Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

درمیان تقسیم کر دئیے ۔ جب کہ آج صورت حال یہ ہے کہ ہم میں   سے ہر شخص کسی نہ کسی شہر کا امیر ہے ۔  ‘‘   ( [1] )

خوشحالی کے فتنے کاخوف زیادہ ہے :  

 ( 296 ) … حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :   ’’  مجھے تم پر تنگدستی کی آزمائش سے خوشحالی کے فتنے کا زیادہ خوف ہے،  کیونکہ تمہیں   مصیبتوں   سے آزمایا گیاتوتم نے صبرکیالیکن دنیا میٹھی وسر سبز ہے  ( یعنی اس پرصبرمشکل ہے  )  ۔  ‘‘   ( [2] )

ورثاء کوپریشانی سے بچاؤ :  

 ( 297 ) … حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکۂ مکرمہ میں   ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور حضرت سیِّدُناسَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو یہ بات ناپسند تھی کہ وہ جس جگہ سے ہجرت کرآئے ان کو اسی جگہ موت آئے  ۔ اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی صرف ایک بیٹی تھی ۔ آپ نے عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  میں   اپناسارا مال راہِ خدا میں   صدقہ کرنے کی وصیت کردوں   ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ نہیں  ،   ایک تہائی صدقہ کردو اور یہ بہت ہے،  ہوسکتا ہے تم دُنیا سے چلے جاؤ اور دوسرے لوگ تو تمہارے مال سے فائدہ اٹھائیں   اور تمہارے ورثاء کو پریشانی کا سامنا ہو ۔  ‘‘   ( [3] )

تقویٰ وغناوالے اللہ عَزَّوَجَلَّ کوپسندہیں :

 ( 298 ) …  حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ پرہیزگار،  بے نیازگوشہ نشین بندے سے محبت کرتا ہے ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 299 ) … حضرت سیِّدُنا عمر بن سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میرے والدِ گرامی نے مجھے فرمایا :  ’’  اے میرے بیٹے  !  کیاتم مجھے فتنہ پرستوں   کاسردار بنانا چاہتے ہو ؟  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  میں   اس وقت تک نہیں   لڑوں   گا جب تک مجھے ایسی ( انصاف کرنے والی )  تلوارنہ لا کر دی جائے جس سے مومن پر وار کروں   تو رک جائے اور کا فر پر وار کروں   تو اس کا کام تمام کردے ۔  بے شک میں   نے حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو ارشادفرماتے سنا :   ’’ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ پرہیزگار،  بے نیازگمنام بندے کوپسندفرماتا ہے ۔  ‘‘   ( [5] )

 ( 300 ) …  حضرت سیِّدُنااَیُّوب سَخْتِیَانِیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص ،   حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود ،   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر اور حضرت سیِّدُناعَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم جمع ہوئے ،   فتنے کی بات چلی توحضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ میں   تو فتنے میں   داخل ہونے کے بجائے گھر بیٹھنے کو ترجیح دوں   گا  ۔   ‘‘   ( [6] )

آنکھوں  اورزبان والی تلوار :  

 ( 301 ) …  حضرت سیِّدُنا اِبن سِیْرِینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْنسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کسی نے دریافت کیا :   ’’ اہلِ شُوریٰ میں   ہونے کے باوجود آپ قتال سے کیوں  گریز کرتے ہیں   حالانکہ آپ دوسروں   سے زیادہ اس کے حق دار ہیں    ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’  میں   اس وقت تک قتال نہیں   کروں   گا جب تک تم دو آنکھوں  ،  دو ہونٹوں   اورایک زبان والی تلوارنہ لا کر دو،   جو مومن وکافر میں   فرق کر سکے کیونکہ میں   نے جہاد کیا ہے اورمیں   جانتا ہوں   کہ جہاد میں   کیا ہوتاہے ۔  ‘‘   ( [7] )

 ( 302 ) … حضرت سیِّدُناطارِق بن شِہابعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسَعْدبن ابی وَقَّاص  اورحضرت سیِّدُنا خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے درمیان کوئی معاملہ ہوگیا تھا  ۔  ایک شخص حضرت سیِّدُناسَعْدبن ابی وَقَّاص  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حضرت سیِّدُناخالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی برائی کرنے لگا تو حضرت سیِّدُنا سَعْد بن ابی وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’  رُک جاؤ !  ہمارامعاملہ ابھی دین تک نہیں   پہنچا ( یعنی ایسا نہیں   جس سے دین میں   نقصان کااندیشہ ہو )  ۔  ‘‘   ( [8] )

حضرتِ سَیِّدُنَاسَعِِیْدبن زَیْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا سَعِیدبن زَید بن عَمروبننُفَیْلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہمیشہ سچ بولتے،   راہِ خدامیں   مال خرچ کرتے ،   خواہشات کوپوراکرنے سے بچتے ،   اللہ عَزَّوَجَلَّکے معاملے میں   کسی کی پرواہ نہ کرتے تھے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مستجاب الدعوات ( یعنی جس کی ہردعاقبول ہو  )  بھی تھے اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے



[1]    صحیح مسلم  ،  کتاب الزہد ،   باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر ،   الحدیث : ۷۴۳۵ ، ص۱۱۹۲ ، مفہومًا۔

[2]     مسند ابی یعلٰی الموصلی ،   مسند سعد بن ابی وقاص ،   الحدیث : ۷۷۶ ، ج۱ ، ص۳۲۸۔

[3]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  مسند ابی اسحاق سعدبن ابی وقاص ،   الحدیث : ۱۴۸۸ ،  ج۱ ،  ص۳۶۶۔

[4]    صحیح مسلم ،   کتاب الزہد ،  باب الدنیا سجن للمؤمن الخ  ،  الحدیث : ۷۴۳۲ ، ص۱۱۹۲۔

[5]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  مسند ابی اسحاق سَعْد بن ابی وقاص  ،   الحدیث