Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

 

امیرِمعاویہ اورشانِ علیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا

 ( 261 ) … حضرت سیِّدُنا ابوصالح رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ضَرار بن ضَمْرہ کَنانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا امیر معا ویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے توحضرت سیِّدُناامیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا :  ’’  میرے سامنے امیر المؤمنین حضرتِ علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی شان بیان کرو !  ‘‘  اُنھوں   نے  ( معذرت کرتے ہوئے ) کہا :  ’’ یاامیرا لمؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  ( میں   ان کی شان کیسے بیان کرسکتاہوں   )  کیا آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمجھے اس سے معاف نہیں   رکھتے  ؟   ‘‘ آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ میں   تمہیں   اس وقت تک معاف نہیں   کروں   گا جب تک حضرتِ علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اوصاف بیان نہیں   کرو گے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا ضراربن ضمرہ کنانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا :  ’’ چلیں   اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مجھ پر لازم قرار دیتے ہیں   تو پھرسنئے :  

             اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم  ! امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم خواہشات سے دوررہنے والے اور بہت طاقت والے تھے،  فیصلہ کن گفتگوفرماتے ،  لوگوں   کے فیصلوں   میں   ہمیشہ عدل وانصاف سے کام لیتے ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے علم و حکمت کے چشمے جاری ہوتے ،   دنیا اور اس کی آسائشوں   سے وحشت محسوس کرتے اور رات اور اس کے اندھیرے سے اُنسیت حاصل کرتے  ۔

            اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم  ! امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہمیشہ فکرِآخرت میں   متفکر رہتے ،    اپنا محاسبہ کرتے ،   پہننے اورکھانے کے لئے جواورجیسامیسرآتااسی پرراضی رہتے اوراتنے ہی پرقناعت فرماتے  ۔

            اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  جب ان کی خدمت میں   کوئی جاتا تو اس پر شفقت فرماتے اپنے پاس بٹھاتے ،  ہر سوال کا جواب عنایت فرماتے،  اتنی شفقت ومحبت،   اُلفت وقربت کے باوجود بھی ہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے رُعب وجلال کی وجہ سے بات نہ کرپاتے ،  جب مسکراتے تو دانت پروئے ہوئے چمکتے موتیوں   کی طر ح نظرآتے،  ا ہلِ دین کو عزت وتکریم سے نوازتے،   مساکین آتے تو وہ بھی محبت کی چاشنی پاتے،   کوئی طا قتور ان سے باطل کی امید لگاتا تومایوسی کو گلے لگاتا اورعدل وانصاف ایساکہ کمزورلوگ اپنی کمزوری سے نہ گھبراتے ۔

             اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   اس بات کی گواہی دیتا ہو ں   کہ میں   نے بعض دفعہ اِنہیں   دیکھا جب رات کی تاریکی میں    ستارے چھپ جاتے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ محراب میں   تشریف لے جاتے اوراپنی ریش  ( داڑھی ) مبارَک پکڑ کر مضطرب و غمزدہ شخص کی طر ح آنسو بہاتے گویا کہ میں   اب بھی ان کی آواز سن رہاہوں  کہ آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کہہ رہے ہیں   اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ  !  اے میرے ربعَزَّوَجَلَّ  ! اللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   گڑگڑاتے پھر دنیاکوللکارتے اور فرماتے: تو نے مجھے دھوکہ دیناچاہا میری طرف بن سنورکر آئی ،  مجھ سے دُو ر ہوجا ،   دُو ر ہوجا،  کسی اور کو دھوکہ دینا میں   تجھے تین طلاقیں   دے چکاہوں   ،  تیری عمرقلیل،  تیری مجلس حقیر اور تیرا خطرہ آسان ہے،  ہائے افسوس  !  ہائے افسوس  !  زادِ راہ قلیل ،   سفر طویل اورر استہ پُر خطر ہے ۔  ‘‘

             حضرت سیِّدُناضراربن ضمرہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اوصاف بیان کرتے رہے اورحضرت سیِّدُناامیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی حالت یہ تھی کی آنسوؤں   سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی داڑھی مبارَک تر ہوگئی،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ انہیں   اپنی آستین سے پونچھتے رہے،   حاضرین بھی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور رونے لگے ،  پھرحضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :    ! بے شک ابوحسن علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایسے ہی تھے  ۔ اے ضرار !  ان پر تمہارا غم کیسا ہے ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’  اس عورت کی طرح جس کی گود میں   اس کے بیٹے کوذبح کر دیاگیا ہو نہ تو اس کے آنسو تھمتے ہیں  ،   نہ ہی غم میں   کمی آتی ہے ۔   ‘‘ ( [1] )

تین مشکل عمل :  

 ( 262 ) … امامِ عالی مقام حضرت سیِّدُنا امام حسین ابن حیدر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین  مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا :   ’’  تین عمل مشکل ہیں :   ( ۱ ) اپنی جان کا حق ادا کرنا  ( ۲ ) ہر حال میں  اللہعَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے رہنا اور ( ۳ ) اپنے حاجت مند مسلمان بھائیوں   سے مالی تعاون کرنا ۔  ‘‘   ( [2] )

اسلام میں   نفاق کی گنجائش نہیں :

 ( 263 ) … حضرت سیِّدُناعبدالواحِددِمَشْقِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  سے مروی ہے کہ جنگِ صفین کے دن  حَوْشَب خِیْرِینے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ندا دی :  ’’  اے ابن ابی طالب  !  ہم آپ کو اللہعَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتے ہیں   کہ جنگ بند کردیں  ،  ہم آپ کے لئے عراق کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں   آپ ہمارے لئے شام کا راستہ چھوڑ دیں  ،   اس طرح خون ریزی کا سلسلہ بند ہوگااور مسلمانوں   کی جانیں   بچ جائیں   گی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اے اُم ظلیم کے بیٹے !  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اگر دین میں   مُدَاہَنَت  ( مُ ۔ دَا ۔ ہَ ۔ نَت :   یعنی نفاق )  کی گنجائش ہوتی تو میں   ایسا ہی کرتااور میرے لئے بھی آسان تھا لیکن یہ بات اللہعَزَّوَجَلَّ کو پسند نہیں   ہے کہ اس کی نافرمانی ہوتی رہے اور اہل اسلام مُدَاہَنَت سے کام لیتے ہوئے خاموش رہیں    ۔  ‘‘   ( [3] )

پیٹ پرپتھرباندھتے :  

 



[1]    الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ،   حرف العین ،  الرقم۱۸۷۵علی بن ابی طالب ،  ج۳ ،  ص۲۰۹ ،  مختصر۔

[2]    فردوس الاخبار للدیلمی  ،  باب السین ،   الحدیث : ۳۲۹۳ ، ج۱ ،  ص۴۴۲ ، ’’اشد الاعمال بدلہ ’ ’سید الاعمال‘‘۔

[3]    الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب ،  حرف الحاء ،   الرقم ۵۹۹حوشب بن طخیۃ الحمیری  ،  ج۱ ، ص۴۵۷۔



Total Pages: 273

Go To