Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 271 ) … اُم المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں   کہ ایک مرتبہ میں   اپنے گھر میں  بیٹھی ہوئی تھی اورنور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے ساتھ صحن میں   تشریف فرماتھے کہ اس دوران حضرتِ طلحہ بن عُبَیْداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاللہعَزَّوَجَلَّ کے محبوب،   دانائے غُیوب،   مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں   حاضر ہوئے،   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’ جوکسی ایسے زندہ شخص کودیکھنا چاہتا ہے جو اپنی منتیں   پوری کر چکا ہوتووہ طلحہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کو دیکھ لے ۔  ‘‘   ( [1] )

حضرت سَیِّدُ نَا طَلْحَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی سخاوت

4لاکھ درہم کاصدقہ:

 ( 272 ) …  حضرت سیِّدُنا قُتَیْبَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ایک دِن حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  پریشانی کے عالَم میں   میرے پاس تشریف لائے میں   نے ان سے دریافت کیا کہ ’’   آپ ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کیوں   پریشان ہیں   ؟ مجھے بتائیں   تاکہ میں   آپ کی مدد کر سکوں    ۔  ‘‘ فرمایا :  ’’  ایسی کوئی بات نہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں   کے کتنے اچھے دوست ہیں   ۔  ‘‘  میں   نے پوچھا :  ’’  معاملہ کیاہے  ؟   ‘‘ فرمایا :   ’’ میرے پاس مال بہت زیادہ ہو گیا ہے اور اس نے مجھے پریشان کر رکھا ہے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا قُتَیْبَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں   نے کہا :   ’’  یہ بھی کوئی پریشانی والی بات ہے ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے  ( راہ خدامیں   )  تقسیم فرما دیں    ۔  ‘‘ چنانچہ،   حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے سارا مال لوگوں   میں   تقسیم فرما دیا یہاں   تک کہ ایک دِرہم بھی نہ چھوڑا  ۔   ‘‘

            حضرت سیِّدُنا طلحہ بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں : ’’  میں   نے جب حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے خزانچی سے مال کی مقدار معلوم کی تو اس نے 4 لاکھ دِرہم بتائی ۔  ‘‘   ( [2] )

بِن مانگے مال بانٹتے:

 ( 273 ) … حضرت سیِّدُناقَبِیْصَہ بن جَابِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ میں   حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی صحبت میں   رہا تومیں   نے ان سے بڑھ کر کسی کونہیں   دیکھا جوبِن مانگے لوگوں  میں   کثیر مال بانٹتاہو ۔ ( [3] )

 ( 274 ) … حضرت سیِّدُناعَمر و بن دِیناررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی یو میہ آمدنی پورے ایک ہزار درہم تھی ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 275 ) … حضرت سیِّدَتُنا سُعْدیٰ بنت عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی یومیہ آمدنی ایک ہزار  درہم تھی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہلوگوں   میں   ’’ فَیَّاض ‘‘  ( یعنی سخی ) کے نام سے مشہورتھے  ۔  ‘‘   ( [5] )

 ( 276 ) …  حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ،   حضرتِ  سُعْدٰی بنت عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں   کہ ’’   حضرت سیِّدُناطَلْحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک دن ایک لاکھ دِرہم راہِ خدا میں   صدقہ کئے اور اس دن انہیں   مسجد میں   جانے سے صرف یہ بات مانع ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے کپڑے پھٹے ہوئے تھے ۔  ‘‘   ( [6] )

ساری رات پریشان رہے:

 ( 277 ) …  حضرت سیِّدُنا حسنرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ’’   حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک زمین 7 لاکھ درہم میں   فروخت کی اور ساری رات اس مال کی وجہ سے پریشان رہے ،   یہاں   تک کہ صبح ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے وہ سارامال لوگوں   میں   تقسیم فرمادیا ۔   ‘‘    ( [7] )

حضرتِ سَیِّدُنَازُبَیْربن عَوَامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہ

              تاجدارِرِسالت،  شہنشاہِ نُبوت،   مَخْزنِ جودوسخاوت،   پیکرِعظمت و شرافت،   مَحبوبِ رَبُّ العزتَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رفیق حضرت سیِّدُنازُبیربن عَوَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہثابت قدم،  بہادر،  مضبوط رائے والے نیز اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   عاجزی کرنے والے اوراسی سے مددکے طلبگار،   اللہعَزَّوَجَلَّکے دشمنوں   سے لڑنے والے اور راہِ  خدامیں   مال خرچ کرنے والے تھے ۔

            اہلِ تصوُّف کے نزدیک ’’  وفاداری،  ثابت قدمی،  راہِ خدامیں   کوشش کرنے اورمال خرچ کرنے کانام تصوُّف ہے ۔

 



[1]    مسندابی یعلی الموصلی ،   مسندعائشۃ  ،  الحدیث : ۴۸۷۷ ، ج۴ ، ص۲۷۲۔

[2]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،   الرقم۴۷طلحۃ بن عبیداللہ ،   ج۳ ،  ص۱۶۵ ،  مفہومًا۔

                المعجم الکبیر ،   الحدیث۱۹۵ ، ج۱ ، ص۱۲ ۱

[3]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۱۹۴ ، ج۱ ، ص۱۱۱۔

[4]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۱۹۶ ، ج۱ ، ص۱۱۲۔

[5]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۱۹۶ / ۱۹۸ ، ص۱۱۲۔



Total Pages: 273

Go To