Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 264 ) … حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے،  فرماتے ہیں : میں   نے امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کویہ فرماتے ہوئے سناکہ ’’   میں   حضور نبی ٔ اَکرم،  نُورِمُجَسَّم،   شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارَک زمانہ میں   بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باند ھاکرتاتھااوراب میرا صدقہ 40 ہزاردینا رہوتا ہے ۔  ‘‘   ( [1] )

محب ِمولاعلی کی پہچان :  

 ( 265 ) … حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ ’’   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے محبت کرنے والے برُدبار،  علم والے ،  خشک ہونٹو ں   والے،   ایسے نیکوکار ہوتے ہیں   جو عبادت کی وجہ سے گوشہ نشین معلوم ہوتے ہیں    ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 266 ) …  حضرتِ سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ ’’   ہم سے محبت کرنے والے   خشک ہونٹوں   والے ہوتے ہیں   او رہم میں   سے امام وہ ہے جو اللہعَزَّوَجَلَّکی طاعت وعبادت کی طرف بلانے والاہو ۔  ‘‘

محبانِ اہل بیت کی علامات :  

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’ اہل ِبیت ِاطہار کے محبین خشک ہونٹو ں   والے ہوتے ہیں  ،  وہ اپنی پیشانیاں   اللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   جھکائے رکھتے اورموت کو یاد رکھتے ہیں  ،   دنیا دار ظالموں   اور مالداروں   سے کنارہ کشی اختیارکرتے ہیں   ۔  یہ وہ لوگ ہیں   کہ جنہوں   نے دنیوی راحتوں  اور آسائشوں  ،  لذتوں   اورشہوتوں  ،  انواع واقسام کے کھانوں  اورلذیذشربتوں  کو ترک کر دیااوررسولوں  ،  ولیوں  اور صدیقوں    کی راہ پر گامزن ہوئے ،   فناوزوال پذیر ہونے والی دنیا کے تارِک،  ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت میں   راغب رہے بالآخرانعام واکرام،   فضل و احسان فرمانے والے ربِّ حنّان ومنّان،  رحیم ورحمنعَزَّوَجَلَّ کے حضور جا پہنچے ۔  ‘‘

حضرتِِ سَیِّدُ نَاطَلْحَہ بن عُبَیْدُاللّٰہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

           حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ بن عُبَیْداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا شمار مشہور ومعرو ف صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنمیں   ہوتا ہے،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاچھی عادات و عمدہ صفات کے حامل تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہراہِ خدا میں   اپنا مال خرچ کرتے حتی کہ جان بھی قربان کردی ۔ اپنی منتیں   پوری فرماتے،  اپنے پروَرْدْگار عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے اس کی راہ میں   خرچ کرتے،   تنگدستی میں   محض اپنے  ( اور اپنے گھر والوں   کے )  لئے مال خرچ کرتے اور خوشحالی میں   اپنے مال سے دیگرلوگوں   کی بھی خیرخواہی کرتے  ۔

            علمائے تصوُّف رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰی فرماتے ہیں : ’’  بری صفات سے خود کوصاف ستھرا رکھنے اور دنیاوآخرت میں   مال وگناہ کے بوجھ سے اپنے آپ کوہلکا رکھنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

 راہِ خدامیں   70 زخم کھائے:

 ( 269 ) …  اُمُّ المؤمنین،   حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ ’’   امیر المؤمنین  حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجب جنگِ اُحُد کے دن کو یاد کرتے تو فرماتے :  ’’  وہ سارا دِن تو طلحہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کادن تھا ۔  ‘‘  مزید فرماتے ہیں :  ’’ اس دن سب سے پہلے مَیں   حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہوا تھا،  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اورابو عبیدہ بن جَرَّاح  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا )  کو ارشاد فرمایا :  ’’  اپنے رفیق  ( یعنی حضرت طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کی خبرلو کیونکہ وہ زخمی ہیں    ۔  ‘‘  چنانچہ،   ہم پہلے تو حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کاشرف حاصل کرتے رہے  پھرحضرت طلحہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کے پاس آئے،   دیکھا تو ان کے جسم پر تیروں   ،   تلواروں   اور نیزوں   کے کم وبیش 70زخم تھے اور ایک اُنگلی بھی کٹ گئی تھی ۔  پس ہم نے ان کی خبر گیری کی ۔  ‘‘   ( [3] )

اللہعَزَّوَجَلَّکاعہدپوراکرنے والے :  

 ( 270 ) …  حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ بن عُبَیْداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب نُور کے پیکر،  دو جہاں   کے تاجْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ اُحُد سے واپس تشریف لائے تو منبر پر جلوہ فرما ہوکر اللہعَزَّوَجَلَّکی حمد وثنا بیان کی پھر یہ آیت مبارَکہ تلاوت فرمائی: رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ  ( پ۲۱،  الاحزاب :  ۲۳  )

 ترجمۂ کنزالایمان: مسلمانوں   میں   سے کچھ وہ مرد ہیں   جنہوں   نے سچا کر دیا جو عہداللہ سے کیا تھا تو ان میں   کوئی اپنی منّت پوری کرچکا ۔

            ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کی :  ’’  یا رَسُول َاللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  اس سے کون لوگ مراد ہیں   ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُنا طَلْحَہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  اتنے میں  ،   مَیں   بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوا اور اس وقت میرے بدن پردو سبز چادریں   تھیں   ،  حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُـوْرمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے میری طرف اشارہ کرکے اس سوال کرنے والے سے ارشادفرمایا :   ’’ یہ بھی اُن میں   سے ہے ۔  ‘‘   ( [4] )

زندگی میں   منّتیں   پوری کرلیں :

 



[1]    الزہدللامام احمد بن حنبل ،  زہدامیرالمؤمنین علی بن ابی طالب ،  الحدیث۷۱۱ ،  ص۱۵۹ ،  بتغیرٍ۔

[2]    فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل  ،  باب ومن فضائل امیرالمؤمنین علی ،   الحدیث : ۱۱۴۴ ، ج۲ ، ص۶۷۱۔

[3]    مسند ابی داود الطیالسی ،   احادیث ابی بکر الصدیق  ،  الحدیث : ۶ ، ص۳۔

[4]    المعجم الکبیر  ،  الحدیث : ۲۱۷ ، ج۱ ، ص۱۱۷۔



Total Pages: 273

Go To