Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

دین پراِستقامت :  

 ( 278 ) … حضرت سیِّدُناابواَسْوَدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا زُبَیربن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے 8 سال کی عمرمیں  اسلام قبول کیااور18 سال کی عمر میں   ہجرت فرمائی،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاچچا انہیں   ایک چٹائی میں   لپیٹ کر آگ سے دھواں   دیتا اورکہتا :   ’’ کفرکی طرف لوٹ آؤ ۔  ‘‘ لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے :  ’’  میں   کبھی نہیں   لوٹوں   گا  ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 279 ) …  حضرت سیِّدُناہِشَام بن عُرْوَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ ’’  حضرت سیِّدُنا زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ16سال کی عمر میں   اسلام لائے اور تمام غزوات میں   شریک ہوئے ۔  ‘‘   ( [2] )   

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاعشقِ رسول :  

 ( 280 ) … حضرت سیِّدُنا ہِشَام بن عُرْوَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ سب سے پہلے جس شخص نے حضورنبی ٔاکرم،  نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حفاظت وحمایت میں   تلوار اُٹھانے کی سعادت پائی وہ حضرت سیِّدُنا زُبَیر بن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہیں  ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے شیطان کی پھیلائی ہوئی خبر سنی کہ حضور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شہید کر دیا گیا ہے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہلوگو ں   کو تلوار سے ہٹاتے ہوئے حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہو گئے،   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :   ’’ اے زُبَیْر !  کیا ہوا ؟  ‘‘  عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے خبر ملی تھی کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شہید کر دیا گیا ہے ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں   کہ ’’  سرکار دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز پڑھ کر حضرت سیِّدُنازُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  اور ان کی تلوار کے لئے دُعا فرمائی ۔  ‘‘   ( [3] )

جسم پرزخموں   کے نشان :  

 ( 281 ) … حضرت سیِّدُنا حَفْص بن خَالِدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ مَوْصَل کے رہنے والے ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں   ایک سفر میں   حضرت سیِّدُنا زُبَیْر بن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ تھا کہ ’’ قَفْر ‘‘  کے مقام پرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو غسل کی حاجت پیش آئی ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پردے کاانتظام کرنے کا فرمایاتو میں   نے حکم کی تعمیل کی،   اچانک میری اُن کے بدن پرنگاہ پڑی تومیں   نے آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسم پر تلوار کے زخموں   کے کئی نشانات دیکھے  ۔ میں   نے عرض کی :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  میں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے جسم پر زخموں   کے نشانات دیکھے ہیں   اورمیں   نے اتنے نشانات کبھی کسی کے بدن پرنہیں   دیکھے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا زُبَیْر بن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے استفسارفرمایا :  ’’ کیاواقعی تم نے زخموں   کے نشانات دیکھ لئے ہیں   ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ جی ہاں   ! میں   نے دیکھ لئے ہیں   ۔  ‘‘  تو حضرت سیِّدُنازُبَیْربن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بتایاکہ ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! یہ تمام زخم رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ راہِ خدا میں   آئے ہیں   ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 282 ) … حضرت سیِّدُناعلی بن زیدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنا زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھنے والے ایک شخص نے مجھے بتا یاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سینے پرنیزوں  اور تیروں   کے زخموں   کے بہت سے نشانات تھے ۔  ‘‘   ( [5] )

سیِّدُنا زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی منقبت :  

 ( 283 ) … حضرتِ سیِّدَتُنا اَ سماء بنت ابی بکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا زُبَیْر بن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی مجلس کے پاس سے گزرے اس وقت حضرت سیِّدُناحَسّان بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہشعر سنا رہے تھے آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھ کرحضرت سیِّدُناحَسّان بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کی تعریف میں   یہ اشعار پڑھے :  

؎فَکَمْ کَرْبَۃٍ ذَبَّ الزُّبَیْرُ  بِسَیْفِہٖ      عَنِ الْمُصْطَفٰی وَاللہ یُعْطِیْ وَیُجْزِلُ

فَمَا مِثْلُہٗ فِیْھِمْ وَلَا کَانَ قَبْلَہٗ           وَلَیْسَ یَکُوْنُ الدَّھْرَ مَادَامَ یَذْبُلُ

ثَنَاءُکَ خَیْرٌ مِّنْ فِعَالِ مَعَـاشِرٍ        وَفِعْلُکَ یَا ابْنَ الْھَاشِمِیَّۃِ  اَفْضَلُ

ترجمہ :   ( ۱ ) … حضرت سیِّدُنا زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضورنبی ٔاَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کتنی ہی تکالیف اپنی تلوار کے ذریعے دُور کیں  ،   اللہ  عَزَّوَجَلَّآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکواس کا بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا ۔  ( ۲ ) … آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے زمانے میں   اور پہلے بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی مثل کوئی نہیں   اور نہ ہی کبھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجیسا کوئی ہوگا ۔   ( ۳ ) … آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی تعریف کئی قبیلوں   کے کارناموں   سے بہتر ہے اور اے ابن ہاشمیہ  !  آپ کے کارنامے سب سے عمدہ ہیں   ۔ ( [6] )

دنیاودولت سے بے رغبتی:

 



[1]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۲۳۹ ، ج۱ ، ص۱۲۲۔

[2]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۲۴۴ ، ج۱ ، ص۱۲۲۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،   کتاب الجہاد ،  باب ماذکرفی فضل الجھاد والحث علیہ ،   الحدیث : ۲۱۶ ،  ج۴ ،  ص۵۹۴