Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

چل ہی رہا تھا کہ عقیق کی طرف سے ایسا سیلاب آیاجوپہلے کبھی نہ آیا تھااور اس نے وہ معاملہ ظاہر کردیا جس میں   اختلاف تھا  ۔  اس کے بعد ایک مہینے کے اندر اندر وہ عورت اندھی ہوگئی اور گھر میں   چلتے ہوئے اپنے کنوئیں   میں   گر کرہلاک ہو گئی ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں   کہ ہم بچپن میں   سنا کرتے تھے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہتا :   ’’  اللہ  عَزَّوَجَلَّتجھے اس طرح اندھا کرے جس طر ح اَرْوَی بنت اُوَیس کو اندھا کیا ۔  ‘‘  اور ہمیں   معلوم تھا کہ اسے یہ سزا حضرت سیِّدُنا سعید بن زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بے ادبی کی وجہ سے ملی تھی ۔   ( [1] )

 ( 309 ) … حضرت سیِّدُنا سعید بن زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی پڑوسن  اَرْوٰی بنتِ اُوَیْس نے مَرْوَان بن حَکَم کے ہاں  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پرالزام لگایاکہ انھوں   نے میری زمین پر ناحق قبضہ کررکھا ہے اور میرا حق چھین لیا ہے ۔ اس نے عاصِم بن عمر کو معاملہ کی تصدیق کے لئے بھیجا ۔ جب انہوں   نے حضرت سیِّدُناسعید بن زَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے اس کے متعلق دریافت کیا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حیرت سے پوچھا: کیا میں   نے اَرْوٰی کا حق دبایا ہے  ؟  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  اگر ایسا ہے تو میں   اپنی600 گز زمین اسے دینے کے لئے تیار ہوں   اس لئے کہ میں   نے حضور،   سیِّدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’   جو کسی مسلمان کا حق ظلماً چھینے گاقیامت کے دن اس کی گردن میں   ساتوں   زمینوں   کا طوق ڈالا جائے گا ۔  ‘‘

             ( اس کے بعد آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اَرْوَی کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا ) اَرْوَی !  اٹھو اور جس زمین کوتم اپناحق سمجھتی ہو وہ لے لو ۔  ‘‘ تو وہ اٹھی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زمین کواپنی زمین سے ملا لیا ۔ لہٰذاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ خداوند ی میں   عرض کی :  ’’  یااللہعَزَّوَجَلَّاگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور یہ اپنے ہی کنوئیں   میں   گرکرمرجائے  ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اس دُعاکی قبولیت ظاہر ہوئی کہ وہ اندھی ہوگئی پھر اپنے ہی کنوئیں   میں   گر کر مر گئی ۔  ‘‘   ( [2] )

حضرتِ سَیِّدُنَاعَبْدُالرَّحْمٰن بن عَوْف  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

             حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفراخ دستی ومالداری میں   بھی سادہ زندگی بسر کرتے اور اپنا مال،  مال عطا کرنے والے ربِّ منّان عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں   خرچ کر دیتے ،  مال کی وجہ سے آنے والی آزمائش وسر کشی سے اللہ عَزَّوَجَلَّکی پنا ہ طلب کرتے،   خوشی ہویاغمی ہرحال میں   اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ سے ہی لو لگائے رکھتے ،   دوست اَحباب کی جدائی کا خوف رکھتے اورہرحال میں   سچائی پر قائم رہتے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہقَلْب ونگاہ کے ذریعے عبرت حاصل کرتے رہتے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس مال بہت زیادہ تھا غریبوں   ،   مسکینوں   پر اِحسان فرماتے انہیں   خود اپنے ہاتھوں   سے عَطِیَّات دیتے  ۔  نیز فقیروں   اور ناداروں   پر خرچ کرنے میں   مالداروں   کے لئے ایک نَمُوْنہ کی حیثیت رکھتے ہیں   ۔

 آسمان وزمین والوں   کے اَمین:

 ( 310 ) … حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجلسِ شُوریٰ ( [3] )سے فرمایا :   ’’ میں   تو خلافت کااہل نہیں   ہوں   تو کیاتم اس پرراضی ہوکہ میں   تمہارے لئے حضرت سیِّدُنا عثمان ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کو خلیفہ منتخب کروں    ؟  ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :  سب سے پہلے میں   آپ کے فیصلہ پرراضی ہوں   کیونکہ میں   نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آپ کے متعلق ارشادفرماتے سناہے کہ ’’  تم  آسمان وزمین والوں   کے اَمین ہو ۔  ‘‘   ( [4] )

سیِّدُنا عَبْدُالرَّحْمٰنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی سخاوت

700 اُو نٹ مع سامان صدقہ کردیئے :  

 ( 311 ) …  حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ اُم المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَااپنے گھر میں   تشریف فرما تھیں   کہ اچانک آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے ایک آواز سنی جس سے پورا مدینہ گُونج اٹھا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے استفسار فرمایا: ’’ یہ کیسی آواز ہے  ؟   ‘‘  لوگو ں   نے بتایا کہ ’’ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کا700 اُونٹوں   پرمشتمل قافلہ ملک شام سے آیا ہے ،  یہ آوازاُسی کی ہے ۔  ‘‘  اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا :   میں   نے حضور نبی ٔ اَکرم ،   نُورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے کہ ’’   میں   نے عبدالرحمن بن عَوْف کوگھسٹتیہوئے جنت میں   داخل ہوتے دیکھا ۔   ‘‘  جب یہ بات حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تک پہنچی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں   حاضر ہوئے اور عرض کی :   ’’ میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو گو اہ بناتا ہوں   کہ میں   نے یہ تمام سواریاں   مع سازوسامان راہِ خدا میں   صدقہ کیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

 



[1]    الاِصابۃ في تمیز الصحابۃ  ،  الرقم۳۲۷۱سعید بن زید  ،  ج۳ ، ص۸۸۔

[2]    المعجم الاوسط  ،  الحدیث : ۸۳۸۳ ، ج۶ ، ص۱۶۶۔

[3]    اس سے مراد وہ چھ جلیل القدر صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں   جن کو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے مرضِ وصال میں   اپنے بعدخلیفہ منتخب کرنے کے لئے نامزد فرمایا۔ان کے اسماء گرامی یہ ہیں   :

 ( ۱ ) …امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ           ( ۴ ) … حضرت سیِّدُنا زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

 ( ۲ ) …امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ( ۵ ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

  ( ۳ ) … حضرت سیِّدُنا طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ                                ( ۶ ) … حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ۔  ( علمیہ )

[4]    الطبقات الکبرٰی لابن سعد ،   الرقم ۳۸ ، عبد الرحمٰن بن عوف  ،   ذکر تولیۃ عبد الرحمٰنالخ ،

Total Pages: 273

Go To