Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 324 ) …  حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  کوئی گورا ہو یا کالا ،   آزاد ہو یا غلام ،   عجمی ہو یا عربی جس کے متعلق مجھے معلوم ہو کہ وہ تقویٰ و پرہیزگاری میں   مجھ سے بڑھ کرہے تو میں   یہ پسند کرتا ہوں   کہ میں   اس کی کھال کا کوئی حصہ ہوتا ۔  ‘‘   ( [1] )

کجاوے کی چٹائی اورپالان کاتکیہ :  

 ( 325 ) …  حضر تِ سیِّدُناہِشَام بن عُرْوَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس تشریف لے گئے،  انہیں   کجاوے کی چٹائی پرپالان کوتکیہ بنائے لیٹے دیکھاتواِستفسار فرمایا :   ’’ اے ابو عبیدہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  ! تم دوسروں   کی طرح آرام دِہ بستر پر کیوں   نہیں   لیٹتے  ؟  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :   ’’  اے امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  مجھے آرام کے لئے یہی کافی ہے ۔  ‘‘

             حضرت سیِّدُنا مَعْمَررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں   ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمُلک ِشام تشریف لائے تو وہاں   کے خاص و عام تمام لوگوں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا اِستقبال کیا،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت فرمایاکہ ’’   میرا بھائی کہاں   ہے  ؟  ‘‘  لوگوں   نے پوچھا :   ’’ کون ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ ابوعبیدہ بن جَرَّاح  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   ۔  ‘‘  لوگو ں   نے عرض کی :  ’’ وہ ابھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس پہنچ جائیں   گے ۔  ‘‘  پھر جب حضرتِ سیِّدُناابوعبیدہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حاضر ہوئے توآ پ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے سواری سے اُتر کر انہیں   گلے لگایااوران کے گھر تشریف لے گئے ۔ توان کے گھرمیں   تلوار،   تیروں   کا ترکش اور کجاوے کے علاوہ کچھ اورنہ دیکھا  ۔ اس کے بعد حضرت سیِّدُنا مَعْمَر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مذکورہ روایت بیان کی  ۔   ‘‘   ( [2] )

انوکھی ونرالی تمنا :  

 ( 326 ) …  حضرت سیِّدُنازَیدبن اَسلمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِفاروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے رُفقا سے فرمایا:  ’’ کسی چیز کی تمنا کرو  ۔  ‘‘ ایک شخص نے کہا :  ’’  اے کاش !  یہ گھر سونے سے بھرا ہوتا اور میں   اِسے اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں   خرچ کر دیتا ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پھر فرمایا :   ’’ تمنا کر و ۔  ‘‘ ایک شخص نے کہا:  ’’ اے کاش  !  یہ گھر موتیوں   ،   زَبَر جَد اور جواہرات سے بھر ا ہوتا اور میں   اسے راہ ِخدا میں   صدقہ وخیرات کردیتا ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پھر فرمایا :  ’’  تمنا کرو ۔  ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :   ’’ یاامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  ہم نہیں   جانتے کہ ہم کیا تمنا کریں   ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ میں   تمنا کرتا ہوں   کہ کاش  !  یہ گھر حضرت ابو عبیدہ بن جَرَّاح جیسے لوگوں   سے بھرا ہوتا  ۔   ‘‘   ( [3] )

سیِّدُناابوعبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی نصیحتیں :

 ( 327 ) …  حضرت سیِّدُنا نِمْرَان بن مِخْمَررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو عبیدہ بن جرّاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے لشکرکے ساتھ چلتے ہوئے فرمایا :   ’’  سنو ! بہت سے سفید لباس والے دین کے اعتبارسے میلے ہوتے ہیں   اور بہت سے اپنے آپ کو مکرّم سمجھنے والے حقیر ہوتے ہیں   ۔  اے لوگو ! نئی نیکیاں   پُرانے گناہوں   کو مٹا دیتی ہیں   ۔  اگر تم میں   سے کسی کی برائیاں   زمین وآسمان کو بھر دیں   پھر وہ کوئی نیکی کرے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ایک نیکی ان تمام گناہوں   پر غالب آجائے اور ان کو مٹا دے ۔   ‘‘   ( [4] )

مومن کا دل:

 ( 328 ) …  حضرت سیِّدُنا خالد بن مَعْدَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ امینِ اُمت حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جَرَّاح  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  مومن کا دل چڑیا کی طرح دن میں   کئی بار اُلٹ پلٹ ہوتاہے ۔   ‘‘   ( [5] )

حضرتِ سَیِّدُنَا عُثمَان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناعثمان بن مَظْعُوْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی زندگی زُہداور سادگی سے گزاری ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنی آنکھ کی وجہ سے مصیبت وآزمائش میں   مبتلاتھے اور 2 مرتبہ ہجرت کرکے ذُوالْھِجْرَتَیْن ( یعنی 2 ہجرتوں   والے )  کا عظیم لقب پایا  ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکے احکامات کی بجاآوری میں   پیش پیش رہتے ۔ عزت وعظمت والے اوصاف سے اپنے کردارکوزینت بخشی ۔  عبادت وریاضت کے نور سے اپنے شب وروز کو منور فرمایا ۔ جنگوں   میں   ہمیشہ شجاعت وبہادری اور دِلیری کے جوہر دکھائے ۔  دنیا نہ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوکوئی عیب ونقص پہنچا سکی اور نہ ہی دینی رفعتوں   سے نیچے گرا سکی ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجلد ہی اپنے محبو بِ حقیقی اللہ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّسے جاملے اور ہر قسم کے غم سے نجات پالی ۔

            صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ گناہوں   سے کنارہ کش رہنے والے شخص کا اللہ عَزَّوَجَلَّکی خالص محبت سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے کا نام تصوُّف ہے  ۔  ‘ ‘

 



[1]    الزہد للامام احمد بن حنبل ،  أخبارابی عبیدۃ بن الجراح ،  الحدیث : ۱۰۲۷ ، ص۲۰۳۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  کلام ابی عبیدۃ بن الجراح ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۱۷۳۔

                الزہد للامام احمد بن حنبل ،  اخبارابی عبیدۃ بن الجراح ،  الحدیث : ۱۰۲۹ ، ص۲۰۳۔

[3]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب لما قتل سالم قالواذہب ربع القرآن ،  الحدیث : ۵۰۵۵ ، ج۴ ، ص۲۴۴۔

[4]    الزہد للامام احمد بن حنبل ،  أخبارابی عبیدۃ بن الجراح ،  الحدیث : ۱۰۲۶ ، ص۲۰۳۔

                المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،   کلام  ابی عبیدۃ بن الجراح  ،  الحدیث : ۳ ، ج