Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تَعَالٰی عَنْہفرمانے لگے کہ ’’   جب حضرت سیِّدُنا امیرِحمزہ اورحضرت سیِّدُنا مُصْعَب بن عُمَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  شہید ہوئے تو ہمارے پاس ان کے کفن کے لئے بھی کپڑا نہ تھاحالانکہ وہ مجھے سے بہتر ہیں   اور ہمیں   جو پہنچنا تھا وہ پہنچ گیا  ۔  ‘‘ یا یہ فرمایاکہ ’’   ہمیں   جو ملنا تھا وہ مل گیا ۔  ‘‘  اورارشاد فرمایا :   ’’ میں   اس بات سے ڈرتا ہوں   کہ کہیں   جنت کی نعمتیں   ہمیں   دنیا ہی میں   نہ دے دی جائیں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا شُعْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں  : میرے خیال میں   حضرت سیِّدُنا سعدبن ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ بھی بیان فرمایاتھاکہ ’’ اس کے بعد حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عَوْف  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کھانا نہ کھایا ۔  ‘‘   ( [1] )

آنکھوں   کے بجائے دل روتاہے :  

 ( 319 ) …  حضرت سیِّدُناحَضْرَمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی خوش الحان قاری نے حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ ِعالیہ میں   قرآنِ مجید کی تلاوت کی تو حضرت سیِّدُناعبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے علاوہ تمام حاضرین رونے لگے ۔ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ عبدالرحمن بن عَوْف کی آنکھیں   اگرچہ اشکبار نہ ہوئیں   مگر ان کا دِل رو رہا ہے ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 320 ) … حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  ہم تنگی سے آزمائے گئے تو صبر کیا اور خوشحالی سے آزمائے گئے تو صبر نہ کرپائے  ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 321 ) … حضرت سیِّدُنا ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے دن میں   نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَاللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو فرماتے ہوئے سنا :   ’’ اے ابن عَوْف   ! جاؤ بے شک تم نے صاف زندگی کو پالیا اور کدورت سے آگے نکل گئے  ۔  ‘‘    ( [4] )

حضرتِ سَیِّدُنَا اَبُوعُبَیْدَہ بن جَرَّاحرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا ابو عُبید ہ بن جَرَّاح  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہامین ،  ہدایت ،   زہدو عمل جیسے اوصاف سے متصف اورامین الامت کے لقب سے مُلَقَّب تھے ۔ اجنبی وناواقف مؤمنین کے لئے پیکرِاُلفت ومحبت اور رشتہ دار مشر کین پر سخت  تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شانِ عظمت نشان میں  اللہ رحمنعَزَّوَجَلَّ نے یہ فرمانِ ذیشان نازل فرمایا :  

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ ( پ۲۸،   المجادلۃ :    ۲۲ )

ترجمہ کنزالایمان :   تم نہ پاؤگے ان لوگوں   کو جو یقین رکھتے ہیں  اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں   ان سے جنہوں   نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی  ۔

            آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عمر بھرقلیل مال پر ہی صبروقناعت اختیارفرمائی  ۔

اَ مینِ اُ مَّت :  

 ( 322 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ نور کے پیکر،  تمام نبیوں   کے سرور،   دوجہاں   کے تاجور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح  ہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

                    کافرباپ کاسرقلم کردیا :  

 ( 323 ) … حضرت سیِّدُنا ابن شَوذَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا والد جنگ ِبد ر کے دوران آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے آتاآپ اس سے الگ ہوجاتے  ۔ جب کئی بار ایسا ہواکہ وہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے آڑے آیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس کا سر قلم کردیا ۔  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس وقت یہ آیت کریمہ نازل فرمائی :  لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ ( پ۲۸،  المجادلہ :  ۲۲  )

ترجمہ کنزالایمان :   تم نہ پاؤگے ان لوگوں   کو جو یقین رکھتے ہیں   اللہ اور پچھلے دن پر کہ دو ستی کریں   ان سے جنہوں   نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یاکنبے والے ہوں   یہ ہیں   جن کے دلوں  میں   اللہ نے ایمان نقش فرمادیا ۔  ( [6] )

میں   اس کی کھال کا کوئی حصہ ہوتا !

 



[1]    البحر الزخارالمعروف بمسند البزار ،   مسندعبد الرحمٰن بن عَوْف ،  الحدیث : ۱۰۰۹ ، ج۳ ، ص۲۲۲۔

                صحیح البخاری ،   کتاب الجنائز ،  باب الکفن من جمیع المالالخ ،  الحدیث   ۱۲۷۴ /  ۱۲۷۵ ،  ص۹۹۔

[2]    المطالب العالیۃ لابن حجر العسقلانی ،  کتاب المناقب ،   الحدیث : ۳۹۷۸ ، ج۸ ،  ص۴۰۶

[3]    جامع الترمذی ،  ابواب صفۃ القیامۃ ،  باب احادیث ابتلیناالخ  ،   الحدیث۲۴۶۴ ،  ص۱۹۰۰۔

[4]    الطبقات الکبری لابن سعد ،  الرقم۳۸عبد الرحمٰن بن عَوْف  ،  ذکر وفاۃ عبد الرحمٰنالخ ،   ج۳ ، ص۱۰۰۔

[5]    جامع الترمذی  ،  ابواب المناقب  ،  باب مناقب معاذ بن جبلالخ