Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اِذْ یَلْطِمُوْنَ وَلَا یَخْشَوْنَ مَقْلَتََہٗ            طَعْنًا دِرَاکًا وَضَرْبًا غَیْرَ مَافُوْن

فَسَوْفَ یُجْزِیْھِمْ اِنْ لَّمْ یَمُتْ عِجْلًا            کَیْلًا بِکَیْلٍ جَزَآءٌ غَیْرَ مَغْبُوْن

ترجمہ :   ( ۱ ) … کیا تم فتنے والے زمانے کو یا د کر کے پریشان اور غمزدہ شخص کی طر ح روتے ہو ۔  

                 ( ۲ ) … اور ان بے وقوف لوگو ں   کو دیکھتے ہو جن کا حال یہ ہے کہ وہ دین کی طرف دعوت دینے والے پر ظلم کرتے ہیں    ۔

                 ( ۳ ) … جو کبھی برائی سے باز نہیں   آتے اوردھوکا دینا جن کا وطیرہ ہے  ۔

                 ( ۴ ) … کیا تم نہیں   دیکھتے کہ ہم حضرت عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی تکلیف کی وجہ سے غضبناک ہیں   ۔  اللہعَزَّوَجَلَّ آپ کو اذیت دینے والوں   کوبھلائی سے محروم کرے  ۔   ( آمین )

                 ( ۵ ) … کیونکہ یہ لوگ انہیں   تھپڑ مارتے اور نیزوں   و تلواروں   کے ساتھ ہلاک کرنے سے بھی نہیں   ڈرتے ۔

                 ( ۶ ) … اگر یہ لوگ جلدی نہ بھی مرے توعنقریب انہیں   ان کے ظلم کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔

عُثمَان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاوصالِ باکمال

ایسوں  کوایسی جزا :  

 ( 330 ) … حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ عَلاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ہمارے گھر میں  وفات پائی ۔ میں   رات کو سوئی توحضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لئے ایک بہتا چشمہ دیکھا ۔  جب یہ بات میں   نے حضورنبی ٔاَکرم،   شاہِ بنی آدم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   بیان کی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’  ان کا عمل ایسا ہی تھا ۔   ‘‘   ( [1] )

 ( 331 ) …  حضرت سیِّدُناامام زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیبیان کرتے ہیں   کہ ’’   حبشہ ‘‘  قریش کی پُراَمن تجارت گاہ تھی جس کے ذریعے وہ کثیر آمدنی حاصل کیاکرتے تھے ۔ جب مسلمانوں  کوجبروتشددکانشانہ بنایاگیااورانہیں   فتنے کا خوف لاحق ہواتو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو حبشہ کی جانب ہجرت کر نے کا حکم دیا ۔  چنانچہ مسلمان حضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی رہنمائی میں   مکہ سے نکلے اور حبشہ کی سرزمین میں   ٹھہرے رہے یہاں   تک کہ ’’   سورہ نجم  ‘‘ نازل ہوئی ۔  حضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور آپ کے رُفقا واپسی پر کفار کے بغض و عناد کی وجہ سے مکہ میں   داخل نہ ہو سکے پھر وَلِید بن مُغِیرَہ نے امان دی تو مکہ میں   داخل ہوئے ۔  ( [2] )

بہترین ہم نشین :  

 ( 332 ) … حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں   کہ جب حضرتِ عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اہلیہ نے کہا :   بہترین ہم نشین چلا گیا،  بلاشبہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبہترین لوگوں   میں   سے تھے ۔  کیونکہ جب شہزادیٔ رسول،  حضرتِ سیِّدَتُنا رقیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کاوِصال ہوا تو حضورنبی ٔاکرم ،  نُورمُجَسَّم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ ہماری صاحبزادی ہمارے بہترین ہم نشین عثمان بن مَظْعُوْن سے جاملی ۔   ‘‘   ( [3] )

خالص وکامل ایمان :  

 ( 333 ) … حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ پیکرِ حُسن وجمال،   صاحبِ جود و نوال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،  حضرت ِعثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے وقت تشریف لائے اور ان پر جھک گئے پھر سر اُٹھایا حتی کہ تین مرتبہ ایسا کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سسکیا ں   لے کر رو رہے تھے ۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  نے جب رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو روتے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے ۔ حضورنبی ٔرحمت،  شفیع امتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ’’ اَسْتَغْفِرُاللہ،   اَسْتَغْفِرُاللہ ‘‘  پڑھنے لگے اور فرمایا :  ’’ ابو سائب ( یعنی عثمان بن مَظْعُوْن ) اس دنیا سے اس حال میں   گئے کہ دنیا سے کچھ نہ لیا  ۔   ‘‘   ( [4] )

دُنیاسے بے رغبتی:

 ( 334 ) … حضرت سیِّدُنا عَبْدِ رَبِّہ بن سعیدمَدَنی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ،   با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضر تِ سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے وقت تشریف لائے اور جھک کر ان کا بوسہ لیا پھر فرمایا :   ’’ اے عثمان  !  اللہعَزَّوَجَلَّتم پر رحم فرمائے  ! نہ تم نے دنیا سے کچھ لیااور نہ ہی دنیا تم سے کچھ لے سکی ۔   ‘‘   ( [5] )

پیونددارپرانی چادر :  

 ( 335 ) …  حضرت سیِّدُنا ابن شِہاب زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  بیان کرتے ہیں   کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا عثمان بن مَظْعُوْن  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہایک پُرانی چادر پہن کر مسجدمیں   داخل ہوئے



[1]    صحیح البخاری ،  کتاب الشہادات ،  باب القرعۃ فی المشکلات ،  الحدیث : ۲۶۸۷ ، ص۲۱۳۔

[2]    الدلائل النبوۃللاصبھانی ،  فصل فی ذکرشہادۃ النجاشی ،  الرقم۱۰۰ ،  ص۱۰۲۔

                دلائل النبوۃ للبیھقی ،  باب الھجرۃ الاولی الی الحبشۃ ،  ج۲ ، ص۲۸۵تا۲۹۱۔

 

[3]    مسند ابی داؤدالطیالسی ،  یوسف بن مہران عن ابن عباس ،  الحدیث : ۲۶۹۴