٖ         طُوْبٰی لَہٗ مِنْ فَقِیْدِ الشَّخْصِ مَدْفُوْن

طَابَ الْبَقِیْعُ لَہٗ سُکْنٰی وَغَرْقَدَ ہٗ          وَاَشْرَقَتْ اَرْضُہٗ بَعْدَ تَفْتِیْن

وَاَوْرَثَ الْقَلْبَ حُزْنًا لَا اِنْقِطَا عَ لَہٗ          حَتَّی الْمَمَاتِ فَمَا تَرَقَّی لَہٗ شَوْنِی

ترجمہ :   ( ۱ ) … اے میری آنکھ ! سیِّدی عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( کے وصال )  کی مصیبت پر خوب آنسو بہا  ۔

                   ( ۲ ) …  اور ا س ہستی پر گریہ وزاری کر جس نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی خوشنودی میں   راتیں   گزاریں  ،   اس دفن شدہ بے مثال شخص کے لئے خوشخبری ہے ۔

                 ( ۳ ) … بقیعِ غرقد اِن کا بہترین ٹھکانہ ہے اور دنیوی مصیبتوں   کے بعد ان کا مدفن روشن ہو گیا ۔

                 ( ۴ ) … ان کی وفات سے دل کو ایسا صدمہ پہنچا ہے جو مرتے دم تک کبھی ختم نہ ہو گا اور میرے صبر کا ذخیرہ بھی اسے ختم نہیں   کرسکتا ۔   ( [4] )

حضرتِ سَیِّدُنامُصْعَب بن عُمَیْر دَارِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن عُمَیْردَارِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاللہورسولعَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرنے والے ،   قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والے ،   جنگِ اُحُد میں   شریک ہونے والے،  سب سے پہلے حق کی دعوت دینے والے،   پرہیزگاروں   کے سردار،   نیکیوں  میں   سبقت لے جانے والے ،  وعدہ پورا کرنے والے،   تکلف وبناوٹ سے پاک،   مخلص ا ور محبت وخوف میں   مغلوب رہنے والے عظیم الشان انسان تھے ۔

            صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ پاکیزہ باغوں  میں   اُنسیتِ حق تلاش کرنے کا نام تصوّف ہے ۔  ‘‘

 



[1]    جامع الترمذی ،  ابواب صفۃ القیامۃ ،  باب حدیث علی فی ذکرمُصْعَب بن عُمَیْر ،  الحدیث : ۲۴۷۶ ، ص۱۹۰۱۔

                عن علی بن ابی طالب۔

[2]    مسند ابی داودالطیالسی ،  القاسم عن عائشۃ عنہ ،  الحدیث : ۱۴۱۵ ، ص۲۰۱۔

[3]    الموسوعۃ لابن ابی الدنیا ،  کتاب الاولیاء ،  الحدیث : ۷۲ ، ج۲ ، ص۴۰۶۔

[4]    مسند ابی یعلٰی الموصلی ،  حدیث ابی موسٰی الاشعری ،  الحدیث : ۷۲۰۶ ، ج۶ ، ص۲۰۵۔

                الاِسْتِیْعاب فی معرفۃ الاصحاب ،  الرقم ۷۹۸عثمان بن مَظْعُون ،  ج۳ ، ص۱۶۷۔



Total Pages: 273

Go To