Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نہرسَلْسَبِیْلسے سیرا بی کی دعا :  

 ( 312 ) … حضرت سیِّدُنامِسْوَر بن مَخْرَمَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی کچھ زمین امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو 40 ہزار دینارمیں   فروخت کی اور وہ سارے دیناربنی زُہرہ،   مسلمان فقرااور اُمّہات المؤمنین میں   تقسیم کر دئیے ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عَوْف  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے اس مال میں   سے کچھ مال دے کرام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں   بھیجا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا :  میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوفرماتے ہوئے سناکہ ’’ میرے بعد تم پرصالحین ہی شفقت ومہربانی کریں    گے ۔   ‘‘  اس کے بعداُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے حق میں   یوں   دعافرمائی کہ ’’   اللہعَزَّوَجَلَّعبد الرحمن بن عَوْف  کو جنت کی نہرِسَلْسَبِیْلسے سیراب فرمائے  ۔  ‘‘   ( [1] )       ( اٰمِیْنَ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )

 ( 313 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن ابی اَوْفٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورِ پاک،   صاحبِ لَولاک،   سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا :  ’’  تمہیں   میرے پاس آنے میں   کس وجہ سے تا خیر ہوئی  ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ میں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد مال کا حساب کرنے لگ گیا اور مال چونکہ زیادہ تھاجس کی وجہ سے مجھے تأخیرہوگئی  ۔  ‘‘  پھر عرض کی :   ’’ یہ100 سواریاں   مصر سے آئیں   ہیں   ۔ میں   ان سب کو مدینے کی بیواؤں   پر صدقہ کرتا ہوں   ۔  ‘‘  ( [2] )

بارگاہِ الٰہی میں   قرضِ حسنہ پیش کرو :  

 ( 314 ) … حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے والدِ ماجِد کے بارے میں   بیان کرتے ہیں   کہسیِّدُالْمُرْسَلِیْن،   رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا :   ’’  اے ابن عَوْف  !  بے شک تم مالداروں   میں   سے ہو اور جنت میں   گھسٹتے ہوئے داخل ہو گے لہٰذا اللہعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   قرضِ حسنہ پیش کرو تا کہ وہ تمہارے قدم آزاد فرمادے ۔   ‘‘ عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں   قرض میں   کیا پیش کروں    ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ جس پر تم نے شام کی  ۔  ‘‘  انہوں   نے پھراستفسار کیا :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  وہ سارا مال جو میں   نے جمع کیاہے،  وہ راہِ خدا میں   خرچ کردوں   ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  ہاں   !  ‘‘  پس حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاس ارادے سے وہاں   سے چلے تو حضرت سیِّدُنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام نے حاضر خدمت ہو کر عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  عبدالرحمن  کو فرمائیں   کہ مہمان نوازی بجالائیں   ،  مساکین کو کھانا کھلائیں   اور سائل کومحروم نہ لوٹائیں   ۔ جب وہ یہ اعمال بجالائیں   گے تویہ ان کا کفارہ ہو جائیں   گے  ۔  ‘‘   ( [3] )

عظیم الشان سخاوت :  

 ( 315 ) …  حضرت سیِّدُناامام زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیبیان کرتے ہیں   کہ حضورنبی ٔپاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عہدِ مبارَک میں  حضر تِ سیِّدُناعبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے مال میں   سے 4ہزار دینار راہِ خدامیں   صدقہ کئے پھر 40 ہزار  دینار اور چند دنوں   کے بعدمزید 40 ہزار دینار صدقہ کئے اورپھرایک بارآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے 500سواریاں   مع ساز وسامان راہِ خدامیں   صدقہ کیں    ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو مال کا زیادہ تر حصہ تجارت سے حاصل ہوتا تھا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 316 ) …  حضرت سیِّدُنا جَعْفَر بن بُرْقَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے 30 ہزار  باندیاں   آزاد فرمائیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

کھانادیکھ کرروپڑے :  

 ( 317 ) …  حضرت سیِّدُنا نَوْفَل بن اِیَاس ہُذَلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہمارے کتنے اچھے ہم نشین تھے ۔  ایک دن ہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ ان کے گھر کی طرف گئے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاندر تشریف لے گئے اور غسل کرکے ہمارے پاس تشریف لائے  ۔ ہم ایک پلیٹ لائے جس میں  گو شت اور روٹی تھی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے دیکھ کررو پڑے ہم نے عرض کی:  ’’ اے ابو محمد  !   ( یہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ہے )  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکیوں   روئے  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا سے اس حال میں   تشریف لے گئے کہ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت نے کبھی جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں   کھائی تھی اور ہمارا خیال نہیں   کہ جو کچھ ہمارے لئے چھوڑ دیا گیا ہے وہ ہمارے لئے بہتر ہو  ؟  ‘‘    ( [6] )

 جنتی نعمتیں   دُنیامیں   ملنے کاڈر :  

 ( 318 ) … حضرت سیِّدُنا شُعْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ،  حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پرپوتے حضرت سیِّدُناسَعْد بن ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لئے کھانا لایا گیا ۔  حضرت سیِّدُناشُعْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  ’’ میرا خیال ہے کہ آپ کاروزہ تھا  ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ



[1]    الطبقات الکبرٰی لابن سعد ،  الرقم۳۸ عبد الرحمٰن بن عَوْف ، ج۳ ،  ص۹۸ ،  مفہومًا۔

[2]    البحرالزخارالمعروف بمسند البزار  ،  مسند عبد اﷲ بن ابی اوفیٰ  ،   الحدیث   ۳۳۴۳ ،  ج۸ ،  ص

Total Pages: 273

Go To