Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 252 ) … حضرت سیِّدُنا ہارو ن بنعَنْتَرَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ میں  خَوَرْنَق کے مقام پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بارگاہ میں   حاضر ہوااس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک معمولی چادراوڑھے ہوئے تھے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر کپکپی طاری تھی ۔  میں   نے عرض کی :   ’’  یا امیر المؤمنین  ! بے شک اللہعَزَّوَجَلَّ نے آپ اور آپ کے گھروالوں   کے لیے اس مال سے حصہ مقرر فرمایاہے  ۔  اس کے با وجود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ حالت بنارکھی ہے ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  میں   نے تمہارے مال سے کوئی چیز استعمال نہیں   کی یہ چادربھی میں   اپنے گھر سے یا فرمایامدینہ منورہ زَادَہَااللہ تَعْظِیْمًاوَّتَکْرِیْمًاسے لایا تھا ۔  ‘‘

حضرت علی المرتضٰیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کالباس

 ( 253 ) …  حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ بصرہ کا وفد امیرالمؤمنینمولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بارگاہ میں   حاضر ہو ا ۔ اس وفد میں   جَعْدبن نَعْجَہ نامی ایک خارجی شخص بھی موجود تھا اس نے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو لباس کے بارے  میں   ملامت کی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  میر ا لباس متکبرانہ نہیں   او ر مسلمانوں   کو اس معاملے میں   میری پیروی کرنی چاہئے ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 254 ) …  حضرت سیِّدُنا عَمْر و بن قیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کسی نے عرض کی :   ’’ یا امیر المؤمنین  !  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لباس میں   پیوند نہیں   لگا تے ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ اصل تو یہ ہے کہ بندے کے دل میں   اللہعَزَّوَجَلَّکاخوف ہو اور مومن بندہ اسی کی پیروی کرتا ہے   ۔  ‘‘  ( [2] )

 ( 255 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو سعید اَزْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بازار میں   تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ ’’  کسی کے پاس اچھی قمیص ہے جو تین درہموں   میں   فروخت کر تاہو  ؟  ‘‘  ایک شخص نے عرض کی :   ’’  میرے پاس ہے،   پھر جاکر ایک قمیص لایا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بہت پسند آئی فرمایا :   ’’ یہ تو تین درہم سے زیادہ کی ہے ۔  ‘‘  اُس نے کہا:  ’’ نہیں  ،   بلکہ اس کی قیمت یہی ہے  ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے تھیلی سے تین درہم نکال کر اسے دیئے پھر قمیص زیبِ تن فرمائی تو اس کی آستینیں   لمبی تھیں   تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے زائد حصہ اُتر وا دیا ۔   ‘‘   ( [3] )

 ( 256 ) … حضرت سیِّدُنا علی بن اَرْقَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم کے والدِ محترم فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین  حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو باز ار میں   تلوار بیچتے دیکھا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  فرما رہے تھے:  ’’ یہ تلوار مجھ سے کون خرید ے گا ؟  ‘‘  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اس تلوار نے کئی بارحضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ اقدس سے تکلیف کو دور کیا ہے ۔ اگر میرے پاس تہبند کے لئے رقم ہوتی تومیں   اسے کبھی بھی فر وخت نہ کرتا ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 258 ) …  حضرت سیِّدُنا یزید بن مِحْجَنرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ میں  رَحْبَہ کے مقام پر امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ تھا کہ آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے تلوار منگوائی او راسے فروخت کرنے کا اعلان کیا او ر فرمایا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  اگر میرے پاس تہبند کے لئے رقم ہوتی تو میں   اسے کبھی بھی نہ بیچتا ۔  ‘‘   ( [5] )

  ( 259 ) … حضرت سیِّدُنا ابو رَجَاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین مولا مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تلوار لے کرنکلے او رفرمایا :  ’’  اس تلوار کو کون خریدے گا  ؟   ‘‘  اگر میرے پاس تہبند کی قیمت ہوتی تو میں   اسے کبھی فرو خت نہ کرتا ۔  ‘‘ ابو رَجَاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں :  ’’ میں   نے عرض کی :   ’’ یا امیر المومنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  میں   اسے خرید تا ہوں   اوروظیفہ ملنے تک اُدھار کروں   گا  ۔  ‘‘   ( [6] )

            ابو اُسامہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں   یہ الفاظ زائد ہیں : ابو رَجَاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں   کہ ’’   جب عطیات ملے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے وہ تلوار مجھے دے دی ۔  ‘‘

 ( 260 ) …  حضرت ِسیِّدُناعَنْبَسَہ نَحْوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ میں   حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   حاضر تھاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس قبیلہبَنِی نَاجِیَہکا ایک آدمی آیا ،   اس نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا :   اے ابو سعید  !  ہمیں   یہ بات پہنچی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں   کہ ’’   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جو کچھ کیا اس سے بہتر تھا کہ وہ مدینہ کی سوکھی کھجوریں   کھا لیتے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اے بھتیجے  !  کیا میں   باطل بات کے ذریعے کسی کی جان بچاؤں   گا ۔  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  !  لوگوں   سے ایک پاکیزہ تیر گم ہو گیا اور اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  ! انہوں   نے کبھی اللہعَزَّوَجَلَّ کامال چوری نہیں   کیا اور نہ ہی اس کے حکم سے رُوگردانی کی،  انہوں   نے قرآنِ پا ک کے تمام حقوق پورے کئے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانا یہاں   تک کہ اس بات نے انہیں   میٹھے حوضوں   اور عمدہ باغوں   میں   پہنچا دیا ۔  اے بیوقوف شخص !  یہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی شان ہے ۔  ‘‘

 



[1]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،   زہدامیرالمؤمنین علی بن ابی طالب ،   الحدیث : ۷۰۶ ، ص۱۵۸۔

[2]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،   زہدامیرالمؤمنین علی بن ابی طالب ،   الحدیث : ۶۹۹ ، ص۱۵۷۔

[3]    فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل  ،  اخبارامیر المؤمنین علی بن ابی طالب ،  الحدیث : ۹۱۲ ، ج۱ ، ص۵۴۵۔

[4]    المعجم الاوسط  ،  الحدیث : ۷۱۹۸ ، ج۵ ، ص۲۴۰ ،  بتغیرٍ۔